اہم ادویات کی عدم دستیابی

160

کراچی میں ذیابیطس نفسیاتی امراض اور مرگی کی ادویات مارکیٹ سے غائب ہیں یا مشکل سے مل رہی ہیں۔ ان ادویات کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ بڑے بازاروں اور ہول سیلرز کے پاس بھی ان کا اسٹاک نہیں مل رہا۔ بتایا جارہا ہے کہ موقع اور مفاد پرست عناصر نے ان دوائوں کی بلیک مارکیٹنگ شروع کردی ہے موسم سرد ہوتے ہی کھانسی۔ نزلہ زکام اور گلے کی خراش کی دوائیں بھی مہنگی ہوگئی ہیں۔ اس سے قبل کورونا کے مقابلے میں کامیاب ترین جنگ لڑنے والی پیناڈول باقاعدہ غائب کی گئی اور اب بھی وہ مارکیٹ سے غائب ہے۔ دس روپے والی پیناڈول اب 80 روپے میں ملتی ہے۔ چند دکانوں اور بڑے اسٹورز پر 20 روپے کا ایک پتا ملتا ہے لیکن وہ بھی محدود ہیں۔ گزشتہ دنوں مختلف گوداموں پر چھاپے پڑے اور کروڑوں گولیاں برآمد ہوئیں۔ لیکن صورتحال بہتر نہیں ہوئی اب ذیابیطس نفسیاتی امراض اور مرگی کی دوائیں غائب کرکے بلیک مارکیٹنگ شروع کردی۔ اگر اس موقع پر یہ سوال نہ کیا جائے تو کیا کیا جائے کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت صحت حکومت پاکستان اور درجنوں ادارے کہاں چلے گئے۔ یہ ادارے کیوں اپنی ذمے داری ادا نہیں کرتے۔ کیا عوام کو صحت کی سہولتیں فراہم کرنے کا کام صرف پرائیویٹ اسپتالوں کے حوالے کردیا گیا ہے۔ ملک کے عوام کو صحت کی بنیادی سہولتیں فرام کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے اس کے ساتھ ساتھ اگر نجی شعبہ یہ کام کرتا ہے تو اسے بھی عوام کی پہنچ میں رکھنا حکومت ہی کی ذمے داری ہے۔ لیکن یہاں تو خیراتی اسپتال کے نام پر اسپتال بناکر اربں روپے کمائے جاتے ہیں لیکن سرکار اور کسی ادارے کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔