اقتصادی بحران  سود اور کرپشن کی وجہ سے ہے، لیاقت بلوچ

126

لاہور: نائب امیر جماعتِ اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ پاکستان کا نظام قائدین کی خواہشات اور بلند بانگ دعووں اور بیانیوں سے نہیں قرآن و سنت کے نظام اور آئین و قانون کی بالادستی سے ہی بہتر ومستحکم ہوسکتا ہے۔ قراردادِ مقاصد، آئین کی رہنمائی اور اکابر علما کے 22 نکات پر عملدرآمد کردیا جائے تو قومی سلامتی، قومی وحدت و یکجہتی کا مستحکم ماحول پیدا ہوگا۔

لیاقت بلوچ نے کہا کہ اقتصادی بحران، سود، قرضوں اور کرپشن کی وجہ سے ہے، خودانحصاری اور اپنی قوم اور قدرتی وسائل پر اعتماد سے گریز نے آزدی کو خطرات میں ڈال دیا ہے، حکومت وفاقی شرعی عدالت کے فیصلہ کے خلاف تمام اپیلیں واپس کرائے اور اسلامی معاشی نظام کے لیے واجح اور بااعتماد لائحہ عمل دے۔

رہنما جماعت اسلامی پاکستان کا کہنا تھا کہ اغیار، استعماری مالیاتی اداروں کی غلامی سے اللہ اور رسولۖ کی بغاوت کا راستہ چنا جو سراسر تباہی کا راستہ ہے۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ لانگ مارچ، ٹرین مارچ، دھرنا، احتجاج سیاسی تاریخ کا حصہ ہیں اور اپوزیشن ہمیشہ نااہل حکمرانوں اور جابر قوتوں کے خلاف احتجاج کرتی ہیں لیکن ماضی کی تاریخ سے قومی قیادت سبق سیکھے۔

انہوں نے کہاکہ  سیاسی مسائل سیاسی قیادت مذاکرات سے بروقت حل کرلے وگرنہ سیاسی بے یقینی، افراتفری اور خلا سے ہمیشہ آئین ماورا اور جمہوریت کی پامالی کے راستے ہموار ہوتے ہیں۔ سیاسی افراتفری نے آرمی چیف تقرری کو بھی ہیجان سے دوچار کردیا ہے۔

لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ صرف اور صرف اپنے سیاسی مفادات کے لیے فوج، پولیس، سول بیوروکریسی کو تباہ کیا جارہا ہے۔ سول-ملٹری اسٹیبلشمنٹ صرف نیوٹرل ہی نہیں اپنے آپ کو سیاسی، انتخابی، پارلیمانی امور سے بیدخل کرلیں اور سیاسی قومی قیادت سیاسی جمہوری اہلیت کا ثبوت دے۔