ہم نہ دیں گے انٹرویو غیر ملکی پریوں کو اب

431

عمران خان وہ شخص ہیں جنہوں نے بھری سردی میں ریحام خان کو طلاق دے دی تھی۔ عالمی میڈیا کی اینکر خواتین کے باب میں ان کی پریشان حالی کا سبب کچھ اور ہے۔ وہ ظالم کتاب حسن سے زیادہ تنقیدی سوالات اور طنزیہ فقروں پر مشتمل ہوتی ہیں۔ حرام ہے خان صاحب کی تعریف میں ایک جملہ بھی منہ سے پھوٹ سکیں۔ ہمہ وقت خان صاحب کے جوابوں کے مڑے ہوئے کان (dog eared) کھینچنے میں لگی رہتی ہیں۔ انٹرویو ہوتا ہے یا الاسٹک کا دورانیہ۔ بار بار ایک ہی سوال۔ یہ سمجھنے سے قاصر کہ اگرجواب ہوتا تو خان صاحب نے پہلی مرتبہ ہی میں سوال کنندہ اور سوال کو پانی پانی نہ کردیا ہوتا۔ لاکھ گھمائو، وہ زہرہ جبین ہیں کہ مانتی ہی نہیں۔ خوش اخلاقی سے مسکرا مسکرا کر عالم اسلام کے سب سے نڈر لیڈرکا بھرم تیل کرتی رہتی ہیں۔ مجال ہے ذرا بھی ادب آداب سے واقف ہوں۔ انٹرویو دینے کی ہوس اور حوصلہ ہی پست ہو جاتا ہے۔ اپنے کامران خان ہی ٹھیک ہیں۔ میٹھے میٹھے سوال، میٹھے میٹھے جواب، محبت کی طرح۔
محبت تو چوری کا گڑ ہے ظفر
یہ میٹھا زیادہ تو ہونا ہی تھا
گزشتہ دنوں خان صاحب نے سی این این، ڈی ڈبلیو اور ٹی آر ٹی کی خواتین اینکر کو جو انٹرویو دیے ان میں وہ سوالات سے اس طرح بچ بچا کر نکلنے کی کوشش کررہے تھے جیسے ہماری عدلیہ انصاف سے۔ سوال گندم جواب چنا کا مفہوم پہلی بار باتصویر دیکھا جس میں چنے بھی اتنے خوار اور گرے ہوئے تھے کہ گدھے اور گھوڑے بھی نہ کھائیں۔ نہ جانے یہ چینل ہمارے ملک کی طرح اینکر کیوں بھرتی نہیں کرتے۔ جو سوال کرتے ہیں کہ پاکستان کا سب سے پہلا مسئلہ بڑھتی ہوئی آبادی ہے۔ خان صاحب آپ کے خیال میں دوسرا مسئلہ کیا ہے؟ جواب آتا ہے ’’مردانہ کمزوری‘‘ عمران خان ایسے ہی انٹرویوز دینے کے عادی ہیں۔ عالم تصور میں ہم نے بھی خان صاحب کا ایک انٹرویو دیکھا ہے۔ ملاحظہ فرمائیے:
اینکر خاتون: آپ کے پاس اپنے اوپر کیے گئے قاتلانہ حملے میں وزیراعظم شہبار شریف، وزیرداخلہ رانا ثنااللہ اور اسٹیبلشمنٹ کو مورد الزام ٹھیرانے کے کیا ثبوت ہیں؟
عمران خان: ہماری پارٹی کی شہرت مثالی ہے۔ ہماری پارٹی اور دوسری پارٹیوں میں کیا فرق ہے اسے آپ ایک لطیفے سے سمجھنے کی کوشش کریں۔ ایک سکھ کی شادی میں بہت سے سردار شریک تھے۔ ایک سردار نے کھانا کھانے سے پہلے پلیٹ میں ایک ٹشو پیپر رکھ لیا۔ یہ دیکھتے ہی سارے سردار بولے: ’’اوئے! ایہنوں کھانے دی کوشش نہ کریں۔ بالکل پھیکا ہے‘‘۔
اینکر خاتون: میرا سوال یہ تھا کہ آپ کے پاس ان لوگوں کے خلاف کیا ثبوت ہیں۔ آپ وہ ثبوت دکھانا پسند کریں گے؟
عمران خان: تحریک انصاف کی شہرت ان سے برداشت نہیں ہورہی۔ انہوں نے مجھے نااہل کیا، مجھ پر دہشت گردی کا الزام لگایا، میری حکومت کا خاتمہ کیا، ایک سلیکٹڈ گورنمنٹ یوتھیوں پر مسلط کردی۔ میں نے بگ بی سے اس کی شکایت کی تو بولے ’’ایک سردار جی نے ریس دیکھ کر ایک تماشائی سے پوچھا: انعام کس کو ملے گا؟ جواب ملا: سب سے آگے والے کو۔ سردار جی نے تعجب سے پوچھا: تو پھر پیچھے والے کیوں دوڑ رہے ہیں‘‘۔
اینکر خاتون: آپ جب اقتدار میں تھے تو اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ سب ٹھیک چل رہا تھا اور اگر آپ کو ان سے مسئلہ تھا تو حکومت کے دوران آپ نے اسے ٹھیک کیوں نہیں کیا؟
عمران خان: ایلیسا! میری بات سنو! تم نے الزامات کی بات کی ہے۔ مجھے معلوم تھا کیا ہورہا ہے؟ میں نے پہلے ہی بتادیا تھا۔ پہلے آپ پس منظر سمجھنے کی کوشش کریں۔ معاملہ اس وقت سے شروع ہوتا ہے جب میں نے نئی نئی حکومت سنبھالی تھی۔ ایک رات میں نے باجوہ کو فون کیا اور پوچھا ’’پاکستان کے پرچم میں سبز رنگ کس بات کی علامت ہے‘‘ جواب آیا ’’ہرا رنگ مسلمانوں کا ہے‘‘ میں نے پوچھا ’’اور سفید‘‘ بولے ’’امن کی پہچان ہے‘‘ میں نے سوال کیا ’’اسٹیبلشمنٹ کا اس میں کیا ہے۔ جانتی ہو کیا جواب آیا: ’’ڈنڈا‘‘
خاتون اینکر: میں نے آپ سے سوال کیا تھا کہ آپ نے تین افراد پر جو الزامات لگائے تھے آپ کے پاس ان کا کیا ثبوت ہے؟
عمران خان: فائرنگ کا واقعہ اس لیے پیش آیا کہ لوگ نہیں جانتے تھے کہ اس دن کیا ہوا۔ کوئی مجھے منظر سے ہٹانا چاہتا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ بعد میں کچھ بھی بول کر لوگوں کو مطمئن کردیں گے۔ اس کو اس طرح سمجھیں کہ دو سکھ دوستوں کو کھیت میں دو بم ملے۔ ایک سردار نے کہا ’’یہ پولیس کو دے آتے ہیں‘‘ دوسرا بولا ’’اگر ایک راستے میں پھٹ گیا تو؟‘‘ پہلے نے جواب دیا ’’جھوٹ بول دیں گے ہمیں ایک ہی بم ملا تھا‘‘۔
خاتون اینکر: میں آپ کو بتائوں بیرون ملک آپ کے مارچ کو کس نظر سے دیکھا جارہا ہے۔ اس مارچ کو مظاہرے کے طور پر نہیں بلکہ اقتدار کی ہوس کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ آپ کی سیاست کو ملک وقوم کو تقسیم کرنے والے سیاست دانوں کی طرح دیکھا جارہا ہے جیسا کہ امریکا کے سابق صدر ٹرمپ، برازیل کے بولسونارو۔
عمران خان: پرامن احتجاج میرے لوگوں کا حق ہے۔ آئین پاکستان کے تحت جب آپ محسوس کریں کہ کچھ غلط ہورہا ہے تو یہ آپ کا حق ہے کہ آپ احتجاج کریں۔ پورے یورپ میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ میری حکومت کسی قانونی اور آئینی طریقے سے نہیں ہٹائی گئی۔ میرے لوگوں کو خریدنے پر کروڑوں روپے کالے دھن سے خرچ کیے گئے۔ پھر بھی ان میں سے کوئی نہیں بکا۔ اس کے باوجود تحریک عدم اعتماد کا میاب ہوگئی۔
خاتون اینکر: کسی نے بھی پاکستان کی سیاست میں فوج کے کردار کو اس طرح چیلنج نہیں کیا جس طرح آپ نے کیا ہے۔ آپ کیا چاہتے ہیں کہ پاکستان کی فوج مداخلت کرکے آپ کے ساتھ کھڑی ہوجائے یا وہ نیوٹرل رہے؟
عمران خان: مجھے ایک بات کہنے دیں ٹیسٹ کرکٹ کی دوسو سالہ تاریخ میں، میں وہ واحد شخص ہوں جو نیوٹرل امپائر لے کر آیا۔ ہم شفاف نتیجہ چاہتے تھے۔ آپ کو پتا ہے آپ کیا پوچھ رہی ہیں۔ میرے لیے سب سے اہم چیز جوہے وہ یہ ہے کہ ہم اس دلدل سے کیسے نکلیں؟
خاتون اینکر: آپ اکثر کہا کرتے تھے میں مغرب کو سب سے زیادہ جانتا ہوں۔ مسٹر خان میرا خیال ہے کہ آپ سکھوں کے لطیفوں کو سب سے زیادہ جانتے ہیں۔ میرے سوال کچھ تھے اور آپ کے جواب کچھ۔ چلتے چلتے آخر میں اپنے سوالوں اور آپ کے جوابوں پر میں بھی آپ کو ایک لطیفہ سنادیتی ہوں۔ سنیے۔ ایک سکھ ڈاکٹر کو فون کرکے کہتا ہے ’’میری بیوی پیٹ سے ہے اور ابھی سے درد ہورہا ہے‘‘ ڈاکٹر پوچھتا ہے ’’کیا یہ اس کا پہلا بچہ ہے‘‘ جواب آتا ہے ’’نہیں! میں اس کا شوہر ہوں‘‘۔