گالم گلوچ کی سیاست

225

سیاست تجارت بن جائے تو داخلہ اور خارجہ پالیسی اپنی معنویت کھو دیتی ہے حکمران طبقہ اپنی سرمایہ کاری کا زیادہ سے زیادہ منافع سمیٹنے کے سوا کچھ اور سوچتا ہی نہیں، اس پس منظر میں کہا جاتا ہے کہ راجا بیوپاری ہو تو پرجا بھکاری بن جاتی ہے، ایک نیام میں دو تلواریں نہیں آتیں اسی طرح ایک تخت پر دو بادشاہ نہیں بیٹھتے اور اگر 13حکمران بیٹھ جائیں تو ملک تیرا تین ہو جاتا ہے اور قوم کا بھٹا بیٹھ جاتا ہے، ہر معاملہ تین پانچ کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے سیلاب اور زلزلے کہاں نہیں آتے مگر احتیاتی تدابیر اختیار کر کے ناقابل برداشت تباہی سے بچا جاسکتا ہے، وطن عزیز میں تین ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا ہے مگر سیلاب کی تباہ کاری پر قابو نہیں پایا جاسکا کیونکہ حکمران طبقہ اقتدار کی جنگ میں مصروف ہے اور یہ مصروفیت اقتدار حاصل کرنے اور اقتدار بچانے کی حد تک محدود ہے سابق حکمران اقتدار میں واپس آنا چاہتے ہیں اور موجودہ حکمران ہر قیمت پر ایوان اقتدار میں رہنا چاہتے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی محترم سراج الحق کے تجزے کے مطابق مہنگائی، بے روزگاری اور غربت کی بنیادی وجہ حکمرانوں کی نااہلی اور سودی نظام ہے، پیش رو اور موجودہ حکومتیں ملک اور عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہو چکی ہیں، انہوں نے ملک کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ جماعت اسلامی میں شامل ہو کر اسلامی انقلاب کی راہ ہموار کریں، پاکستان میں وسائل کی کمی نہیں مگر ان وسائل پر ایک مخصوص طبقہ قابض ہے جنہیں ملک و قوم کی پروا نہیں پاکستان ایک زرعی ملک ہے لیکن اجناس بیرون ممالک سے منگائی جاتی ہیں، کیونکہ پاکستان کا صرف 22فی صد رقبہ زیر کاشت ہے معدنیات اور دیگر قدرتی وسائل کو عوام کی بہتری کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا حکمرانوں کی تمام پالیسیاں قرضہ حاصل کرنے تک محدود ہیں سود سے نجات حاصل کرکے ہی ملکی معیشت کو مستحکم بنایا جاسکتا ہے، افلاس کی دلدل سے نکلنے کے لیے پاکستان میں اسلامی قوانین پر عملدرآمد انتہائی ضروری ہے، مگر اسلام سے بیزار حکمران پاکستان کو اسلامی ملک نہیں بننے دیتے، آج بھی 85فی صد عوام کو پینے کے لیے صاف اور شفاف پانی دستیاب نہیں، اسپتالوں میں علاج کی سہولتیں موجود نہیں، ڈھائی کروڑ بچے اسکول جانے کے بجائے سڑکوں پر مارے مارے پھر رہے ہیں، بد نصیبی یہ بھی ہے کہ عدالتی نظام تباہ ہو چکا ہے، الیکشن کمیشن کو بے اختیار کر دیا گیا ہے اور ایوان اقتدار کو ربڑ اسٹمپ بنا دیا گیا ہے، اس بوسیدہ اور کھوکھلے نظام سے نجات حاصل کرنے کے لیے عوام کو آگے آنا ہوگا، ملک میں وسائل کی کمی نہیں اصل مسئلہ نااہل قیادت اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہے، تینوں بڑی جماعتیں سڑکوں پر بھی ہیں اور ایوان میں بھی ہیں، یہ لوگ اقتدار کی جنگ لڑ رہے ہیں انہیں عوام کی فلاح و بہبود کی پروا نہیں یہ صرف اقتدار چاہتے ہیں، قیام پاکستان کے بعد پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ہی زیادہ عرصے تک اقتدار میں رہی ہیں مگر انہوں نے اپنے دور اقتدار میں عوام کی بہتری کے لیے کوئی کام نہیں کیا، سیلاب، زلزلے اور بارشیں آتی رہتی ہیں، عوام بے گھر اور بے سروسامان ہوتے رہتے ہیں مگر حکمرانوں نے عوام کو آسمانی اور زمینی آفات سے نجات دلانے کے لیے کبھی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی جب بھی ملک میں ایسی کوئی مصیبت آتی ہے یہ لوگ کشکول اٹھا کر بھیک مانگنے نکل کھڑے ہوتے ہیں، اگر آسمانی اور زمینی آفات سے نپٹنے کے لیے پیش قدمی کی جاتی تو لوگوں کو تباہی سے بچایا جاسکتا تھا، ایسی کوئی پلاننگ نہیں کی گئی جس پر عمل کر کے سیلاب آنے سے قبل لوگوں کے انخلا کو ممکن بنایا جاسکے انہیں محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاسکے، اگر احتیاطی تدابیر اختیار کی جاتیں تو اتنے بڑے پیمانے پر نقصان نہ ہوتا، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان کی سیاست جھوٹ پر مبنی ہے کراچی کے عوام کے لیے اربوں روپے کے پیکیجز کا اعلان کیا گیا جو کاغذوں تک ہی محدود رہا یہی حال بلوچستان کا ہے قبائلی علاقوں کے عوام کو بھی دھوکا دیا گیا یہ آزمائے ہوئے لوگ ہیں اور آزمائے ہوئے لوگوں کو آزمانہ دانش مندی نہیں مگر ہم بار بار ایک ہی سوراخ سے ڈسے جانے کے عادی ہو چکے ہیں اور عادت ایسی کافر شے ہے جو منہ کو لگ جائے تو چھٹتی نہیں۔
ملک مشکل ترین حالات سے گزر رہا ہے اور حکمران مفادات اور تحفظات کی جنگ میں اپنی ذہنی توانائیاں ضائع کررہے ہیں، حزب اقتدار ہو یا حزب اختلاف ایک دوسرے سے دست و گریباں ہیں، ان کی سیاست گالم گلوچ بن کر رہ گئی ہے، جب کارکردگی صفر ہو تو عوام کو بتانے کے لیے کچھ نہیں ہوتا ایسے موقع پر گالم گلوچ کا سہارا لے کر عوام کی توجہ مسائل سے ہٹانے کی سعی نامشکور کی جاتی ہے، بزرگوں نے سچ ہی کہا ہے کہ جب دلیل نہ ہو تو گالیوں اور گولیوں کا سہارا لیا جاتا ہے۔
اقتدار کی اس جنگ میں 22کروڑ عوام کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے، معیشت تباہ ہوگئی ہے، روپے کی قدر میں مسلسل کمی ہو رہی ہے، حالیہ سیلاب سے تین کروڑ عوام بے گھر اور بے سرو سامان ہوئے ہیں، لوگوں کے مویشی مر چکے ہیں، لاکھوں مکانات مٹی کا ڈھیر بن گئے ہیں، مگر حکومت نے تین چار مہینے میں کوئی ایکشن پلان تشکیل نہیں دیا۔