تماشا تو واقعی بند ہونا چاہیے

834

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ملک کے ملک کے ڈیفالٹ کا کوئی خطرہ نہیں ایک ارب ڈالر کے سکوک بانڈز کی ادائیگی بروقت ہوگی۔ انہوں نے بڑے فخر سے کہا ہے کہ ایک سال کے لیے تمام بین الاقوامی ادائیگیوں کا انتظام کردیا ہے ملکی ضرورت کے مطابق پیٹرولیم ذخائر موجود ہیں۔ اور جاری کھاتوں کا خسارہ بھی توقع سے کم رہنے کا امکان ہے۔ وزیر خزانہ نے ان باتوں کے بعد شہریوں کو ایک مشورہ دیا ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں۔ معلوم نہیں وزیر خزانہ نے افواہ کس کو کہا ہے۔ پاکستانی قوم تو ستر برس سے اس قسم کی افواہیں سنتی آرہی ہے کہ پاکستان ترقی کررہا ہے۔ بہت جلد ملک مضبوط معاشی قوت ہوگا۔ قرضوں کی ضرورت نہیں رہے گی بلکہ بسا اوقات تو یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ دنیا بھر سے لوگ یہاں پڑھنے اور روزگار کے لیے آئیں گے۔ قوم نے ہمیشہ ان دعوئوں پر یقین کیا لیکن اسے ان میں سے کوئی وعدہ پورا ہوتا نظر نہیں آیا۔ اگر لغوی اور علمی اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ افواہ ہی ہے ،منہ سے نکلی ہوئی بات۔ اور یہ لوگ یعنی حکمران جو چاہتے ہیں کہہ دیتے ہیں حقائق خواہ کچھ بھی ہوں۔ اسحاق ڈار صاحب نے کہا ہے کہ خدا کے لیے تماشا بند کریں وہ یہ وضاحت بھی کردیتے کہ کون سے تماشے۔۔۔۔ کیونکہ حکومت ترقی کے اعلانات کا تماشا کررہی ہے۔ عمران خان ملک کے سری لنکا بننے، ڈیفالٹ ہونے بنانا ری پبلک بننے کا تماشا دکھارہے ہیں۔ یہی ملک عمران خان کے دور میں تیزی سے ترقی کررہا تھا ان کی حکومت گرتے ہی تیزی سے ان کی نظروں میں تباہ ہونے لگا اور اب کسی بھی دن ڈیفالٹ کرجائے گا۔ لیکن ان کو نکال کر آنے والوں کی نظروں میں پاکستان پھر ترقی کی راہ پر چل رہا ہے۔ بہت خوب تجزیے ہیں دونوں کے۔۔۔ اگر اگلے ہفتے پی ڈی ایم کی حکومت ختم کردی جائے تو اسی پی ڈی ایم کو اور ان ہی کا اسحاق ڈار صاحب کو پاکستان ڈوبتا ہوا اور ڈیفالٹ کرتا ہوا نظر آئے گا اور عمران خان بقیہ دس ماہ کے دوران ملک کو جاپان سے آگے نکلتا ہوا دکھائیں گے۔ درحقیقت تماشا تو یہ ہے جو کبھی پی ڈی ایم والی پارٹیاں الگ الگ دکھاتی ہیں اور کبی پی ٹی آئی دکھاتی ہے۔ افواہیں بھی یہی ہیں کہ ملک ترقی کررہا ہے اور اب تو قوم افواہوں پر یقین نہیں کرتی۔ یہ حکمرانوں کی بدقسمتی ہے یا بدانتظامی یا ان کے خلاف سازش کہ جس روز وہ ملک کی ترقی کا کوئی دعویٰ کرتے ہیں اسی روز ان کے اپنے کسی ادارے، اسٹیٹ بینک، ادارہ شماریات یا قومی اسمبلی پبلک اکائونٹس کمیٹی اسی حکومت کا پول کھول دیتی ہے۔ چنانچہ جونہی اسحاق ڈار نے ملک کے ڈیفالٹ نہ ہونے کا دعویٰ کیا اسٹیٹ بینک کے حوالے سے چلنے والی خبر میں بتایا گیا ہے کہ چینی قرضوں پر پاکستانی حکومت کو مزید 50 ارب روپے سود ادا کرنا پڑے گا۔ مجموعی طور پر سود میں 39 فیصد اضافہ ہوگیا۔ پاکستانی حکمران پی پی پی کے ہوں مسلم لیگ کے یا پی ٹی آئی اور براہ راست فوج کے ان سب کے نزدیک کامیابی کا معیار قرضوں کا حصول اور قرضوں پر سود کی ادائیگی ہے۔ چنانچہ اسحاق ڈار صاحب نے جو اعلان فخریہ کیا ہے وہ یہی ہے کہ آئندہ ایک سال کے لیے تمام بین الاقوامی ادائیگیوں کا انتظام کردیا گیا ہے۔ یہ بھی بتادیا ہوتا کہ یہ انتظام پاکستان نے کس کس سے بھیک مانگ کر اور کس کس سے منتیں کرکے کیا ہے تو اچھا ہوتا۔ اگر آج پی ٹی آئی کی حکومت ہوتی تو اس کا پانچواں وزیر خزانہ بھی یہی بات کہ رہا ہوتا کہ ہم نے آئی ایم ایف سے آسان شرائط پر قرض لے لیا اور ہم نے تمام قرضوں کی ادائیگی کا انتظام کردیا ہے۔ یہ بات تو اب اتنی عام ہوگئی ہے کہ قرضوں پر سود اور ان کی ادائیگی کے لیے مزید قرضے لینے پڑتے ہیں اور اس کام کو ہمارے تمام حکمران کامیاب معاشی حکمت عملی قرار دیتے ہیں۔ یہ تماشا واقعی ختم ہونا چاہیے۔ ملک کو سود در سود کے چکر سے نکالنے کی ضرورت ہے خود انحصاری کا درس تو دیا جاسکتا ہے لیکن اس منزل کے حصول کے لیے پہلا قدم بھی بہت مشکل ہے بلکہ پہلا قدم ہی مشکل ہے۔ جونہی یہ قدم اٹھ جائے گا منزل آسان ہوتی چلی جائے گی لیکن اس کے لیے موجودہ حکمرانوں اور اپوزیشن ٹولے سے قوم کو نجات حاصل کرنی ہوگی یہ تماشا تب ہی ختم ہوگا اس کیلیے ایک جرأت مند قیادت کو آگے لانا ہوگا۔