خرابی بڑھنے کے خدشات

812

ابھی ایسا محسوس ہونا شروع ہی ہوا تھا کہ ملک میں آرمی چیف کی تعیناتی سے متعلق تنازعہ حل ہونے کو ہے اور تمام فریق اس معاملے میں افہام و تفہیم پر رضامند ہوگئے ہیں کہ عمران خان نے 26 نومبر کو راولپنڈی پہنچنے کا اعلان کردیا اور حکومت نے صدر مملکت کو دھمکی دے دی کہ اگر آرمی چیف کی تعیناتی کے معاملے میں گڑ بڑ کی تو نتیجہ بھگتنا پڑے گا۔ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ایک دن پی ٹی آئی کچھ کہتی ہے اور اگلے دن اس کے بالکل الٹ اعلان کردیتی ہے۔ اسی طرح حکومت کچھ کہتی ہے اور اگلے دن کچھ اعلان کرڈالتی ہے۔ دونوں جانب سے آرمی چیف کے تقرر پر تنازع تقریباً ختم ہوگیا تھا لیکن اب معاملہ نئے سرے سے گرم ہوگیا ہے۔ کسی وفاقی حکومت کا صدر مملکت کو دھمکی دینا، جمہوریت کے منہ پر کالک ملنے کے مترادف ہے اگر آرمی چیف کا تقرر خالصتاً میرٹ پر ہورہا ہے اور قانون کی مکمل پاسداری کی جارہی ہے تو کیا وجہ ہے کہ صدر مملکت اس معاملے میں مداخلت کریں گے اور اگر صدر نے مداخلت کربھی دی اور یہ معاملہ میرٹ اور قانون کے مطابق ہو تو بھی حکومت کو اور وہ بھی صدر مملکت کے سامنے سیاسی بچہ ہونے کے ناتے وزیر خارجہ بلاول زرداری کو صدر مملکت کو نتائج بھگتنے کی دھمکی دینا زیب نہیں دیتا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دونوں طرف کچھ قوتیں موجود ہیں جو حالات کو پرامن نہیں ہونے دینا چاہتیں۔ ادھر بلاول یہ دھمکی دے رہے ہیں اور دوسری طرف عمران خان کہہ رہے ہیں کہ میں راولپنڈی آکر اگلے لائحہ عمل کا اعلان کروں گا۔ نہایت خوبصورتی سے امریکا سے حقیقی آزادی کے حصول والا لانگ مارچ اسلام آباد کے بجائے راولپنڈی کی طرف گامزن ہوچکا ہے لیکن راولپنڈی میں امریکا سے آزادی کس طرح لی جاسکے گی یہ پوچھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ بلکہ یہ ایک نئی خرابی کی طرف نشاندی ہے۔ عمران خان نے ساتھ ساتھ یہ بھی کہہ دیا ہے کہ راولپنڈی میں میری جان کو خطرہ ہے مجھے پاکستان میں نہیں امریکا برطانیہ اور امارات میں انصاف ملے گا۔ یہ بیان بجائے خود عدالتوں پر عدم اعتماد کا اعلان ہے اس کا ذکر صدر عارف علوی نے چند روز قبل کیا تھا کہ سارا بوجھ عدالتوں پر ڈالتے ہیں لیکن اس کے فیصلے نہیں مانتے۔ اگر عمران خان کا یہ خدشہ درست ثابت ہوا تو کیا ہوگا کہ راولپنڈی میں میری جان کو خطرہ ہے۔ اگر ان پر ایک اور حملہ ہوجاتا ہے کوئی المناک سنگین سانحہ ہوجاتا ہے تو مشتعل ہجوم راولپنڈی میں کس طرف جائے گا۔ کیا پاکستانی حکومت میں اتنی صلاحیت ہے کہ کسی ہجوم کو قابو میں رکھ سکے۔ دونوں طرف سے گرما گرم باتوں سے تو یہ ظاہر ہورہا ہے کہ معاملات ابھی طے نہیں ہوئے ہیں بلکہ آخری دن ہیں اس دوران جو جتنا دبائو ڈال دے گا اسے اتنی ہی زیادہ کامیابی ہوگی۔ یہ رویہ ملکی سلامتی سے کھیلنے کے مترداف ہے یہ جھگڑے کرتے ہوئے موجودہ حکمرانوں اور اپوزیشن نے چار سال سے زیادہ گزار لیے کم از کم باقی ایک سال اس کام میں لگادیں جس کے لیے اسمبلیوں میں آئے تھے، یہ ان جھگڑوںکے لیے تو اسمبلیوں میں نہیں آئے تھے۔