فٹ بال ورلڈ کپ: فیفا سربراہ تنقید کرنے والے مغربی ممالک پر برہم

199

دو حہ:فٹ بال کی عالمی گورننگ باڈی (فیفا) کے سربراہ گیانی انفینٹینو نے ورلڈ کپ کے میزبان قطر کو مہاجرین کیساتھ بدسلوکی کا الزام عائد کرتے ہوئے تنقید کرنے والے ممالک اور افراد پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے منافقت قرار ددیدیا اور کہاہے کہ انسانی حقوق کی بہتری کے لیے تعلق واحد راستہ ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق فٹ بال ورلڈ کپ کے آغاز سے قبل تفصیلی اور تند و تیز پریس کانفرنس میں گیانی انفینٹینو نے قطر پر تنقید کرنے والے یورپی ممالک کو نشانے پر رکھا۔

انہوں نے کہا کہ میں یورپی ہوں، ہمیں اخلاقی درس دینے سے قبل ہم 3 ہزار سال سے دنیا بھر میں جو کچھ کرتے رہے ہیں، اس پر اگلے 3 ہزار سال کے لیے ہمیں معافی مانگنی چاہیے۔

فیفا کے سربراہ نے کہا کہ مجھے تنقید کے بارے میں سمجھنے میں دشواری ہوئی، ہمیں ان لوگوں کی مدد کے لیے تعلیم، ان کو بہتر مستقبل دینے اور مزید امیدیں دلانے کے لیے سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہاکہ ہم سب کو چاہیے خود آگاہ ہوں کیونکہ چیزیں مکمل نہیں ہوتیں لیکن اصلاحات اور تبدیلی میں وقت لگتا ہے۔گیانی انفینٹینو نے کہا کہ اس طرح کا یک طرفہ اخلاقی درس صرف منافقت ہے۔

انہوں نے کہا کہ تنقید کی بنیاد پر کوئی فیصلہ کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا اور وہ بھی 12 سال پہلے کیا گیا ہو، دوحہ تیار ہے، قطر تیار ہے اور یہ اب تک کا بہترین ورلڈ کپ ہوگا۔

انفینٹینو نے مہاجر ورکر کے طور پر سوئٹزرلینڈ میں پرورش پانے کا احوال بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اطالوی ہونے، سرخ بال اور جھریاں ہونے پر نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے کہاکہ برابری کی بنیاد پر معاوضہ دینے کے مطالبہ کو ثقافتی جنگ کی شکل نہیں دینا چاہیے۔مہاجرین ورکرز کے لیے کام کرنے والے ادارے فیئر اسکوائر کے رکن نک مک گیہان نے انفینٹینو کی تنقید کو بلاوجہ قرار دے دیا۔ورلڈ کپ کا میزبان قطر واضح طور پر کہہ چکا ہے کہ وہ بلاتفریق ہر کسی کا استقبال کرنے والا ملک ہے اور غیرملکی کارکنوں کے ساتھ اچھا سلوک نہ کرنے کے الزامات کو یکسر مسترد کرتا رہا ہے۔

فیفا کے سربراہ نے ٹورنامنٹ مین ایران کی موجودگی کا بھی بھرپور دفاع کیا جہاں حال ہی میں پولیس حراست میں خاتون کے انتقال کے بعد بدترین مظاہرے ہوئے، اگر فٹ بال ہمیں ایک دوسرے کے قریب نہیں لائے تو ہم دنیا میں کیسے رہیں گے کیونکہ ایران 8 کروڑ آبادی کا ملک ہے، کیا وہ سب خراب ہیں اور کیا وہ سب ظالم ہیں۔یاد رہے کہ ورلڈ کپ کا فائنل 18 دسمبر کو لوسیل اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔