گھڑی پہ چوہا ناچا

377

چوری ہمارے حکمران طبقے کی ضرورت نہیں مشغلہ ہے۔ عمران خان کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے چوری کی وارداتوں میں فنی باریکیاں بھی پیدا کی ہیں اور نئی راہیں بھی تراشی ہیں۔ واردات کے بعد چور تنہائی میں جس طرح اپنی معرکہ آرائی کے ساتھ رقص کرتے اور خوشیاں مناتے ہیں ان کے نفس کے لیے اس سے بڑھ کر روح کو سکون پہنچانے والی چیزکوئی نہیں ورنہ بقول خان صاحب انہیں کس چیز کی کمی تھی۔ نیازی لودھی پشتون قبیلے کی ایک شاخ ہے۔ عمران خان کا نیازی ہونا اس بات سے ثابت ہے کہ انہوں نے 12ملین ڈالر کی گھڑی دو ملین ڈالر میں فروخت کر دی۔ اگر وہ کچھ عرصے اور ٹک جاتے تو قومے فروختند وچہ ارزاں فروختند ان کے نام کے ساتھ چپک جاتا۔ چوری کی وارداتیں محض زندگی کے کینوس تک محدود نہیں رہتیں۔ اسٹیبلشمنٹ کی دوستی میں محض رنگارنگی اور رعنائی نہیں ایک مغالطہ آمیز جادو بھی ہوتا ہے۔ خان صاحب کے دل میں خیال یہ تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کے پاس ان کے علاوہ کوئی چوائس نہیں ہے۔
صرف ہم ہی ہیں اس کے دل میں
لے ڈوبیں ہمیں یہ غلط فہمیاں
آریائوں نے جب ہندوستان پر حملہ کیا اور مقامی لوگوں کے قلعے برباد کرنے شروع کیے تو انتقاماً انہوں نے آریائوں کے مویشی چرانے شروع کردیے۔ وہ سارادن لڑنے بھڑنے کے بعد آرام کرنے لیٹتے تو ہندوستانی ان کے مویشی چرا لے جاتے۔ آریائی اس قدر پریشان ہوئے کہ اپنے اشلوکوں میں برکھا، دودھ اور فرزند کے لیے دعا ئیں مانگنے کے بجائے مقامی لوگوں کو بددعائیں دینے اور چور کے خطاب سے پکارنے لگے۔ آریا تو مقامی لوگوں پر تھو تھو کرتے فنا ہوگئے لیکن چوری کا جو حربہ ہم ہندوستانیوں کے ہاتھ لگا تھا ہم اس سے دستبردار نہیں ہوئے۔ انگریز ہندوستان کی دولت بٹورنے کے لیے آئے تھے اس کے لیے جوڑ توڑ، سازشیں اور جنگیں بھی انہیں کرنی پڑیں۔ اہل ہند نے اس کا بدلہ بھی چوری کے ذریعے لیا۔ بڑی بڑی حویلیوں اور راجے مہاراجوں اور امرا اور نوابوں کے گھریلو نوکرکبھی ایک دمڑی اور چھدام کی چوری نہیں کرتے تھے، نقد ہو یا جنس لیکن انگریزوں کے گھروں میں چوریاں بہت ہوتی تھیں۔ شاید ہی کوئی نوکر مرد عورت ایسا ہو جو موقع پاکر گھر کی چیزیں نہ چراتا ہو، لین دین میں خیانت نہ کرتا ہو۔ ان چھوٹی چھوٹی چوریوں سے انگریزوں کو کئی فرق تو نہ پڑتا لیکن ان کی جھنجلاہٹ آسمان پر پہنچ جاتی وہ چڑچڑا کر سرعام کہتے تھے یہ حرام کے جنے ہندوستانی ہوتے ہی چور اور بے ایمان ہیں۔ ہمارا بیش تر حکمران طبقہ انگریزوں کے ان ہی نوکروں، ملازموں اور خدمت گاروں کی اولادیں ہیں جو آج بھی اس پیشے سے دستبردار نہیں ہوئیں۔ وہ زمین دار ہوں، صنعت کار ہوں، تاجر ہوں، بیوروکریٹس ہوں، ملازم پیشہ ہوں، فوجی ہوں یا سویلین۔ ہزار برس کی مشاقی کے بعد ہم مویشی چوری سے گھڑی چوری تک آگئے ہیں۔ ہم نے اپنے پیشے کو پھیلا کر دوست ممالک کے تحفے تحائف تک توسیع دے دی ہے۔
مصحفی نے کہا تھا:
جوڑ توڑ آوے ہے کیا خوب نصاریٰ کے تئیں
فوج دشمن سے وہیں لیتے ہیں سردار کو توڑ
انگریزوں کو جوڑ توڑ کرنا کیا خوب آتا ہے کہ دشمن کی فوج سے ان کے سرداروں کو ہی توڑ کر اپنا دوست بنا لیتے ہیں۔ جنگ عظیم اور خلافت کے خاتمے کے بعد انگریزوں نے جب مسلمانوں کو چھوٹے چھوٹے ممالک میں تقسیم کیا تو مسلمانوں کے سرداروں کو ہی توڑ کر اپنا ایجنٹ بناکر مسلمانوں پر مسلط کردیا۔ جن کا مزاج، طبیعتیں اور عادتیں اول دن سے ہی چوری کی بنیاد پراستوار تھیں اور آخر روز تک اسی بنیاد پر قائم رہیں گی۔ پہلے شریف زرداریوں کو ٹین پرسنٹ، ٹوئنٹی پرسنٹ اور سرے محل کے طعنے دیتے رہے اور زرداری شریفوں کو اسٹیل چور اور نہ جانے کیا کیا کہہ کر چور ثابت کرتے رہے۔ فوج کو بھی اپنے وسیع وعریض کاروبار، آبدوزوں کی خریداری میںکک بیکس پاپا جونز اور جزیروں کی خریداری سے فرصت ملتی تو نئی نسل کو زرداریوں اور شریفوں کو چور باور کرانے میں لگی جاتی۔ یہی نسل آج عمران خان کے ساتھ ہے اور ان کی تمام تر ہڑبونگ کے باوجود انہیں دیوتا تصور کرتی ہے۔ عمران خان کا وصف یہ ہے کہ انہیں کسی نے چور نہیں کہا یہ لقب انہوں نے اپنی محنت سے حاصل کیا ہے۔ ان کی کسی بھی پرت، دوست، ملنے جلنے والے اور رشتے کو اٹھا کر دیکھیں چوری کی صفت کنڈلی مارے بیٹھی دکھائی دیتی ہے۔
ہمارے فلمی گیت ہوں، لوک گیت یا قصے کہانیاں ان میں ’’کاگا‘‘ یعنی کوے کا ذکر ضرور ملتا ہے۔ جسے گھر کی منڈیر پر بیٹھا دیکھیں تو یہ فکر لگ جاتی ہے کہ روٹی کا ٹکڑا یا کچھ اور جھپٹ کر نہ لے جا ئے۔ چکور نہیں، کوّا چوری جس کی ذات میں ہے ہمارا قومی پرندہ ہے۔ زرداری صاحب کے بارے میں کبھی کہا جاتا تھا کہ ان سے ہاتھ ملانے والے کو ہاتھ کی انگلیاں گن لینی چاہییں۔ عمران خان کے باب میں اس جملے کو یوں ٹوئسٹ کیا جاسکتا ہے کہ ان سے ہاتھ ملانے والے کو اپنی دستی گھڑی چیک کر لینی چاہیے اگر وہ گھڑی قیمتی ہے۔ گھڑی کے خریدار عمر فاروق پر اس طرح الزام تراشی کی جارہی ہے جیسے زمانہ اس سے پہلے انہیں صوم وصلاۃ کا پا بند اور ننگے پیر حج کرنے والا باور کرتا آیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ سعودی ولی عہد سے ملی گھڑی اس تک پہنچی کیسے۔ ہمارے خیال میں تو اس سوال کی بھی ضرورت نہیں۔ جب ایک چور اپنا دھندہ شروع کرے گا تو لا محالہ دوسرے چور کے پاس ہی جائے گا۔
ہمارے ایک دوست ہیں ان کا پیشہ ہی وعظ و تلقین ہے۔ ہم نے آرمی چیف کی تعیناتی کے معاملے میں خان صاحب کی ناکامی کی وجہ پوچھی تو گویا ہوئے جو شخص دنیاوی مفاد کے لیے خادم حرمین شریفین کے ولی عہد کی تحفہ دی ہوئی خانہ کعبہ کی شبیہ والی گھڑی چوری سے بیچ دے وہ اللہ کی رحمت سے کس طرح قریب رہ سکتا ہے۔ ناکامیاں اس کا مقدر بنیں ہی بنیں۔ اس کی حکومت عدم اعتماد کی وجہ سے نہیں اللہ کے غضب کا شکار ہوکر دھڑام سے گری ہے۔ اسی وجہ سے اس کا لانگ مارچ سڑکوں پر رسوا ہوا ہے، وہ اپنی مرضی کا آرمی چیف کیسے لگا سکتا ہے؟ جہاں تک فرح گوگی کا تعلق ہے جن پر تنقید سے خان صاحب تڑپ اٹھتے ہیں وہ اپنی بنیاد میں ایک ایسی عورت ہیں جو دولت مندی اور ثروت کے اس بلند مقام پر ہیں جہاں کسی خارجی ضرورت کے تحت نہیں داخلی اُبال کے تحت دل چوری پر مائل ہوتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہ نظام خود چوری کو فروغ اور اس کی ترغیب دیتا ہے۔ ایسے میں اگر فرح گوگی کی چوری کی داستانیں اور ان کے ہینڈ بیگ کی وسعت عمران خان اور پنکی پیرنی کے ساتھ مل کر پاکستان اور دبئی تک دور دور تک بکھری ہوئی ہیں تو اس میں حیرت کیسی۔