فلسطینی کاز عرب اقوام کے اتحاد کا ذریعہ بن سکتا ہے، کویتی سیاستدان

235

کویت:لیگ آف پارلیمنٹرینز فار القدس کی ایگزیکٹو باڈی کے رکن اور کویتی قومی اسمبلی کے رکن اسامہ الشاہین نے کہا ہے کہ مسئلہ فلسطین عرب اور اسلامی اقوام کے درمیان تمام سیاسی، مذہبی اور فرقہ وارانہ اختلافات کو ختم کرتا ہے۔

برطانیہ میں فلسطینی فورم کے زیر اہتمام ایک سمپوزیم میں بات چیت کے دوران انہوں نے کہا کہ فلسطین کاز دنیا اور عرب اقوام کے لیے ایک حوالہ ہے۔ فلسطینی کازسے تعلق اقوام کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا باعث بن سکتا ہے۔اسامہ الشاہین نے اشارہ کیا کہ لیگ برطانوی سفارت خانے کو القدس منتقل کرنے کے کسی بھی ارادے کو مسترد کرنے والے موقف کی حمایت اور اسے اجاگر کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ برطانوی موقف اسرائیلی قابض ریاست کے حوالے سے متعصبانہ ہے اور اسے تبدیل کرنے کے لیے کوششیں کی جانی چاہییں۔ انہوں نے کہا کہ  اگربرطانیہ القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کی بات کرتا ہے تو اس سے فلسطینی کاز کے حق میں فیصلہ سازی کے دارالحکومتوں کو متاثر کرنے میں عربوں کی غفلت ظاہر ہوتی ہے۔

اسامہ الشاہین نے یہ پیغام دینے کی ضرورت پر زور دیا کہ جو بھی فلسطینی کاز کی حمایت کرے گا اسے عوام کی حمایت حاصل ہوگی۔ اس بیانیے کے برعکس جو اس بیانیے کو فروغ دیتا ہے کہ جو بھی فلسطین کی حمایت کرتا ہے وہ انتخابات میں ہار جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ غلط ہے کہ فلسطینیوں کی حمایت کرنے والے الیکشن ہار جاتے ہیں۔