انتخابی اصلاحات کے بغیر الیکشن متنازع ہوں گے، سراج الحق

201

لاہور: امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ استحکام کے لیے انتخابات اور انتخابات سے قبل انتخابی اصلاحات ضروری ہیں۔ ریفارمز کے بغیر الیکشن متنازع بن جائیں گے۔قوی امکانات ہیں کہ نتائج کو مختلف جماعتوں کی طرف سے مسترد کر دیا جائے گا۔

منصورہ میں مرکزی نظم کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں الیکشن کے عمل کو یرغمال بنایا جاتا ہے، جیتنے کے لیے دولت سمیت ہر حربہ استعمال ہوتا ہے۔ انتخابی اصلاحات، آئین کی بالادستی اور اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں مداخلت کو ختم کرنے کے ایجنڈے پر بات چیت کا آغاز ہونا چاہیے۔

سراج الحق نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ نے 22کروڑ عوام سے غیرجانبدار رہنے کا وعدہ کیا ہے، سیاست دانوں کو چاہیے کہ اس پر میکنزم بنائیں۔ جمہوریت مضبوط اور میرٹ کی بالادستی قائم کرنا ہے تو واحد راستہ شفاف، غیرجانبدار اور آزادانہ انتخابات ہیں۔ جہاں عوام کو فیصلے کرنے کا اختیار نہ ہو، پولنگ اسٹیشنز اور سسٹم کو یرغمال بنا کر ووٹ کاسٹ کیے جائیں وہ ملک اور معاشرہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔ پولنگ بوتھ پر عوام کا اعتماد بحال کرنا ہو گا۔ مقاصد کے حصول کے لیے تمام سیاسی جماعتوں سے بات کروں گا۔

امیر جماعت نے کہا کہ ملک بحران سے دوچار ہے، مہنگائی، بدامنی اور بے روزگاری نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ حکمران سیاسی جماعتوں کی آپسی لڑائیاں جلتی پر تیل کا کام کر رہی ہیں جس سے عدم استحکام میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سیاست میں ذاتی دشمنیاں نہیں ہونی چاہییں، بڑی سیاسی جماعتوں کی لڑائیوں کی وجہ سے ملک خطرناک حد تک پولرائزیشن کا شکار ہو گیا ہے۔ پُرامن جلسے جلسوس منعقدکرنا ہر سیاسی جماعت کا آئینی و قانونی حق ہے۔

انہوں نے کہا کہ جلسوں اور مظاہروں کی آڑ میں خون خرابہ نہیں ہونا چاہیے۔ سیاسی کارکنوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ قومی املاک کو نقصان نہ پہنچائیں اور عوام کے لیے پریشانی کا باعث نہ بنیں۔ سیاست دانوں کے پاس موقع ہے کہ وہ سنجیدگی کی راہ اپنائیں اور موجودہ بحران میں اضافہ کی وجہ نہ بنیں۔ سیاست دانوں کی لڑائیوں کی وجہ سے ماضی میں مارشل لاز لگے ، قوم مزید ایسے تجربات کی متحمل نہیں ہو سکتی۔

سراج الحق نے کہا کہ سابقہ حکومتوں کی وجہ سے ملک کے جغرافیے کو نقصان پہنچا ہے۔ موجودہ اور سابقہ حکمران ملک کے تمام مسائل کے ذمہ دار ہیں، معاشی بحران انہی کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ حکمرانوں کی غلط پالیسیوں سے معیشت تباہ ہوئی جس کے نتائج قوم بھگت رہی ہے۔ حکمران جماعتوں نے ملک کے مسائل حل کرنے کی بجائے ان میں اضافہ کیا اور ایٹمی اسلامی پاکستان کا پوری دنیا میں تماشا بنایا۔

امیر جماعت کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی متناسب نمائندگی کے اصولوں کے تحت الیکشن چاہتی ہے۔ الیکشن کمیشن کو انتظامی و مالی لحاظ سے مضبوط اور بااختیار بنانا ہو گا تاکہ اسے کوئی بھی اپنی مرضی سے استعمال نہ کرسکے۔ حکمران جماعتیں چاہتی ہیں کہ ادارے ان کے تابعدار بن کر رہیں، انہیں یہ سوچ تبدیل کرنا ہو گی۔ جماعت اسلامی اداروں کو مضبوط، آزاد اور غیرجانبدار بنانے کی بات کرتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آرمی چیف کی تقرری سے متعلق بھی ہمارا موقف واضح اور دوٹوک ہے۔ جماعت اسلامی چاہتی ہے کہ آرمی چیف کی تقرری کے لیے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی طرز پر سنیارٹی کی بنیادوں پر پارلیمنٹ کے ذریعے میکنزم تشکیل دے دیا جائے تاکہ یہ مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل ہو جائے۔

انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کرنا ہر پارٹی کا حق ہے، حکمران جماعتوں نے ماضی میں بھی لانگ مارچز کیے۔ہم چاہتے ہیں کہ وہ عوام کو اپنی کارکردگی بتائیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی سود سے پاک معیشت، قانون اور انصاف کی بالادستی اور ملک کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے جو کہ مقاصد کے حصول تک جاری رہے گی۔