اسمبلیاں تحلیل کر کے فوری انتخابات کی راہ ہموار کی جائے، پی ٹی آئی اجلاس میں مطالبہ

239
Judicial Commission

لاہور: سابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے پاکستان تحریک انصاف کے اجلاس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسمبلیاں تحلیل کر کے چاروں صوبوں میں فوری انتخابات کی راہ ہموار کی جائے۔  اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پی ٹی آئی کے سینیٹرز، اراکین قومی اسمبلی، اراکین صوبائی اسمبلی وزیر آباد میں حملے کی ایف آئی کے اندراج کے لیے سپریم کورٹ جائیں گے۔

پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کا لاہور میں اہم ترین اجلاس ہوا۔عمران خان نے اجلاس کی صدارت کی، جس میں ملکی مجموعی سیاسی صورتحال، حقیقی آزادی مارچ کے اگلے مرحلے کے آغاز سمیت اہم معاملات پر تفصیلی تبادل خیال کیا گیا ۔اجلاس کے دوران سابق وفاقی وزرا شاہ محمود قریشی، اسد عمر، فواد چودھری، سینیٹر اعظم سواتی، عمر ایوب، ڈاکٹریاسمین راشد، میاں اسلم اقبال،حماد اظہر،اعجاز چودھری، شفقت محمود ، اوردیگر قائدین شریک ہوئے۔

اجلاس کے دوران صوبائی مشیر داخلہ عمر سرفراز چیمہ نے وزیر آباد حملے کے حوالے سے ابتدائی فرانزک رپورٹ پارٹی قیادت کے سامنے پیش کی۔اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں عمر سرفراز چیمہ نے بتایا کہ فرانزک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ حملہ آور ایک سے زیادہ تھے۔ عمران خان کے خلاف جو مذہبی بیانیہ بنانے کی کوشش کی گئی وہ ٹائیں ٹائیں فش ہو گیا۔وزیر آباد کے بعد حافظ آباد میں بھی مسلم لیگ ن کی جانب سے عمران خان کے خلاف زہر اگلا گیا۔

پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات فرخ حبیب کاکہناتھاکہ دوگھنٹے سے زائد اجلاس میں لانگ مارچ کے دوسر ے مرحلے پر مشاورت کی گئی، عمران خان پر حملہ 22 کروڑ عوام پر حملہ ہے۔ رانا ثنا اللہ کو اپنے بیانات پر شرم کرنی چاہیے۔ اس واقع کی تحقیقات پر اگر کوئی افسر چھپ کر دبا ڈالنے کی کوشش کرے گا تو وہ بھی بے نقاب ہوگا۔گورنر راج لگانے کا وقت گزر گیا اب صرف عوامی راج ہو گا۔

پارٹی سیکرٹری جنرل اسد عمر کاکہناتھاکہ اجلاس میں لانگ مارچ کے دوسرے مرحلے کے حوالے سے تفصیلات طے کرلی گئی ہیں، لانگ مارچ اپنے شیڈول کے مطابق شروع ہو کر راولپنڈی پہنچے گا۔

دوسری طرف مشیر داخلہ پنجاب عمر سرفراز چیمہ کی جانب سے قیادت کو حقیقی آزادی مارچ پر حملے کی اب تک کی تحقیقات سے آگاہ کیا۔بریفنگ میں بتایا گیاکہ آئی جی پنجاب اور سی ٹی ڈی کی کابینہ کو دی جانے والی بریفنگز کےمطابق ایک سے زائد حملہ آوروں نے حقیقی آزادی مارچ کی قیادت کے دوران چیئرمین تحریک انصاف کو نشانہ بنایا، حملے میں استعمال ہونے والے اسلحے اور گولیوں کے خولز حاصل کرلئے گئے۔

حملے کی جگہ سے جمع کیا گیا مواد فرانزک کیلئے بھیجا جارہا ہے، کنٹینر کو محفوظ کرنے کے بعد فرانزک کیلئے بھیجا جارہا ہے، 3 اراکین پر مشتمل مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کل تک تشکیل دے دی جائے گی، مقامی پولیس کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو مہیا کی جائیں گی، حملے کی تحقیقات کے حوالے سے معاملہ آگے بڑھے گا۔

اجلاس میں سینئر قائدین نے حقیقی آزادی مارچ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ حقیقی آزادی مارچ جمعرات سے وزیرآباد میں حملے کے مقام سے دوبارہ شروع کیا جائے گا، وزیرآباد میں بڑے عوامی اجتماع کے انعقاد کے بعد حقیقی آزادی مارچ راولپنڈی کی جانب بڑھے گا۔ فیصل آباد اور ملک کے دیگر حصوں سے قائدین قافلوں کی شکل میں راولپنڈی کی جانب بڑھیں گے، ملک بھر سے قافلے نومبر کے تیسرے ہفتے میں راولپنڈی پہنچیں گے۔

اجلاس میں مطالبہ کیاگیا کہ تحریک انصاف کا ایک ہی بنیادی مطالبہ ہے کہ انتخابات جلد از جلد کروائے جائیں، اسمبلیاں تحلیل کی جائیں اور چاروں صوبوں میں فوری انتخابات کی راہ ہموار کی جائے۔اجلاس میں عمران خان کے حق میں متفقہ قرارداد بھی منظور کی گئی، ملک بھر میں موجود تحریک انصاف کے اراکین پارلیمان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت تمام اراکین صوبائی اسمبلی مشترکہ طور پر سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔

ملک بھر سے تحریک انصاف کے منتخب اراکین عدالتِ عظمی سے چیئرمین عمران خان پر حملے کی ایف آئی آر کے اندراج کی استدعا کریں گے۔ تحریک انصاف کے منتخب اراکینِ پارلیمان و صوبائی اسمبلی سپریم کورٹ سے شہباز شریف، رانا ثنا اللہ کی ایف آئی آر میں نامزدگی کی استدعا کریں گے۔