دیگر شہروں سے روزانہ 10 ہزار سے زائد لوگ روزگار کیلیے کراچی آتے ہیں، مرتضیٰ وہاب

197
Sindh government

کراچی: ایڈمنسٹریٹر کراچی، مشیر قانون اور ترجمان حکومت سندھ بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ ملک کے دیگر شہروں سے روزانہ 10 ہزار سے زائد لوگ روزگار کے سلسلے میں کراچی آتے ہیں جس سے اس شہر پر ہمیشہ دباؤ رہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کے انفرا سٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔صوبہ سندھ واحد صوبہ ہے، جہاں وزیر اعلیٰ سندھ اور کابینہ سمیت زمین الاٹ کرنے کی اجازت نہیں ہے، نہ ہی چینج آف لینڈ کی اجازت دی گئی ہے۔حکومتی کاموں کو روک دیا جائے تو مسائل جنم لیتے ہیں۔زمین سے متعلق پابندی معزز عدالت کی طرف سے ہے، جس سے کراچی کے شہریوں کو پریشانی کا بھی سامنا ہے۔

ان خیالات کااظہار انہوں نے محکمہ پولیس کے 49 ویں اسپشیلائزڈ ٹریننگ پروگرام اور 25 ویں کمانڈ کورس کے آفیسرز کے کے ایم سی ہیڈ آفس کے دورے کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ میونسپل کمشنر افضل زیدی اور دیگر افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔

ایڈمنسٹریٹر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کراچی منی پاکستان ہے تمام زبانوں اور فرقوں سے تعلق رکھنے والے افراد یہاں آباد ہیں دوسرے شہروں کی نسبت کراچی ایک الگ شہر ہے جس کے مسائل بھی الگ نوعیت کے ہیں۔ کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کے لئے بڑے پیمانے پر فنڈز کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ میونسپل یوٹیلیٹی ٹیکس کو بجلی کے بلوں کے ساتھ وصول کرنے کا مقصد پاکستان کے سب سے بڑے بلدیاتی ادارے کے ایم سی کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا تھا۔ کے الیکٹرک پاکستان ٹیلی ویژن کے لائسنس کی فیس وصول کرتی ہے تو کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوتا لیکن یہی ادارہ اپنے شہر کی بہتری اور ترقی کے لیے میونسپل یوٹیلیٹی ٹیکس کو جمع کرتا ہے تو بعض عناصر سیاسی فائدے کے لیے اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ میونسپل یوٹیلیٹی ٹیکس ہم نے نافذ نہیں کیا یہ 2009 سے نافذ العمل ہے۔ہم نے یوٹیلیٹی ٹیکس کو مزید کم کیا ہے تاکہ شہری آسانی سے ادا کرسکیں۔

مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ دنیا کے ترقی یافتہ شہروں میں کام کرنے والے لوگ اس شہر پر آبادی کا دباؤ نہیں بڑھاتے بلکہ اس شہر کے مضافات میں رہتے ہیں اور کئی گھنٹوں کی مسافت طے کرکے شہروں میں اپنے روزگار کے لیے آتے ہیں، بد قسمتی سے پاکستان میں لوگ شہروں میں رہنا پسند کرتے ہیں اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ گاڑی بھی ان کے دفتر کے سامنے ہی کھڑی ہو، نہ ہی انہیں پیدل چلنا پڑے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کے ساتوں اضلا ع میں ترقیاتی کام جاری ہیں۔گزشتہ دنوں ہونے والی بارش کے بعد جو سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی تھیں ان کی تعمیر و مرمت کی جارہی ہے او زیادہ تر سڑکوں کی تعمیر و مرمت کو مکمل کرلیا گیا ہے۔

ایڈمنسٹریٹر کراچی نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے پاس شہر کا 27.4 فیصد لینڈ کنٹرول ہے لیکن شہریوں کے ذہن میں تمام بلدیاتی امور کی انجام دہی کے لیے کے ایم سی کا ہی نام آ تا ہے، کیونکہ یہ ادارہ بلدیاتی امو رکی انجام دہی کا ذمہ دار ہے۔اس موقع پر ایڈمنسٹریٹر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کو وفد کی جانب سے یادگاری شیلڈ پیش کی گئی جبکہ کے ایم سی کی جانب سے بھی وفد کے سربراہ کو میری ویدر ٹاور کا مونومنٹ پیش کیا گیا۔