ملک میں انارکی و افراتفری کا سماں، عوام غیرمحفوظ اور مایوس ہیں، سراج الحق

209

کوئٹہ: امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ ملک میں انارکی اور افراتفری کا سماں، عوام غیر محفوظ، مضطرب اور مایوس ہیں۔

کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس اور ضلعی امیر کی تقریب حلف برداری سے خطاب کرتے ہوئے سراج الحق کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کی مسلط کردہ تینوں حکمران جماعتوں نے ملک کو بندگلی میں دھکیل دیا، سیاست اور جمہوریت انتشار کا شکار ہے۔ اسٹیبلشمنٹ نے پی ٹی آئی، پیپلزپارٹی اور پی ڈی ایم کو چھتری فراہم کی۔ ملک کو موجودہ نہج تک پہنچانے والوں کو عوام کا سامنا کرنا پڑے گا اوراللہ کے سامنے بھی جواب دہ ہونا ہوگا۔

امیر جماعت نے کہا کہ چند خاندانوں، جاگیرداروں، مافیاز، کرپٹ سرمایہ داروں اور استعمار کے ایجنٹوں نے 22 کروڑ عوام کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔ ایٹمی اسلامی پاکستان دنیا میں تماشا بن چکا، قوم کا حکمرانوں اور اداروں پر اعتماد ختم ہو گیا۔ فوجی مارشل لاز اور جمہوری حکومتوں کے تجربات ناکام، مسائل کا حل اسلامی نظام ہے۔ قوم متحد ہو کر ملک میں اسلامی انقلاب کے لیے جماعت اسلامی کا ساتھ دے۔  امیر جماعت اسلامی بلوچستان عبدالحق ہاشمی، نائب امیر صوبہ عبدالکبیر شاکر اور امیر کوئٹہ حافظ نور علی بھی اس موقع پر موجود تھے۔

سراج الحق نے مزید کہا کہ بے انتہا وسائل کے باوجود آج ملک کا کاشتکار،مزدور، دیہاڑی دار، سرکاری ملازم سمیت سب پریشان ہیں۔ مہنگائی میں ہر روز اضافہ اور  روپیہ کی قیمت گر رہی ہے۔ سودی معیشت اور کرپشن نے تباہی پھیلا دی ہے۔ حکمرانوں کی پالیسی قرضہ لو اور ڈنگ ٹپاؤ کے سوا اور کچھ نہیں۔ ہر سال ڈھائی لاکھ نوجوان یونیورسٹیوں سے فارغ ہوتے ہیں، مگر انہیں روزگار نہیں ملتا۔ ڈھائی کروڑ بچے غربت کی وجہ سے اسکولوں سے باہر ہیں، غریب کے لیے اسپتالوں میں علاج نہیں اور عدالتوں میں انصاف نہیں۔پارلیمنٹ اپنی توقیر کھو چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج پی ٹی آئی، پی ڈی ایم اور پیپلزپارٹی کی مرکز اور صوبوں میں حکومتیں ہیں، یہ لوگ سالہاسال سے اقتدار کے مزے لے رہے ہیں اور عوام کو اپنی کارکردگی بتانے کے بجائے مسلسل جھوٹ بول کر گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ قوم کو لڑاؤ اور تقسیم کرو کے ایجنڈے پر گامزن حکمران طبقہ اپنے مفادات کے لیے ہر ظالمانہ کھیل کھیلنے کو تیار ہے۔ حکمرانوں کو سیلاب زدگان کی کوئی فکر نہیں، لاکھوں لوگ خیموں میں بے سہارا پڑے ہیں۔ حکمرانوں نے قوم کو عالمی طاقتوں اور آئی ایم ایف کا غلام بنایا، یہ لوگ بلوچستان کی عوام سے بار بار وعدے کرتے رہے، مگر آج تک ایک بھی پورا نہیں کیا۔

سراج الحق نے کہا کہ گم شدہ افراد کا مسئلہ حل ہوا نہ گوادر کے لوگوں سے کیے گئے معاہدے پر عمل درآمد ممکن ہو سکا۔ گوادر جسے گیم چینجر کا نام دیا گیا وہاں کے عوام بنیادی سہولتوں کے لیے ترس رہے ہیں۔ بلوچستان کی 80فیصد سے زائد آبادی کو پینے کا صاف پانی تک میسر نہیں، صوبے کا نوجوان مایوس ہے۔ جماعت اسلامی بلوچستان کے حقوق کا مقدمہ ہر فورم پر لڑے گی۔ بلوچستان کے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ جاگیرداروں اور سرداروں کے بجائے جماعت اسلامی کا ساتھ دیں۔

امیر جماعت اسلامی پاکستان نے کہا کہ عوام نے ڈکٹیٹروں کی حکومت اور نام نہاد جمہوری ادوار کو دیکھ لیا، مگر ان کے مسائل حل ہونے کی بجائے بڑھتے چلے گئے۔ یہ ملک اسلام کے نام پر بنا مگر گزشتہ 75برس سے یہاں ایک دن بھی اسلام نافذ نہیں ہوا۔ جماعت اسلامی ملک میں اسلامی نظام کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ ہمارا ایمان ہے کہ دین آئے گا تو خوشحالی آئے گی اور بلوچستان سمیت پورا ملک ترقی ، امن اور خوشحالی کا گہوارہ بنے گا۔

انہوں نے کہا کہ عوام آزمودہ سیاسی جماعتوں کو مسترد کر کے جماعت اسلامی کا ساتھ دیں۔ حکمران نااہل ثابت ہو چکے اور بری طرح ایکسپوز ہو گئے ہیں، ان کے پاس مسائل کا کوئی حل نہیں، ان کا واحد مقصد اپنی نسلوں کے لیے مال بنانا ہے، قوم کے مسائل سے انہیں کوئی سروکار پہلے تھا نہ اب ہے۔