سیاست میں تشدد کے نہیں دلیل کے قائل ہیں،پروفیسر ابراہیم

315
violence

پشاور:امیر جماعت اسلامی خیبرپختونخوا پروفیسر محمد ابرہیم خان نے سابق وزیراعظم عمران خان پر فائرنگ اور حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم سیاست میں تشدد کے نہیں دلیل کے قائل ہیں۔

پروفیسر محمد ابراہیم خان کا کہنا تھا کہ ہم بھی عمران خان کے لانگ مارچ کی حمایت نہیں کرتے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان پر فائرنگ کی جائے،صوبائی اور وفاقی حکومتیں واقعہ کی تحقیق اور تفتیش کرے اور ذمہ داروں کو سخت سزا دے، تمام جماعتیں عوام کو ان کے حقوق دیں اور ان کی رائے زبردستی بدلنے کی کوشش نہ کریں، ملاکنڈ ڈویژن کے حقوق کے تحفظ کے لیے تحریک شروع کررہے ہیں،ملاکنڈ ڈویژن کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا تھا لیکن حکومت ٹیکسوں کا ظالمانہ نظام لگانا چاہ رہی ہے،ملاکنڈ ڈویژن میں بجلی پیدا ہوتی ہے لیکن گولین گول کی بجلی چترال کے عوام کو نہیں دی جا رہی، حکومت صوبے کے حقوق غصب کررہی ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ جماعت اسلامی عوام میں بیداری اور شعور کے لیے ملاکنڈ ڈویژن کی تمام سیاسی جماعتوں، تاجروں، مزدوروں، وکلاء کی تنظیموں اور مؤثر شخصیات کو شریک کرکے ایک بڑی عوامی تحریک شروع کررہی ہے، ہمارا مقصد اللہ کی زمین پر اللہ کے نظام کا قیام ہے اور اس کے لیے مسلسل جدوجہد کررہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے جامعہ عالیہ احیاء العلوم بلامبٹ میں جماعت اسلامی دیر پائین کے ماہانہ تربیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تربیتی اجتماع سے امیر ضلع اعزاز الملک افکاری اور دیگر ذمہ ڈاران نے بھی خطاب کیا۔

پروفیسر محمد ابرہیم خان کا مزید کہنا تھا کہ ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکسوں کا نظام معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ ملاکنڈ ڈویژن بشمول سابقہ فاٹا میں ٹیکسوں کا نظام نہیں لگایا جائے گا لیکن حکومت اپنے وعدوں اور معاہدوں سے پِھر رہی ہے۔ ہماری جدوجہد اللہ کے دین اور قرآن و سنت کے لیے ہے۔ آئین میں قرآن و سنت کے جو احکام درج ہیں اسے فوری نافذ کیا جائے اور اس میں اگر کچھ کمیاں ہیں تو انھیں دور کرنے کی کوشش کی جائے۔