ایون فیلڈ ریفرنس کا تفصیلی فیصلہ: مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزا بلا جواز قرار

212

اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس پر تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے احتساب عدالت کا 6جولائی 2018 کا فیصلہ کالعدم قرار دیکر اپیلیں منظور کرلیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل بینچ  پر ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت ہوئی جس میں مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی بریت کا تفصیلی فیصلہ جاری ہوا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 41 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں کہا کہ نیب مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے خلاف کیس ثابت کرنے میں ناکام رہا لہذا احتساب عدالت کا چھ جولائی 2018 کا فیصلہ کالعدم اور اپیلیں منظور کی جاتی ہیں۔

عدالت نے 29 ستمبر 2022 کو بریت کا مختصر فیصلہ سنایا تھا، فیصلے میں عدالت نے کہا کہ مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزا بلا جواز تھی۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ واجد ضیا ، ڈی جی نیب اور تفتیشی افسر کے بیان سے معلوم ہوا نیب نے تفتیش کی کوشش ہی نہیں، تفتیش میں نیب کا کردار مایوس کن رہا۔ ججز نے فیصلے میں کہا کہ سپریم کورٹ نے کیس نیب کو بھیجا اور خود بھی تفیش کرنے کا کہا تھا لیکن نیب اس کیس میں بارے ثبوت ملزمان پر منتقل ہی نہیں کرسکا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ معلوم ذرائع آمدن کا مطلب تفتیش سے آمدن کے ذرائع کا پتا لگانا تھا، لیکن بیانات سے معلوم ہوا کہ صرف جے آئی ٹی رپورٹ پر انحصار کیا گیا اور  اس رپورٹ سے ہی حتمی رائے قائم کی گئی۔