کراچی سے ووٹ لینے والوں نے ہی عوامی مینڈیٹ کا سودا کیا، حافظ نعیم الرحمن

164

کراچی: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ کراچی کے عوام کی بڑی بد قسمتی ہے کہ یہاں سے بھاری مینڈیٹ لینے والوں اور اس مینڈیٹ سے وفاق اور صوبے میں بننے والی حکومتوں نے ہی ان کا استیصال کیا۔ عوام کے ارمانوں کا خون اور عوامی مینڈیٹ کا سودا کیا۔

وفاقی وزیر آبی وسائل خورشید شاہ کی جانب سے 200ارب روپے کی لاگت سے K-4منصوبے پر کام کے جاری ہونے اور اس کی تکمیل سے پانی کے مسئلے کے حل کی نوید سنانے پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتےہوئے حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ نعمت اللہ خان ایڈووکیٹ نے اپنے دور میں اہل کراچی کے لیے 100ملین گیلن یومیہ پانی کے منصوبے K-3کو مکمل کرکے مزید پانی کے لیے 650ملین گیلن یومیہ کا منصوبہ K-4شروع کیا جس کی لاگت اس وقت تقریباً25ارب روپے تھی۔

انہوں نے کہا کہ K-4منصوبہ اگر وقت پر مکمل ہو جاتا تو کراچی میں پانی کا مسئلہ جو اس وقت سنگین صورتحال اختیار کر چکا ہے برسوں قبل حل ہو جاتا اور تخمینے کے مطابق لاگت لگنے سے قومی خزانے کو بھی اربوں روپے کا نقصان نہ پہنچتا۔  نعمت اللہ خان ایڈووکیٹ کے دور حکومت کے بعد آنے والی سٹی حکومت اور صوبائی حکومت جو ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کی تھی، دونوں نے مل کر K-4کے منصوبے کو دانستہ طور پر التوا کا شکار کیا۔ اس کی تعمیر میں رکاوٹیں پیدا کی گئیں، ڈیزائن تبدیل کیے گئے۔

امیر جماعت نے مزید کہا کہ بعد میں وفاق میں نواز لیگ اور پی ٹی آئی کی حکومتیں برسراقتدار آئیں اور ایم کیو ایم نے سب سے اقتدار اور وزارتوں میں اپنا حصہ وصول کیا، لیکن K-4 منصوبے سمیت کراچی کے کسی میگا پروجیکٹ کو مکمل کرنے کے لیے عملاً کچھ نہیں کیا گیا۔ پی ٹی آئی نے اپنی حکومت میں ایم کیو ایم کے ساتھ مل کر K-4کے منصوبے میں کٹوتی کی۔650ملین گیلن کے منصوبے کو کم کر کے 260ملین گیلن کر دیا اور کراچی کے عوام کے ساتھ بڑا ظلم کیا گیا۔

اپنے بیان میں حافظ نعیم نے کہا کہ کٹوتی شدہ منصوبے کی لاگت کا تخمینہ 120ارب روپے لگایا گیا جس پر مارچ 2022میں کام شروع کر کے 2سال میں مکمل ہو نا تھا مگر سب زبانی جمع خرچ اور عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشیں ہی ثابت ہو ئیں اور اب وزیر آبی وسائل خورشید شاہ فر ما رہے ہیں کہ 200ارب روپے کے اس منصوبے پر کا م جاری ہے اور اس کی تکمیل سے شہر کراچی میں پانی کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہم وفاقی و صوبائی حکومتوں سے واضح اور دو ٹوک کہتے ہیں کہ کراچی کے عوام کو اب کہانی نہیں پانی چاہیے۔ عوام کو مزید بے وقوف بنانے کا سلسلہ بند کیا جائے۔14سال سے پیپلز پارٹی سندھ پر حکومت کر رہی ہے اور اب وفاق اور صوبہ ایک پیج پر ہیں۔ دونوں جگہ اتحادی جماعتوں کی حکومت ہے اور ایم کیو ایم بھی حسبِ سابق آج بھی حکومت کا حصہ ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ کراچی کے عوام کا پانی کا سنگین اور دیرینہ مسئلہ حل کیا جائے اور K-4منصوبہ اس کی اصل گنجائش 650ملین گیلن یومیہ کے مطابق فی الفور مکمل کیا جائے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ماضی میں بھی جماعت اسلامی ہی نے کراچی کے عوام کی خدمت کی تھی اور آئندہ بھی ہم ہی عوام کے مسائل حل کریں گے۔ نعمت اللہ خان ایڈووکیٹ نے کراچی کی تعمیر و ترقی کا سفر جہاں چھوڑا تھا، جماعت اسلامی کا میئر اس سفر کو وہیں سے شروع کرے گا۔ ہمارا میئر تعمیر وترقی کے ادھورے سفر کو ضرور مکمل کرے گا اوروفاقی و صوبائی حکومتوں سے اہل کراچی کا جائز اور قانونی حق لے گا۔