خواتین کے حقوق کا دعویٰ کرنیوالی جماعتوں نے سب سے زیادہ حقوق غصب کیے، حافظ نعیم

212

امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ خواتین کے حقوق کا دعویٰ کرنے والے جماعتوں نے خود سب سے زیادہ خواتین کے حقوق غصب کیے ہیں۔

باغ جناح گراؤنڈ میں خواتین کے عظیم الشان عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کراچی کے حقوق کی تحریک دینی ذمے داری ہے، جسے ہم سب مل کر پورا کر رہے ہیں۔ آج کے کنونشن میں کراچی کی خواتین بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نااہل حکمرانوں نے عوام کو غلام ابن غلام بنالیا ہے۔ انگریزوں کا عطا کردہ جاگیردارانہ نظام ملک پر مسلط ہے۔ 75 سال سے وڈیرے اور جاگیردار پورے ملک کو جاہل بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔

امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ سندھ کے دیہاتوں میں خواتین کو غلام بنایا جاتا ہے ان کو ان کے حقوق نہیں دیے جاتے۔ جماعت اسلامی کی تحریک ظلم اور جبر کے نظام کے خلاف تحریک ہے۔ ہم پاکستان کو اس کے اصلی نام سے ہمکنار کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ اسلامی شریعت نے سب سے زیادہ حقوق خواتین کو دیے ہیں جب کہ  خواتین کے حقوق کا دعویٰ کرنے والی جماعتوں نے سب سے زیادہ خواتین کے حقوق غضب کیے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو اسلامی نظام کے خلاف لوگوں کو ڈراتے ہیں کہ اسلام آگیا تو عورتوں کو قید کرلیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ جو بڑی تعداد میں کنونشن میں آئی ہیں۔ جماعت اسلامی ہر اس پاکستانی کی جماعت ہے جو پاکستان سے محبت کرتا ہے۔ میں کراچی کے ہر شعبہ زندگی سے وابستہ افراد کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ جماعت اسلامی کی تحریک کا حصہ بنیں۔ پورے پاکستان میں پونے 2 کروڑ خواتین ملازمتیں کرتی ہیں۔ ڈیڑھ کروڑ خواتین میں سے 20 فیصد خواتین ایسی ہیں جو تعلیم حاصل نہیں کر سکتیں۔ تعلیم مہنگی سے مہنگی ہوتی جارہی ہے، سرکاری سطح پر تعلیم کا کوئی نظام ہی موجود نہیں ہے۔ جماعت اسلامی نے عزم کیا ہے کہ ہم اپنے بچوں کو پڑھائیں گے اور آگے بڑھائیں گے۔

کراچی میں بلدیاتی انتخابات کے التوا سے متعلق بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت بلدیاتی انتخابات جتنی بار ملتوی کرے گی، ہم ان کا مزید تعاقب کریں گے۔ جماعت اسلامی کا مئیر آئے گا تو شہر میں ماڈل اسکولز بنائے جائیں گے۔ ہم ایسے تعلیمی ادارے بنائیں گے، جس میں امیر اور غریب تمام لوگ اپنے بچوں کو پڑھائیں گے۔ جماعت اسلامی اور الخدمت نے بنو قابل پروگرام کا آغاز کیا ہے۔ کراچی کے نوجوانوں نے کراچی ہی کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے دروازے بند کررکھے ہیں۔

حافظ نعیم نے اعلان کیا کہ پہلے مرحلے میں آئی ٹی کی اسکالر شپ شروع کی ہے۔ آئی ٹی کورسز کروانے کے  بعد ملازمتیں بھی دلوائیں گے۔ ابتدائی طور پر لڑکوں کا ٹیسٹ لیا گیا یے اور اب دوسرے مرحلے میں  لڑکیوں کا ٹیسٹ کروائیں گے۔ خواتین کو آئی ٹی کورسز کروانے کے بعد گھر بیٹھے آمدنی کا انتظام کروائیں گے۔  75 سال سے جاگیرداروں اور وڈیروں کا ٹولہ ہم پر مسلط ہے۔ کراچی میں ہزاروں خواتین ٹھیکیداری نظام کے تحت کام کرتی ہیں۔ شہر کراچی پورا پاکستان چلاتا ہے،  اسے اون کرنے کے لیے کوئی تیار نہیں ہے۔ اس ظلم کے خلاف سب کو اٹھنا ہوگا۔

امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ نعمت اللہ خان نے کراچی کے لیے 362 بسیں چلائیں، لائٹ ٹرین کا منصوبہ پیش کیا۔ کراچی کی مائیں بہنیں باعزت ٹرانسپورٹ مانگ رہی ہیں۔ کراچی کی خواتین امن و امان اور تحفظ مانگ رہی ہیں۔ بھاری بھاری مینڈیٹ لینے والی جماعتوں نے سب سے زیادہ استحصال خواتین ہی کا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں سلام پیش کرتا ہوں کہ کراچی کی خواتین نے کے الیکٹرک کے خلاف تاریخی دھرنا دیا۔ کراچی کے حقوق کے لیے 29 دن دھرنا دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ حقوق کراچی تحریک پورے پاکستان کی تحریک ہے۔ کراچی کی مائیں بہنیں حق دو کراچی کو تحریک گلی گلی محلے میں از سر نو شروع کریں۔ ہم اپنی تحریک کو آگے بڑھائیں گے اور سندھ حکومت سے اپنا حق ہر صورت میں حاصل کریں گے۔ انتخابات بھی کروائیں گے اور شہریوں کو ان کو حقوق بھی دلوائیں گے۔