رجیم چینج کے بینی فشری کون

242

جب سے پاکستان میں رجیم چینج لائی گئی ہے۔ عام آدمی کے لیے زندگی کے دن گزارنا مشکل سے مشکل تر ہوتے جا رہے ہیں، اخراجات آسمانوں پر پہنچ گئے ہیں، روز مرہ کے اخراجات بڑھتے ہی جا رہے ہیں، جبکہ آمدن کے ذرائع سکڑتے ہی چلے جا رہے ہیں۔ پتا نہیں پاکستان میں کیا قیامت آنے والی تھی جو ہستی بستی حکومت کو چلتا کیا گیا اور پرانے لوگ نئے لباسوں میں ہم پر پھر مسلط کر دیے گئے۔ مہنگائی کا ڈراما رچا کر موجودہ حکمرانوں کو اقتدار سونپا گیا جو کم ہونے کے بجائے اور زیادہ ہو گئی بلکہ آج ہی بیگم بتا رہی تھیں کہ پیاز ڈیڑھ سو روپے کلو ہو گئی ہے۔ بجلی کے بلوں، پٹرول ڈیزل کے اخراجات کا تو سوچ کر ہی دل کی دھڑکن بے قابو ہو جاتی ہے۔
ہمارے ہاں مشہور ہے کہ کسی بھی قتل کے مقدمے کی تفتیش کے دوران پولیس کا سب سے زیادہ دھیان اور توجہ اس بات پر ہوتی ہے کہ بینی فشری کون ہے۔ یعنی اس قتل کا فائدہ سب سے زیادہ کس کو ہوا۔ اور اکثر اوقات اس نکتے سے اصل ملزم مل جاتے ہیں۔ اس نکتے کو ذہن میں رکھتے ہوئے اگر ہم رجیم چینج کو ذرا باریک بینی سے دیکھیں تو ہمیں فائدہ اٹھانے والے درج ذیل لوگ ملتے ہیں۔
1۔ اس سے سب سے زیادہ فائدہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی لیڈر شپ کو ملا کہ جنہوں نے نیب جیسے ادارے کو لگام ڈال کر اپنے تمام بڑے بڑے مقدمات جو زیادہ تر انہوں نے خود ہی ایک دوسرے کے خلاف بنائے ہوئے تھے ختم کروا لیے۔ اپنی مرضی کی قانون سازی کروا لی، اپنے خلاف گواہان کو ٹھکانے لگا لیا، پاسپورٹ حاصل کر لیے بیرون ملک جانے کی پابندیاں ختم کروا لیں۔ محرم سے مجرم کے بجائے مجرم سے محرم بن گئے۔ اشتہاری ملزمان اقتدار کے ایوانوں کے مزے لینے کے ساتھ ساتھ سرکاری اخراجات پر دنیا بھر کی سیر اور عیاشیاں کررہے ہیں۔
2۔ بیرونی دشمنوں کو فائدہ پہنچا کہ جو کبھی کسی بھی حال میں پاکستان کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے نہیں دے سکتے، جو نا مارنا چاہتے ہیں نا جینے دینا چاہتے ہیں۔ جو قرض کی واپسی کے بجائے ہمیں قرض کے لیے بھیک مانگتا ہی رکھنا چاہتے ہیں۔
3۔ کچھ اداروں کے سربراہان کو فائدہ پہنچا کہ ان کی سپرمیسی کو جو داغ لگ رہے تھے وہ صاف ہوئے۔ ان کی انا کو جو ٹھیس پہنچا رہے تھے ان کو سبق مل گیا اور وہ یہ ثابت کرنے میں کامیاب رہے کہ سب کچھ ہم ہی ہیں جو چاہیں جب چاہیں کریں، جسے چاہیں چیریں پھاڑیں کھائیں۔ قانون بھی ہم، عدالت بھی ہم، فیصلے بھی ہمارے۔
4۔ پھر پاکستان تحریک انصاف کو فائدہ ہوا، جس کی ساکھ مہنگائی کی وجہ سے بری طرح متاثر ہو رہی تھی، پرائے کیا ان کے اپنے ورکر خاصے پریشان تھے ان کو تو جیسے کبڑے کو لات پڑ گئی۔ عوامی پزیرائی جتنی اس وقت کپتان کو مل رہی ہے شاید ہی پاکستان کی تاریخ میں کسی کو ملی ہو۔ پنجاب جہاں لوگ میاں نواز شریف کے دیوانے تھے وہاں اب ہر جگہ کپتان کے نعرے لگ رہے ہیں۔ سیاست دان جو مسلم لیگ ن کے ٹکٹ کے لیے مارے مارے پھرتے تھے وہ اب پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ اپنی حکومت کے باوجود پی ٹی آئی ضمنی انتخابات بری طرح ہار رہی تھی مگر اب جو بھی جہاں بھی ملک بھر میں ضمنی الیکشن ہو پی ٹی آئی کا نمائندہ بھاری اکثریت سے جیت رہا ہے۔ سیاسی طور پر پی ٹی آئی ملک بھر میں پہلے سے کئی گنا زیادہ مضبوط نظر آ رہی ہے۔
جہاں تک بات اس رجیم چینج سے نقصان کس کا ہوا ہے تو وہ سب سے زیادہ بے چارے عوام کا کہ جس کی بہتری کا نعرہ لگا کر سب کچھ کیا جاتا ہے اور اسے سوائے نعروں کے کچھ حاصل نہیں ہو پاتا۔ دن بدن جس کے حالات ابتر سے ابتر ہوتے ہی چلے جا رہے ہیں۔ جی بے بس اور لاچار عوام کا کہ جو لیڈران اور انتظامیہ کے نخرے اٹھا اٹھا کر اب تقریباً نڈھال ہوئے جا رہی ہے۔ جسے کبھی ایک قوم ایک قوت بننے ہی نہیں دیا جاتا۔ بڑے بڑے دانشور سفید کو کالا اور کالے کو سفید بنا کر کچھ اس طرح عوام کو دکھاتے ہیں کہ وہ بے چارے آپس ہی میں ہر وقت دست و گریباں رہتے ہیں۔ جو نفسی نفسی کے اب ایسے چکر میں پھنس چکی ہے کہ اسے کچھ دکھائی دیتا ہی نہیں اگر کچھ دیکھنے کی ہمت کرے تو آٹا دال چینی کے بہاؤ اور بجلی کے بل اس کی ساری ہمت کو پھر سے چکنا چور کر دیتے ہیں۔
دوسرا بڑا نقصان پاکستان کے ان اداروں کو ہوا ہے جو وحدت کی پہچان تھے، جن کے وجود سے پاکستان کی بقا جڑی ہوئی ہے، جہاں سے پسے ہوئے عوام کو کچھ خیر کی توقع لگی رہتی تھی۔ ایسے تمام اداروں پر سے عوام کے اعتماد کو متزلزل کر دیا گیا ہے جو وحدت کی علامت تھے۔
خدا راہ اب رحم کرو اور ڈرو اس وقت سے جب حاضری ہو گی مالک حقیقی کے سامنے جہاں قانون بھی اس کا عدالت بھی اس کی اور انصاف بھی اس کا اور اس سے بڑھ کر کوئی انصاف دے نہیں سکتا۔ جہاں بادشاہ اور فقیر ایک ہی ترازو میں تولے جائیں گے۔ جہاں نا مال نا اولاد کام آئیگی، کام آئیں گے تو بس دنیا میں کیے گئے اعمال ہی کام آئیں گے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب پر رحم فرمائے۔