پیدائش سے قبل بچوں کے اعضا میں آلودگی کے ذرات، ماہرین

267

اسلام آباد: دوران حمل ماں کے جسم سے ہوکر فضائی آلودگی کے ذرات بچے کے اندرونی اعضا تک پہنچ جاتے ہیں۔

یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ درحقیقت یہ پہلی بار ہے جب پیدا ہونے سے پہلے ہی بچوں کے پھیپھڑوں، جگر اور دماغ میں فضائی آلودگی کے ذرات کو دریافت کیا گیا۔ محققین کے مطابق یہ دریافت تشویشناک ہے کیونکہ حمل کے دوران ماں کے پیٹ میں موجود بچے جسمانی طور پر سب سے زیادہ کمزور ہوتے ہیں۔

 اسکاٹ لینڈ کی ابرڈین یونیورسٹی اور بیلجیئم کی ہاسیلٹ یونیورسٹی کی تحقیق میں 60 ماں اور ان کے نومولود بچوں کو شامل کیا گیا تھا۔ محققین نے حمل کے بعد 7 سے 20 ہفتوں کے ایسے بچوں کے ٹشوز کے نمونوں کا تجزیہ بھی کیا جو بدقسمتی سے اسقاط حمل کے باعث مر گئے تھے۔

 ماہرین نے خواتین کے خون کے نمونوں میں ماں سے بچے تک جانے والی نالی میں کاربن کے ذرات کو دریافت کیا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ ذرات بچے تک پہنچ سکتے ہیں۔

 یہ ذرات تمام ماں اور نومولود بچوں میں دریافت کیے گئے اور معلوم ہوا کہ حمل کے دوران جتنی فضائی آلودگی کا سامنا ماں کو ہوتا ہے، اتنے زیادہ ذرات بچے میں پہنچ جاتے ہیں۔

 اسقاط حمل کے باعث ہلاک ہونے والے بچوں کے نمونوں میں بھی جگر، پھیپھڑوں اور دماغ میں بھی ان ذرات کی موجودگی ثابت ہوئی۔