علامہ یوسف القرضاوی کا سانحہ ارتحال

224

گزشتہ دنوں عالم اسلام کے ممتاز عالمِ دین اور دانشور علامہ یوسف القرضاوی 96 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔ آپ الاتحاد العالمی الاسلامی کے پہلے صدر بھی تھے۔ آپ نے الاخوان المسلمون سے نظریاتی وابستگی کی پاداش میں جمال عبدالناصر کے دورِ آمریت میں قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔ آپ کہتے تھے کہ امریکا دوسرا اسرائیل بن چکا ہے، وہ اسرائیل کی مدد اور اسے رقم و اسلحہ اس لیے فراہم کرتا ہے تاکہ فلسطینیوں کو ختم کیا جاسکے۔ آپ کئی بلندپایہ کتب کے مصنف تھے، آپ کی اسلامی نظام اور قوانین سے متعلق کئی کتابوں نے عالمی شہرت حاصل کی ہے۔ ’’حلال و حرام‘‘ آپ کی فقہ سے متعلق اہم کتاب ہے۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے ان کی وفات پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور غائبانہ نماز جنازہ کے موقع پر کہا کہ ’’آج پوری امتِ مسلمہ شیخ القرضاوی کے لیے سوگوار ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی اسلام، تعلیم، اسلامی دعوت اور ملّتِ اسلامیہ کے مقاصد کے دفاع کے لیے وقف کی‘‘۔ آپ کا انتقال عالمِ اسلام اور اسلامی تحریکوں کا بڑا نقصان ہے کہ مسلم امہ ایک عظیم مجدد اور مجتہد سے محروم ہوگئی ہے۔