علامہ یوسف القرضاوی کی وفات عالم اسلام کا بڑا نقصان ہے۔تحریک حریت جموں کشمیر

264

سرینگر: تحریک حریت جموں کشمیر  نے  علامہ یوسف القرضاوی کی وفات کو عالم  اسلام کا بڑا نقصان قرار دیتے ہوئے انہیں شاندار الفا ظ میں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔

ترجمان تحریک حریت جموں کشمیر   نے ایک بیان میں کہا ہے کہ :فقیہ زماں اسلامی تحریکوں کے روح رواں، عظیم مجتہد، مایہ ناز محقق، نامور مصنف،بے بدل مربی و استاد، عالم اسلام کے بطل جلیل علامہ یوسف القرضاوی 26ستمبر 2022کو اپنے آ خری سفر پر روانہ ہوئے۔

اناللہ و انا الیہ راجعون  حسن البنا کی شخصیت اور دعوت سے متاثر یوسف القرضاوی اعلائے کلمتہ اللہ، حق کی تائید و حمایت اور باطل کی سرکوبی کے لیے جدوجہدکرتے رہنے کا جو عہد ابتدائی زندگی میں کیا، اپنے اسلاف کی طرح آ خری سانس تک وہ وعدہ نبھاتے رہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مختلف سالوں میں ستمبر کے مہینے میں ملت اسلامیہ کے مختلف مایہ ناز عالم دین واکابرین،مفکرین و شہید اس دنیاسے رخصت ہوئے۔

جن میں امام بخاری یکم ستمبر،  ابن تیمیہ 22ستمبر،سید علی گیلانی ستمبر،وغیرہ بھی شامل ہیں۔ ان حضرات کی پوری زندگی جدوجہد، اقامت دین،دعوت دین،باطل سے کشمکش سے عبارت تھی۔یہ سب کے سب گوہر نایاب تھے۔

یوسف القرضاوی 1926میں پیدا ہوئے تو 1949یعنی  23سال کی عمر میں ہی آپ کو حق پسندی کی پاداش میں وقت کے ظالم حکمرانوں کے ہاتھوں قید ہونا پڑا س کے بعد بھی آ پ وقتا فوقتا ظالم حکمران کی آنکھوں حق گوئی و حق پسندی کی پاداش میں کھٹکتے رہے۔

جس کے نتیجے میں آ پ کے لیے مختلف مواقعوں پر جیل کے دروازے کھولے گئے۔ لیکن یہ تعذیب خانہ حسن البنا و سید مودودی کی تحریک و دعوت سے متاثر اس مرد حق کو مرد قلندر اور قلم کے بادشاہ کو جھکانے میں کامیاب نہ ہوسکے۔

آ پ آ خری سانس تک اسلام اور حق پسندی کی گواہی نہ صرف اپنی تحریروں سے دیتے رہے۔ بلکہ اپنی تقریروں کے ذریعے سے بھی اپنی زبان کو اسلام و حق گوئی سے ترکرتے رہے۔ غرض مرتے دم تک اسلام کے مشن کی آ بیاری کرتے رہے۔

  عالامہ یوسف القرضاوی نے اپنی پوری زندگی کو علمی کاموں کے لیے وقف کی تھی اور تحریکی افراد کے لیے فکری غذا تیار کرتے رہے۔

آ پ کی گراں قدر تصنیفات تقریبا دو سو ہیں۔ جن میں فتاوی حلال و حرام، دین میں ترجیحات، سیکولرزم، دین اور سیاست،فقہ الصلوا، فقہ الزکوا وغیرہ شاہکار کی حیثیت رکھتی ہیں۔

آ پ کو اپنی علمی وسعت اور گہرائی کی وجہ سے دنیا بھر میں مجتہد، مجدد اور مفکر کی حیثیت سے یا د کیا جاتا  ہے۔

آ پ کے انتقال سے ملت اسلامیہ ایک دردمند دل رکھنے والے اور روحانی پیشوا سے محروم ہوگئی اورایک علمی شخصیت  سے یتیم ہوگئی۔

کیونکہ اس پایہ کا علم دین اور مفکر ملت شائد ہی اس وقت دنیا میں موجود ہے۔ علمی دنیا سے آ پ کے جانے سے ایک ایسا خلا پیدا ہوا جس کی برپائی موجودہ دور میں ناممکن ہے۔

لھذا  تحریک حریت جموں کشمیر   انہیں شاندار الفا ظ میں خراج عقیدت پیش  کیا ہے کرتی اور اللہ تعالی سے دعا کرتے ہیں کہ پوری ملت اسلامیہ کو یہ صدمہ برداشت کرنیکی  توفیق عطا فرمائے۔