کراچی میں بلدیاتی انتخابات 16اکتوبر کوکرائے جائیں، حافظ نعیم  کا مطالبہ

229

کراچی:امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی میں بلدیاتی انتخابات 23اکتوبر کے بجائے 16اکتوبر کو اور ضمنی انتخابات اس کے بعدکروائے جائیں،آئین کے آرٹیکل 245کے تحت پولنگ اسٹیشنز پرفوج اور رینجرز کے اہلکاروں کو تعینات کیا جائے تاکہ شہری آزادانہ طریقے سے الیکشن میں حصہ لے سکیں۔

ادارہ نور حق میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی 2اکتوبر کو نیو ایم اے جناح روڈ پر عظیم الشان اور تاریخی ”ورکرز کنونشن“کرے گی،امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کنونشن میں خصوصی شرکت کریں گے،کے الیکٹرک کے بلوں میں کے ایم سی میونسپل ٹیکس اور جعلی فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز سمیت  دیگر ناجائز ٹیکسوں کی وصولی کے خلاف6روزہ عوامی ریفرنڈم کو عوام کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی ہے۔

امیر جماعت اسلامی کراچی کا کہنا تھا کہ  ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے، اب تک کی گنتی کے مطابق 2ملین سے زائد شہریوں نے ووٹ کاسٹ کیا اور 99فیصد شہریو ں نے تمام ناجائز ٹیکسوں کو مسترد کرتے ہوئے کے الیکٹرک کے لائسنس کو منسوخ اور فرانزک آڈٹ کرانے، کلاء بیک کے 50ارب روپے عوام کو واپس دلوانے اور کے الیکٹرک کے سہولت کاروں کو بے نقاب کرنے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہاکہ گنتی کا عمل مکمل ہونے کے بعدعوامی رائے کو عدالت عالیہ میں بھی پیش کریں گے اور آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔مسلح ڈکیتیوں، لوٹ مار، موٹر سائیکل اورموبائل چھیننے کی وارداتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں، سندھ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کی روک تھام اور عوام کی جان و مال کے تحفظ میں ناکام ہو گئے ہیں،عوام میں شدید بے چینی و اضطراب اور احساس عدم تحفظ پیدا ہو رہا ہے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کراچی میں جب تک مقامی لوگوں کو پولیس میں بھرتی نہیں کیا جائے گا یہ مسائل حل نہیں ہوں گے۔ادویات کی قیمتوں میں اضافہ عوام پر ایک اور ظلم ہے جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔

حافظ نعیم الرحمن نے مزیدکہاکہ آج کل ملک میں سیاسی افراتفری ہے،مختلف آڈیوزاور ویڈیوز لیک ہورہی ہیں،پاکستان کا ایک بہت بڑا حصہ اس وقت سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے،سیلاب متاثرین کے لیے سب سے موثر کام الخدمت اور جماعت اسلامی نے کیا ہے،اگرکراچی میں الیکشن کی بات کی جائے تو وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کہتے ہیں کہ مجھے اتنی پریشانی سیلاب زدگان کی گالیاں سن کرنہیں ہوتی جتنی الیکشن کا نام سن کر ہوتی ہے،ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ سندھ میں بلدیاتی الیکشن میں اتنی تاخیر کیوں ہوئی،سیلاب تو ابھی دو مہینے پہلے آیا ہے پہلے آپ نے دو ڈھائی سال کیوں گزاردیئے تھے؟عوام کو ان کے جمہوری و آئینی حقوق سے کیوں محروم رکھا ہواہے؟

حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ پیپلزپارٹی نے سیاسی بنیادوں پر غیر قانونی وغیر جمہوری ایڈمنسٹریٹر کا تقرر کیا تھا جو بری طرح ناکام ہوگئے وہ تین ارب روپے کا ٹیکس وصول کرنے کے لیے پریشان ہوتے رہے لیکن وہ اپنی ہی سندھ حکومت سے یہ نہیں پوچھ سکے کہ پی ایف سی ایوارڈ سے کراچی کو اس کا حصہ کیوں نہیں د یا جارہا اوراسی طرح موٹر وہیکل ٹیکس کے جو 70،80ارب روپے بنتے ہیں اس کا حساب بھی نہیں مانگ سکے، مرتضیٰ وہاب صرف اور صرف کے الیکٹرک کو نوازنے کے لیے تین ارب روپے کے ایم سی چارجز لگانے کے لیے وہ بہت پریشان ہورہے ہیں اور اس پر وہ اتنے دکھ کا اظہار کررہے ہیں کہ جیسے سارا بجٹ ہی ختم ہوگیا۔