آڈیو پھر لیک ہوگئی

357

ایک اور آڈیو لیک ہوگئی۔ کیا فرق پڑا… اب سے کوئی تیس برس قبل ایک پاکستانی سیاستدان کی آڈیو لیک ہوئی تھی۔ جس میں وہ رہنما کراچی میں اپنے کارکنوں کو ہدایات دے رہے تھے کہ میں پرامن احتجاج کی بات کرتا ہوں لیکن خبر میں پوری ہدایات ہوتی ہیں کہ ورنہ… یہ یہ اور ایسا ایسا ہوجائے گا۔ ہوجائے گا نہیں کارکنوں کو کرنا ہے۔ یہ آڈیو نہ صرف ریکارڈ ہوئی بلکہ پورے شہر اور ملک میں گشت کرتی رہی۔ اس آڈیو کا نتیجہ یہ ہوا کہ جس کی آڈیو تھی وہ آج بھی لندن میں پرتعیش زندگی گزار رہا ہے اور کراچی و حیدر آباد میں تیس ہزار سے زائد مہاجر جان سے گئے۔ یہ ایک آڈیو کی قیمت تھی۔ یہ آڈیو ریکارڈ کرنے کے شبہے میں کئی لوگوں کو نشانہ بنایا گیا۔ سر راہ گولیاں ماری گئیں۔ لیکن آڈیو والے کا کچھ نہیں بگڑا۔ ملک ریاض صاحب کی ویدیو لیک ہوگئی ان کا کچھ نہیں بگڑا، عوام کے لیے ان سے پلاٹ فائل اور پیسے نکلوانا مزید دشوار ہوگیا۔ پاک فوج کے اعلیٰ افسر کی آڈیو لیک ہوئی ان کو نقصان نہیں پہنچا۔ مریم نواز، شہباز شریف اور دیگر کی آڈیو لیک ہوئی تو اب کیا ہوگا۔ جناب اب بھی ان کو کچھ نہیں ہوگا۔ برسوں سے سیاسی رہنمائوں اور بڑے لوگوں کی آڈیو اور ویڈیو لیک ہورہی ہیں ان کا کچھ نہیں بگڑا۔ سابق چیئرمین نیب تمام تر ویڈیو اسکینڈل کے باوجود خود باعزت سبکدوش ہوگئے۔ ملک میں احتساب کے نظام کا بیڑا غرق ہوگیا۔
یہ جو بھارت سے پاور پلانٹ منگوانے کی آڈیو لیک ہوئی ہے اگر واقعی ایسا ہے تو کیا فرق پڑتا ہے۔ بھارت سے گٹکا، چھالیہ، کپڑے، گائیں، بھینسیں، جیولری اور دیگر ممنوع اشیا اسمگل ہو کر آتی ہیں۔ پہلے تو بلیو فلمیں اور ہندوستانی فلموں کے کیسٹ بھی آجاتے تھے اب یہ سب کچھ انٹرنیٹ پر آتا ہے اور کیبل آپریٹر دن رات اسے چلاتے ہیں۔ آڈیو لیک سے کیا ہوگا۔ زیادہ سے زیادہ جو پاور پلانٹ مریم نواز کے داماد نے منگوالیا ہے اور آدھا رہ گیا وہ نہیں آئے گا۔ تو نقصان کس کا ہوگا۔ وہ تو بزنس مین ہے اس کا نقصان نہیں ہوگا کہیں سے پورا کرے گا۔ لیکن پلانٹ لگنے سے عوام کو کچھ تو فائدہ ہوجاتا۔ آڈیو لیک کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ جس طرح عمران خان کو پتا تھا کہ وہ انتخاب جیت رہے ہیں اور وہ وزیراعظم بنائے جائیں گے اسی طرح انہیں یہ بھی پتا ہے کہ آڈیو لیک کی ابھی مزید قسطیں آئیں گی۔ کیا وہ خود آڈیو لیک کروارہے ہیں۔ یہ غیر ذمے دارانہ بات انہوں نے کیوں کہی۔ آڈیو لیک پر تحقیقاتی کمیٹی بھی بن گئی ہے اب وہ تحقیقات کرے گی۔ میڈیا کو نیا جھنجھنا دے دیا گیا ہے۔ اب صبح شام آڈیو، آڈیو ہوگا۔ اب تحقیقات ہوگی، نئے انکشافات ہوں گے۔
ان سب باتوں کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ ہے کہ آڈیو کس نے لیک کی۔ اس کے مقاصد کیا ہیں۔ اگر وکی لیکس کی طرح یہ آڈیو لیک ہوتی تو پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی اور دیگر جماعتوں کے لوگوں کی ریکارڈنگ بھی ہونی چاہیے تھی۔ اس لیے شبہہ جاتا ہے کہ یہ حکومت مخالف لوگوں کی کارستانی ہے جس طرح عمران خان کہہ رہے ہیں کہ ابھی اور بھی آڈیو لیک ہوں گی اسی طرح آڈیو لیک ہوتے ہی فواد چودھری نے اعلان کردیا کہ ڈارک ویب پر آڈیو برائے فروخت ہے۔ وہ اشتہار دے رہے تھے یا اطلاع دونوں صورتوں میں سابق وزیراطلاعات سے یہ پوچھا جانا ضروری ہے کہ ان کے پاس یہ اطلاع کہاں سے آئی کہ یہ ڈارک ویب پر برائے فروخت ہے۔ کیا وہ ڈارک ویب پر روزانہ کلک کرتے ہیں۔ مسلم لیگ کے قریبی حلقوں کا خیال ہے کہ آڈیو لیک میں آئی بی کے اہلکار ضرور ملوث ہوں گے۔ اب یہ کھنگالا جارہا ہے کہ آئی بی میں عمران خان کے دور میں کون کون پرائم منسٹر ہائوس میں تعینات ہوا۔ لیکن ایک سادہ سا فارمولا ہے کہ کسی بھی جرم کے بعد تفتیش کرنے والے یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ جرم سے فائدہ کس کو ہورہا ہے۔ اس آڈیو لیک سے تو فوراً پی ٹی آئی ہی کو فائدہ ہوتا نظر آرہا ہے۔ سب نے توپیں کھول دی ہیں کہ مسلم لیگ ملک کو نقصان پہنچا رہی تھی، حالاں کہ کبھی ملک کو نقصان پہنچانے والوں کے بارے میں جائزہ لیا جائے تو یہ سارے حکمراں ایک دوسرے سے بازی لے جاتے نظر آئیں گے۔ پہلے پہل مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی حریف تھے پھر ان کی باریوں نے انہیں اور اسٹیبلشمنٹ کو بے نقاب کیا تو وہ تبدیلی لے آئے اور تبدیلی ایسی کہ مسلم لیگ، ن اور ق، پرویز مشرف کی باقیات اور پیپلز پارٹی کے لوٹوں کی مدد سے پی ٹی آئی کی حکومت بنادی گئی۔ اگر ان تمام پارٹیوں کا ڈی این اے کرایا جائے تو وہ ایک ہی نکلے گا۔ لیکن بولیا سب کی الگ الگ ہیں اور عمل ایک۔
اب جے آئی ٹی بن گئی، قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا گیا۔ یہاں بھی ایک سوال ہے کہ اجلاس کہاں ہونا چاہیے۔ کیا اسمبلی محفوظ ہے، وزیراعظم ہائوس محفوظ ہے، ایوان صدر یا کوئی اور جگہ جس کے محفوظ ہونے کے بارے میں ادارے یقین سے کہہ سکیں۔ اس سوال کا جواب کوئی نہیں دے گا۔ بلکہ یہ سوال بھی کوئی نہیں اٹھائے گا بس اجلاس ہوجائے گا اور پھر وہی ہوگا جو پہلے ہوا۔ امریکی مراسلے کے بارے میں بھی قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا لیکن عمران خان تو ابھی تک اپنے موقف کو دہرا رہے ہیں۔ اب تحقیقات کا مطالبہ کررہے ہیں۔ تو اس اجلاس سے کیا ہوگا۔ جس کو ماننا ہے وہ تو مان ہی لے گا۔ لیکن جس نے ٹھان رکھی ہے کہ میں نہ مانو… وہ تو نہیں مانے گا، پھر کیا ہوگا… اس کا جواب یہی ہے کہ کچھ نہیں ہوگا۔ پہلے بھی آڈیو اور خبریں لیک ہوتی رہی ہیں آڈیو والوں کا تو کچھ نہیں بگڑا سارا ملبہ عوام پر پڑا اور اس مرتبہ بھی کوئی نئی بات سامنے آنے کا امکان نہیں ہے۔