معیشت کی بحالی کا چیلنج

267

عالمی موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے پاکستان میں آنے والی قدرتی آفات اور ان کی تباہ کاریوں پر دنیا کی بھرپور نظریں ہیں۔ اس وجہ سے پاکستان کی معیشت کو درپیش خطرات بھی عالمی سطح پر زیر بحث آگئے ہیں۔ ثمرقند میں ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہ اجلاس اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بھی پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاری زیر بحث آگئی ہے۔ پاکستان کے معاشی بحران اور آئی ایم ایف کے قرضوں کی جکڑ بندی کے حوالے سے دو عالمی طاقتوں امریکا اور چین کے عہدیداروں کے درمیان طنزیہ تبصروں کا مقابلہ بھی سامنے آیا۔ وزیرخارجہ انتونی بلنکن کی جانب سے یہ بات کہنے کے بعد کہ پاکستان اپنے دوست چین سے قرضوں میں نرمی کے لیے بات کرے جواباً چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ چین تو متاثرین سیلاب کی مدد کے لیے پہلے ہی سے کام کررہا ہے، امریکا پاکستان کی حقیقی مدد کرے۔ گویا دونوں عالمی طاقتوں کی دلچسپی پاکستان کے اندرونی حالات سے ظاہر ہورہی ہے۔ پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں جو اُتار چڑھائو آتا رہا ہے اس کے اثرات پاکستان کی داخلی سیاست اور اقتصادی حالات پر پڑتے رہے ہیں، اس پس منظر میں عدم اعتماد کی تحریک کی کامیابی کے بعد قائم ہونے والی 13 جماعتی مخلوط اتحادی حکومت نے پانچ ماہ بعد وزیر خزانہ تبدیل کردیا ہے۔ نیب کے مقدمات کی وجہ سے خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرنے والے سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے وطن واپس آتے ہی وزیر خزانہ کا حلف اٹھالیا ہے۔ وہ اس دعوے سے لندن سے بلائے گئے ہیں کہ وہ مہنگائی اور بے روزگاری میں جکڑے ہوئے پاکستانی شہریوں کو ریلیف دلائیں گے۔ عمران خان کی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد اس دعوے کے ساتھ پیش کی گئی تھی کہ مہنگائی اور بے روزگاری بہت بڑھ گئی ہے، عمران خان کی جماعت میں بھی اسی وجہ سے بغاوت ہوئی، ان کے اتحادیوں نے بھی اسی دلیل سے اپنی حمایت حکومت سے حزب اختلاف کو منتقل کردی اور میاں شہباز شریف کی سربراہی میں مخلوط حکومت قائم ہوگئی، شہباز شریف نے اپنے دوست اور سرمایہ دار مفتاح اسماعیل کو وزیر خزانہ مقرر کیا جنہوں نے آئی ایم ایف کی تمام سخت شرائط تسلیم کرلیں جس نے معاشی تباہی کی رفتار تیز کردی۔ وزیراعظم میاں شہباز شریف نے اسحاق ڈار کے وزیر خزانہ مقرر ہونے کے بعد کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے تسلیم کیا ہے کہ مہنگائی کا بہت بڑا بوجھ عوام کے کندھوں پر ڈالا، حالاں کہ ہم اس کے ذمے دار نہیں تھے سابق حکومت کی غفلت اور ناقص کارکردگی کا بوجھ ہم نے اُٹھایا۔ انہوں نے رخصت ہونے والے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی خدمات کو خراج تحسین بھی پیش کیا جنہوں نے آئی ایم ایف سے قرض کے معاہدے کو تکمیل پر پہنچایا۔ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ ہر حکومت کا امتحان بن جاتا ہے۔ سابق حکومت بھی یہی دعویٰ کرتی تھی کہ ہمیں تباہ شدہ معیشت ورثے میں ملی ہے۔ پاکستان دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ سابق حکومت نے پہلے اس بات کی کوشش کی کہ آئی ایم ایف کے در پر نہ جانا پڑے لیکن اسے بھی مختصر مدت میں تین وزرائے خزانہ کا تجربہ کرنا پڑا تھا۔ اب مفتاح اسماعیل کے بعد تجربہ کار اسحاق ڈار آگئے ہیں۔ ان کی آمد کے ساتھ ہی پاکستانی معیشت کو مثبت اشارے ملنے شروع ہوگئے ہیں۔ عالمی سطح پر پٹرولیم کی قیمتوں میں بڑی کمی ہوگئی ہے۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی شرح بھی بہتر ہورہی ہے۔ سیلاب کی تباہ کاریوں کی وجہ سے عالمی برادری کی نظریں بھی پاکستان کی طرف ہیں، ان حالات میں اسحاق ڈار اور مخلوط حکومت کے پاس بحالی معیشت کے لیے کیا منصوبہ ہے، وہ کسی کو معلوم نہیں ہے۔ محض اس عذر سے کام نہیں چلے گا کہ سابق حکومت نے پاکستانی معیشت کو تباہ کردیا ہے۔ یہی بات عمران خان بھی کہتے تھے اور اب بھی کہتے ہیں کہ گزشتہ تیس برسوں میں حکمرانی کرنے والی جماعتوں اور خاندانوں نے پاکستان کو بیرونی قرضوں میں جکڑا ہے، اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ حکمراں اشرافیہ ریاست اور اس کے وسائل سے بھی زیادہ دولت مند ہوگئی ہے اور قدرتی وسائل سے مالا مال ملک کے باشندوں کی نصف سے زیادہ آبادی خط ِ غربت سے نیچے جاچکی ہے۔ تیزی سے بڑھنے والی مہنگائی باقی ماندہ آبادی کو بھی غربت میں دھکیل رہی ہے۔ موجودہ حکمرانوں کو بدعنوانیوں کے مقدمات سے نظریں ہٹا کر حکومت کے مناصب پر بٹھایا گیا ہے، اب یہ ان کا امتحان ہے کہ وہ پاکستان کے عوام کو آسانیاں فراہم کرنے اور آئی ایم ایف کی غلامی سے نجات دلانے کے لیے نعرہ بازی سے بڑھ کر کیا اقدامات کرتے ہیں۔