چین پاکستان تعاون اور امریکی اعتراض

371

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اپنی معمول کی ذرائع ابلاغ سے کی جانے والی گفتگو میں چین پاکستان تعلقات کے بارے میں امریکی وزیر خارجہ انتونی بلنکن کے تبصرے کو غیر ضروری قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ امریکا پاک چین تعاون پر بلا جواز تنقید کے بجائے متاثرین سیلاب کو حقیقی مدد پہنچانے کے لیے اقدامات کرے۔ امریکی وزیر خارجہ انتونی بلنکن نے واشنگٹن میں پاکستانی وزیر خارجہ بلاول زرداری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے یہ تبصرہ بھی کیا تھا کہ پاکستان کو قرضوں میں نرمی کے لیے چین سے بات چیت کرنی چاہیے۔ امریکی وزیر خارجہ کی ذرائع ابلاغ سے مذکورہ بات چیت پاکستان اور امریکا کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ کی مناسبت سے ہورہی تھی۔ واضح رہے کہ اس گفتگو کے بعد امریکی وزیر خارجہ نے اپنے بھارتی ہم منصب سبرامینم جے شنکر کو عشائیے پر مدعو کیا ہوا تھا۔ وزیر خارجہ بلاول زرداری اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ سربراہ اجلاس میں وزیراعظم میاں شہباز شریف کی قیادت میں پاکستانی وفد کے رکن تھے۔ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے بعد ان کی امریکی وزیر خارجہ انتونی بلنکن سے دارالحکومت واشنگٹن میں ملاقات ہوئی جو پاکستان اور امریکا کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی سالگرہ بھی تھی۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان میں سیلاب گفتگو کا اہم موضوع بن گیا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اپنے خطاب میں اس مسئلے کو عالمی برادری کا کلیدی مسئلہ قرار دیا تھا۔ انہوں نے دنیا کے حکمرانوں کو اس امر کی طرف متوجہ کیا کہ برطانیہ کے جغرافیے سے زیادہ بڑا حصہ پاکستان میں سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے۔ اور پاکستان میں سیلاب کے ذمے دار دنیا کے بڑے ترقی یافتہ ممالک ہیں جن کی صنعتی سرگرمیوں کی وجہ سے فضا میں زہریلی گیس خارج ہورہی ہے جو موسمیاتی تبدیلی کی وجہ ہے۔ موسم گرم ہونے کی وجہ سے دنیا بیک وقت غیر معمولی بارشیں اور قحط سالی کے خطرے کا شکار ہوچکی ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک جن میں امریکا سرفہرست ہے اس تباہی کے ذمے دار ہیں۔ اس تقریر کی وجہ سے امریکی صدر جوبائیڈن کو بھی اپنے خطاب میں پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاری کو شامل کرنا پڑا تھا۔ پاکستان سیلاب کی تباہ کاری سے قبل معاشی اور اقتصادی بحران میں مبتلا تھا۔ آئی ایم ایف اور عالمی مالیاتی اداروں کے قرضوں کی وجہ سے پاکستان کو دیوالیہ قرار دیے جانے کا خطرہ موجود ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے سیلاب کی تباہ کاری سے قبل پوری دنیا کورونا کی وبا کی وجہ سے اقتصادی بحران میں مبتلا ہوچکی ہے۔ کورونا کی وبا سے نکل کر معمول کی زندگی بحال ہونے کے امکانات روشن ہوئے تھے کہ روس اور یوکرین کی جنگ نے نیا اقتصادی بحران پیدا کردیا ہے جس کی وجہ سے ایندھن اور غذائی اجناس بالخصوص گندم کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ مہنگائی کی عالمی لہر نے پوری دنیا کو متاثر کیا ہے لیکن قرضوں کی معیشت نے جس عذاب میں پاکستانی عوام کو مبتلا کیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ ڈالر اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ اس طرح ہورہا ہے جیسے ان میں ریس لگی ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی سیلاب کی تباہی مصیبت پر مصیبت بنی ہوئی ہے۔ جب کہ پاکستانی حکمرانوں کو آئی ایم ایف کے قرضوں کے بوجھ اور ان کے انسانیت کش مطالبات سے بچنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آرہا۔ کورونا کی وبا اور سیلاب کی تباہ کاری کے بعد امریکا سمیت عالمی سیاسی اور اقتصادی حکمرانوں پر یہ دبائو آنا شروع ہوگیا ہے کہ قدرتی آفات سے متاثر پاکستان کو ریلیف دیا جائے۔ جس کی اصل ذمے داری امریکا سمیت اقتصادی طاقتوں پر عائد ہوتی ہے۔ یہ حقیقت بھی پاکستانیوں کو معلوم ہے کہ امریکی اشارے پر آئی ایم ایف پاکستان پر ایسی شرائط مسلط کررہا ہے جس سے وہ اپنی سیاسی اور اقتصادی خود مختاری سے دست بردار ہوجائے۔ پاکستانی وزیر خارجہ کے ہمراہ انتونی بلنکن کی پریس کانفرنس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے سفارتی زبان کو نظر انداز کرتے ہوئے نرم زبان میں پاکستان کو احکامات جاری کردیے ہیں اور اس موقع پر چین اور پاکستان کے تعلقات پر طنز کرنا ضروری سمجھا۔ اس لیے چینی وزارت خارجہ نے امریکی وزیر خارجہ کے طنزیہ تبصرے کا جواب دینا ضروری سمجھا۔ یہ بھی ہمیں یاد ہے کہ قرضوں کے موجودہ پیکیج کی منظوری سے قبل آئی ایم ایف کے ایک ذمے دار نے یہ بیان دیا تھا کہ پاکستان آئی ایم ایف سے قرض لے کر چین سے لیے ہوئے قرضوں کو واپس کرے گا۔ آئی ایم ایف کے عہدیدار کا بیان اس لیے تھا کہ اسے قرض لینے کے لیے اقتصادی شرائط کے ساتھ سیاسی، ثقافتی شرائط کو بھی ماننا ہوگا۔ یہ فہرست ہمارے عقیدہ و ایمان پر حملے تک پہنچ جاتی ہے۔ پاکستان میں ٹرانس جینڈر ایکٹ کے نفاذ کی خفیہ سازشوں کا تعلق بھی اسی عالمی نظام سے ہے۔ عالمی اقتصادی نظام اتنا پیچیدہ ہوگیا ہے کہ پاکستان جیسے قدرتی وسائل سے مالا مال ملک کے لیے بھی اپنی آزادی کا دفاع ایک کارِ مسلسل ہے۔ انتونی بلنکن نے اپنے احکامات واضح کرکے دے دیے ہیں، انہوں نے یہ واضح کردیا ہے کہ افغانستان کے بارے میں پاکستان اور امریکا کی پالیسی میں اختلاف موجود ہے۔ پاکستان اور چین کے درمیان تعاون پر اپنا اعتراض دہرادیا ہے۔ اسی طرح بھارت کے ساتھ تعلقات کا مسئلہ بھی ہے۔ عالمی سیاست ایک بار پھر سرد جنگ میں بدل گئی ہے۔ نئی سرد جنگ میں بھی پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اہمیت اختیار کرگئی ہے۔ ان حالات میں پاکستان کی حکمراں اشرافیہ جس میں سول و ملٹری بیورو کریسی اور سیاسی جماعتوں کی بدعنوان قیادت شامل ہے کیا ملک و قوم کو درپیش خطرات کا مقابلہ کرسکتی ہے۔