ٹرانس جینڈر ایکٹ: کیوں بنایا گیا؟

588

ٹرانس جینڈر ایکٹ 2018 کے نفاذ کے بعد اس کے معاشرے پر ہونے والے منفی اثرات جب واضح ہونے لگے تو ملک اور اسلامی قوانین کا احترام کرنے والے کیوں کر خاموش تماشائی بن سکتے ہیں۔ جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے اس قانون کی ناقابل برداشت شقوں کے خلاف آواز اٹھا دی۔ ان کی سینیٹ میں تقریر کے بعد ملک بھر میں اس بارے میں بازگشت عام ہوگئی اور لوگ سینیٹر مشتاق احمد کے موقف اور مطالبے کی حمایت کررہے ہیں۔ ایکٹ 2018 میں ترمیم کے لیے جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان کی جانب سے سینیٹ میں جمع کرائے گئے بل کی حمایت میں ملک کے بھر کے علماء دانشور اور اسلامی تعلیمات سے وابستہ صحافی بھی ٹرانس جینڈر ایکٹ کے خلاف اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار نظر آرہے ہیں۔ خیال رہے کہ یہ قانون 2018 میں منظور ہوا تھا۔ ممتاز و مقبول صحافی، دانشور اور سابق بیورو کریٹ اوریا مقبول جان کا کہنا ہے کہ ’’ٹرانس جینڈر بل نہیں بلکہ یہ ایک قانون ہے جو اس ملک میں 22 مئی 2018 سے نافذ ہے، جسے پاکستان کی اسمبلی نے متفقہ طور پر پاس کیا تھا اور جس کے خلاف تین ارکان نے تقریر کی لیکن کسی نے بھی اس کے خلاف ووٹ نہیں دیا۔ جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان کا کہنا ہے کہ یہ بل 2018 میں سینیٹ سے منظور ہوا تھا۔ ’یہ بل نون لیگ، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق کی چار خواتین سینیٹرز نے تیار کیا تھا۔ اس بل پر ہمیں اس وقت بھی اعتراضات تھے اور اب بھی ہیں۔ چند روز قبل سینیٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ اس قانون کی منظوری کے بعد 28 ہزار 723 جینڈر نے نادرا کو اپنی شناخت تبدیل کرنے کی درخواست دی، جن میں سے 16530 مرد عورت جینڈر کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنا چاہتے تھے۔ 12154 عورت جینڈر سے مرد جینڈر کا سرٹیفکیٹ لینے کے لیے درخواست دی تھی۔ نو مرد نے مخنث اور 21 عورتوں نے مرد مخنث بننے کی درخواست جمع کرائی تھی۔
اس قانون کے تحت ہر ایک کو یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ اپنی مرضی کی جنس کا سرٹیفکیٹ حاصل کرسکتا ہے۔ یہ نکتہ ہی شدید اعتراض کا باعث بن رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر کیوں ہر کسی مرد اور عورت کو اپنی پسند کی جنس کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کی اجازت دی گئی ہے؟ اللہ نے صرف مرد اور عورت کی صنف کا ذکر قرآن پاک میں کیا ہے اس کا مطلب واضح ہے کہ دنیا میں اللہ کی طرف زنانہ و مردانہ یا میل و فی میل صنف تخلیق کرکے دنیا میں بھیجا گیا ہے اور تیسری صنف کا کوئی وجود قدرت کی طرف سے کبھی نہیں ہوا۔ اللہ نے قرآن پاک میں نہ صرف انسانوں بلکہ چرند اور پرند اور درختوں کے جوڑ کا ذکر کرکے یہ وضاحت کردی ہے کہ ’’ہم نے ہر کے جوڑے بنا دیے ہیں‘‘۔ جبکہ یہ بات بھی واضح کردی کہ: اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی میں سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور ان دونوں سے کثرت سے مرد و عورت پھیلا دیے۔ (النساء) (اس آیت میں فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو ایک جان یعنی سیدنا آدمؑ سے پیدا کیا اور ان کے وجود سے ان کا جوڑا یعنی سیدہ حواؑ کو پیدا کیا پھر انہی دونوں سے زمین میں نسل درنسل کثرت سے مرد و عورت کا سلسلہ جاری کیا۔ قرآن کی آیات کے بعد اس امر پر بحث کی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ انسانوں میں کوئی تیسری جنس کا وجود بھی ہے۔ اس بارے میں ڈاکٹر عرفان مصطفی کا کہنا ہے کہ اللہ نے صرف مرد اور عورت کو پیدا کیا ہے، تیسری کوئی صنف کا تصور نہیں ہے تیسری جنس نہیں بلکہ ہارمونز کی کمی کی وجہ سے سامنے آتی ہے۔ جو رفتہ رفتہ ماحول میں ڈھل کر مردانہ اور زنانہ عادت و اطوار اختیار کرلیتے ہیں۔ ڈاکٹر عرفان مصطفی کا اصرار ہے کہ
Male hormone. Testosterone. Female hormone. progesterone, and Estrogen.
کی کمی یا زیادتی کے نتیجے میں جو پیدائش ہوتی ہے وہ بھی مرد یا عورت ہوتے ہیں۔ اس لیے ان کی نظر میں انہیں ٹرانس جینڈر کا نام دینا درست نہیں ہے بلکہ ان کی تعلیم تربیت علاج ضروری ہے تاکہ وہ بھی ایک مکمل اور بیماری سے پاک انسان بن کر دیگر اولاد آدم کی طرح زندگی گزار سکیں۔ اس طرح ہم سب کو یہ یقین کرلینا چاہیے کہ ٹرانس جینڈر مرد عورت سے ہٹ کر کوئی تیسری جنس کے لوگ ہیں بلکہ یہ انسانوں میں سے پیدائشی مریض ہیں۔ اس وضاحت کے بعد ٹرانس جینڈر ایکٹ میں ترمیم اس لیے بھی ضروری ہوجاتی ہے کہ ہمارے ملک میں مختلف امراض کو بہانہ بنا کر بھیک مانگنے کے عمل کو اپنایا جارہا ہے، اسے بھی پیشہ مان کر پیشہ ور بھکاری کی اصطلاح عام کردی گئی ہے جبکہ انسانی بیماری خصوصاً جنسی اعضاء کی خامیوں میں مبتلا افراد اپنے آپ کو ہیجڑے یا مخنث مان کر غیر شرعی حرکات کرنا یا قوم لوط (سدوم) کے عظیم گناہ میں مبتلا ہونے کو اپنی عادت بنا لیا کرتے ہیں۔ ایسے مکروہ حرکات و عادات سے پاک افراد کو ہم ’’ویری اسپیشل‘‘ کا نام دے سکتے ہیں اور انہیں ویری اسپیشل کا سرٹیفکیٹ یا شناختی کارڈ جاری کیا جاسکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے کسی کی درخواست کے ساتھ خود حکومت کو مہم چلاکر ایسے جنسی امراض میں مبتلا افراد کا پتا لگانا چاہیے اور ان کی رجسٹریشن کرنی چاہیے تاکہ وہ لوگوں کو دھوکا دے کر ناپاک ارادوں کی تکمیل سے باز رہ سکیں۔ اس مقصد کے لیے ٹرانس جینڈر ایکٹ کا نام تبدیل کرنے کے ساتھ ضروری ترامیم کو جلد از جلد یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ اور مجوزہ ایکٹ کے تحت اس طرح کی جنسی بیماریوں میں مبتلا افراد کے ٹیسٹ کے لیے میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کو حتمی مان کر ویری اسپیشل پرسن کا سرٹیفکیٹ یا شناختی کارڈ جاری کرنا چاہیے ساتھ ان کے باعزت روزگار کے لیے آسان مواقع بھی مہیا کرنا چاہیے۔