جمہوریت سے فرار

282

پاکستان کی ’’عوامی جمہوری‘‘ پیپلزپارٹی کے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے دو ٹوک اعلان کر دیا ہے کہ سندھ میں چند ماہ تک کوئی الیکشن نہیں ہو سکتا۔ اس کا جواز انہوںنے یہ دیا ہے کہ صوبے میں سیلاب کی صورت حال ہے‘ پانی کھڑا ہوا ہے‘ روزانہ اموات ہو رہی ہیں‘ انفراسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے۔ اس صورت حال میں کوئی الیکشن کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ صرف 25 فیصد متاثرین تک امداد پہنچا سکے ہیں۔ کیمپوں میں قیام پذیر افراد پریشانی کی حالت میں ہیں ان کی اس تکلیف کا حل انہیں دوبارہ ان کے گھروں کو بھیجنا ہے اور یہ اس وقت ممکن ہوگا جب ان علاقوں سے پانی کی نکاسی مکمل ہو جائے گی۔ وزیراعلیٰ سندھ جس سیاسی پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں وہ پاکستان میں خود کو جمہوریت کا سب سے بڑا دعویدار کہتی ہے۔ انہوں نے انتخابات نہ ہونے کی جو وجوہات پیش کی ہیں وہ اس صورت میں تو سو فیصد درست ہوسکتی تھی کہ پورے سندھ میں انتخابات ہو رہے ہوتے اور حکومت کے لیے ایسا کرنا ہرگز ممکن نہ ہوتا لیکن پورے ملک میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار کرائے گئے ہیں یہ کیوں مرحلہ وار ہوتے ہیں اس کا سبب بھی وزیراعلیٰ خوب جانتے ہیں لیکن جو عذر دیا جاتا ہے وہ وہی ہے جو وزیراعلیٰ انتخابات نہ کرانے کے لے دے رہے ہیں۔ انتخابات کے مرحلہ وار کرانے کا ایک سبب تو یہ بتایا جاتا ہے کہ نفری نہیں ہوتی اور عملہ دستیاب نہیں ہوتا۔ دوسری بات یہ ہے کہ سندھ کے کون کون سے اضلاع میں انتخابات ہو چکے ہیں اور کون کون سے اضلاع میں نہیں ہوئے۔ مزید یہ کہ کیا وزیراعلیٰ یہ نہیں جانتے کہ بلدیاتی انتخابات نہ کرانے یا بلدیات میں نااہل لوگوں کے آنے کے کیا سنگین نتائج ہوتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر کا نتیجہ ہے کہ سندھ کے بہت سے اضلاع ڈوب گئے۔ پہلے مرحلے میں 24 جون کو 14 اضلاع میں انتخاب ہوئے تھے اور ان میں پیپلزپارٹی نے بھاری اکثریت حاصل کی تھی۔ دوسرے مرحلے میں سندھ کے 16 اضلاع میں انتخاب ہونے تھے جہاں 24 جولائی کو پولنگ طے تھی لیکن بارش کی پیشگوئی کی وجہ سے کراچی کے بلدیاتی انتخابات ملتوی کر دیے گئے اور پھر نئی تاریخ 23 اکتوبر کی دی گئی تھی لیکن اب وزیراعلیٰ نے ہری جھنڈی دکھا دی ہے۔ جن 16 اضلاع میں انتخابات ہونے تھے ان میں سے کراچی کا تو کوئی ضلع سیلاب سے متاثر نہیں اور مسئلہ بھی کراچی کے بلدیاتی انتخابات ہیں باقی اضلاع میں سے بھی تمام سیلاب متاثرین نہیں لیکن وہ سیلاب زدہ علاقوں کے بہت قریب ہیں۔ یہ فیصلہ الیکشن کمیشن کو کرنا ہے کہ کن علاقوں میں انتخابات ہو سکے ہیں اور یہ زیادہ آسان ہے کہ کراچی کے بلدیاتی انتخابات مکمل کروا دیے جائیں تاکہ الیکشن کمیشن اور حکومتی مشینری پر دبائو کم پڑے۔ انتخابات کا بار بار ملتوی ہونا اور اس کے لیے عذر ہائے لنگ پیش کرنا صرف اس وجہ سے ہے کہ کراچی میں جماعت اسلامی نے نہایت جارحانہ انتخابی مہم چلائی اور حافظ نعیم الرحمن کی قیادت پر پورا شہر متفق ہو گیا تھا۔ مختلف جائزوں کی رپورٹوں کے نتیجے میں واضح ہو رہا تھا کہ جماعت اسلامی اور حافظ نعیم کی مقبولیت تیزی سے بڑھ رہی ہے اور یہی خوف حکومت کو دامن گیر تھا کہ اب کراچی پر اس کا کنٹرول ختم ہو جائے گا ۔ سیاسی طور پر پیپلز پارٹی صرف ایم کیو ایم کے ساتھ مل سکتی تھی اسے پی ٹی آئی سے تو کسی طور تعاون نہیں مل سکتا تھا ۔ دوسری طرف جماعت اسلامی اگر تنہا میئر شپ کی دوڑ میں آگے نہیں ہوتی تو بھی اس کو پی ٹی آئی اور دوسرے گروپوں کی حمایت مل سکتی تھی ایسی کیفیت میں پیپلز پارٹی کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ الیکشن سے کسی نہ کسی طرح بچا جائے ۔ اس بات کا جائزہ بھی لیا جانا چاہیے کہ سندھ کے اضلاع میںپانی کیوں کھڑا ہوا اس کے اب تک نہ نکلنے کا سبب کیاہے اور کیا23اکتوبر تک بھی پانی نہیں نکل سکے گا ۔ اور کیا حکومت پانی کے خود بخود نکلنے کا انتظار کر رہی ہے ۔ اس نے پانی کی نکاسی کے لیے کیا انتظامات کیے ہیں ۔ یہ بات تسلیم کی جانی چاہیے کہ جو لوگ بے گھر ہیں ان کے علاقوںمیں الیکشن تو ممکن نہیں لیکن جہاں سیلاب نہیں ہے وہاں تو الیکشن ہو سکتے ہیں ۔ اس سے اگلے مرحلے میں آسانی ہو گی ۔ یہ سوال بھی اپنی جگہ ہے کہ کس نے بند توڑے اور کیوں… کون کون سے وڈیرے اور ارکان اسمبلی یا وزراء تھے جن کی زمینیں بچانے کے لیے غریبوں کو پانی میں غرق کیا گیا ۔ جس طرح آرمی چیف نے سوات میں غلط جگہ اور غیر قانونی تعمیرات کا نوٹس لیا تھا اسی طرح انہیں سندھ میں بند توڑے جانے کے الزامات کی تحقیقات کا بھی حکم دینا چاہیے تھا تاکہ قوم کو یہ پتا چل سکے کہ عوام کو ڈبونے میں کس کا ہاتھ ہے اور جہاں تک کراچی کی بات ہے یہاں تو سیلاب بھی نہیں تھا اور حکومت سندھ مکمل خود مختار ہے اس کے باوجود بارش گزرے مہینہ ہونے کو ہے ۔ شہر کی سڑکیں ، گلیاں میدان ، پارک ہر جگہ غلاظت ہے ۔ سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں ، مرمت کے نام پر مٹی، پتھر بھر کر چھوڑ دیا گیا ہے ، ٹریفک کی روانی کو جان بوجھ کر خراب کیا جا رہا ہے تاکہ لوگ گزرتے ہوئے’’زحمت کے لیے معذرت سڑکوں کی مرمت کا کام ہو رہا ہے‘‘ ۔ کا بورڈ دیکھتے ہوئے اور پارٹی کے جھنڈے والی مشینری کو دیکھ کر گزریں ۔ کراچی میں تو سیلاب بھی نہیں تھا لیکن یہاں بلدیاتی قیادت نہیں تھی اس لیے اس شہر کا انفرا اسٹرکچر بھی تباہ ہے ۔ وزیر اعلیٰ اپنی پارٹی کے بانی کی جمہوریت کے حوالے سے تقریروں ، خدمات اور بے نظیر بھٹو کی جمہوریت کے بارے میں تقریروں کو سامنے رکھیں ۔ یا صرف یہ جملہ ان کے پیش نظر ہے کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے ۔اور وہ اس شہر کراچی سے انتقام لے رہے ہیں کراچی جیسے شہر کو فوری طور پر بلدیاتی انتخابات اور قیادت کی ضرورت ہے ۔ اگر حکومت اس شہر اور ملک کے ساتھ سنجیدہ ہے تو جلد از جلد کراچی میں بلدیاتی انتخابات کروائے اور جو بھی جیتے اس کے حوالے معاملات کر دے تاکہ اس شہر کی صنعتیں اور کاروبار بحال ہو سکے ۔وزیر اعلیٰ کا یہ کہنا بھی عجیب ہے کہ وہ اب تک صرف25فیصد متاثرین تک امداد پہنچا سکے ہیں ۔ اسے حکومت کی نا اہلی نہ کہا جائے تو اور کیا کہا جا سکتا ہے ۔ تمام مشینری ،دنیا بھر کی امداد اور ہرطرح کے وسائل ہونے کے باوجو صرف25فیصد لوگوں تک امداد پہنچنا تو نہایت افسوس ناک امر ہے ، متاثرین کو دوبارہ گھر بھیجنے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ان کی پریشانی کا یہی حل ہے لیکن اس حل کے لیے ان کی حکومت کیا کر رہی ہے اور حکومت متاثرین کی مدد میں اتنی ناکام ہے دیگر اداروں نے بھی تو بہت کام کیا ہے پھر حکومت کہاں ہے ۔ صرف25فیصد متاثرین کی امداد کے اعتراف کی بھی تحقیقات کی جانی چاہیے ۔