کے الیکٹرک کے خلاف ریفرنڈم میں عوام کی بھروپور شرکت دیدنی

488

کراچی: امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن کا کے الیکٹرک کے بلوں میں کے ایم سی یوٹیلٹی ٹیکس اور ٹی وی لائسنس فیس سمیت دیگر ٹیکسوں اور جعلی فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کے نام پر اضافی وصولیوں کے خلاف”عوامی ریفرنڈم“کے دوسرے روز ہفتہ کو بھی عوام میں زبردست جوش وخروش دیکھنے میں آیا۔

شہر بھر میں قائم ریفرنڈم کیمپوں پر شہریوں کا رش لگارہااو ر لوگوں نے بڑی تعداد میں اپنا بیلٹ پیپر کاسٹ کیا اور اپنے شدید غم و غصے کا بھی اظہار کیا۔

امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کوآپریٹیومارکیٹ صدر میں تاجروں کی جانب سے لگائے گئے ریفرنڈم کیمپ سمیت مختلف اضلاع میں لگائے گئے کیمپوں کا دورہ کیا،ووسٹ کاسٹ کرنے والے تاجروں اور شہریوں سے ملاقاتیں کیں اور ان کے جوش و جذبے کو سراہا۔کوآپریٹیومارکیٹ صدر کے دوکانداروں نے ”عوامی ریفرنڈم“ میں بھرپور حصہ لیا اور جماعت اسلامی کی جانب سے ریفرنڈم کو وقت کی ضرورت قرار دیا اور یقین دہانی کرائی کہ وہ جماعت اسلامی کی جدوجہد کے ساتھ ہیں۔

اس موقع پراسمال ٹریڈرز اینڈ کاٹیج انڈسٹریز کراچی کے صدر محمود حامد،صدر کوآپریٹیو مارکیٹ کے جنرل سکریٹری محمد اسلم خان اور صدر محمد فیروز،پاکستان کنفیکشنری ایسوسی ایشن کے صدرجاوید عبد اللہ اور محمد ربان،ڈپٹی سکریٹریز جماعت اسلامی کراچی یونس بارائی،عبد الرزاق خان،سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری سمیت مختلف تاجر تنظیموں کے عہدیداران و رہنما بھی موجود تھے۔

بعد ازاں حافظ نعیم الرحمن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ایک پرائیویٹ کمپنی خود تو سالانہ اربوں روپے منافع کمارہی ہے لیکن کراچی کے عوام کو لوڈ شیڈنگ،اوور بلنگ اور ناجائز ٹیکسوں و اضافی وصولویوں کے عذاب میں مبتلا کیا ہوا ہے۔انہوں نے کہاکہ کراچی پورے ملک کی معیشت میں اپنا ایک اہم کردار ادا کرتا ہے،کراچی ٹیکس دیتا ہے تو پورے ملک کا نظام چلتا ہے، کراچی کے عوام نے گزشتہ سال کی نسبت اس سال 42فیصد زیادہ ٹیکس ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی سے 54فیصد ایکسپورٹ ہورہی ہے،کراچی 67فیصد ریونیو جنریٹ کرتا ہے اس سب کے باوجود کراچی کو اس کا حق نہیں دیا جاتا اور نارواسلوک کیاجاتا ہے،اگر کے الیکٹرک قومی تحویل میں آجائے گا تو کراچی کو اس کی طلب کے مطابق پوری بجلی مل سکے گی اور درمیان میں پرائیویٹ کمپنی کا منافع ختم ہوجائے گا۔اس لیے ہمارا مطالبہ ہے کہ کے الیکٹرک کا لائسنس فوری منسوخ کر کے قومی تحویل میں لیا جائے اور اس کے سہولت کاروں کو بے نقاب کر کے مقدمات چلائے جائیں۔

امیر جماعت اسلامی کراچی کا کہنا تھا کہ تمام حکومتی جماعتیں کے الیکٹرک کو کھل کو سپورٹ کررہی ہے، کراچی کے عوام سے الیکٹرک سٹی،ٹی وی سمیت مختلف ٹیکس وصول کیے جارہے ہیں لیکن کراچی کو کچھ نہیں دیا جاتا،پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت گزشتہ کئی سال سے الیکٹرک سٹی چارجز وصول کررہی ہے وہ بتائے کہ یہ اربوں روپے کہاں خرچ کیے گئے، مرتضیٰ وہاب کہتے ہیں کہ میونسپل چارجزکے الیکٹرک کے بلوں میں بھیجے جائیں گے، وہ بتائیں کہ کراچی کے شہریوں سے موٹر وہیکل ٹیکس تو وصول کیا جاتا ہے سڑکیں کیوں نہیں بنائی جاتیں؟۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کراچی کے عوام سے ہر طرح کے ٹیکسز تو وصول کیے جاتے ہیں لیکن مسائل حل نہیں کیے جاتے۔ہم کراچی کے عوام سے ریفرنڈم کروارہے ہیں جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ کے الیکٹرک کے بلوں میں کے ایم سی یوٹیلٹی ٹیکس ختم کیا جائے، جعلی فیول ایڈجسٹمنٹ کے نام پر عوام کی جیبوں پر جو ڈاکا ڈالا جا رہا ہے اسے بند کیا جائے، کلا بیک کی مد میں 50ارب روپے اہل کراچی کے‘ کے الیکٹرک کے ذمہ واجب الادا ہیں انہیں عوام کو واپس دلوایا جائے، کے الیکٹرک کا لائسنس منسوخ اور فرانزک آڈٹ کرایا جائے، عوام کا مقدمہ ہم عدالتوں میں بھی لڑیں گے اور سڑکوں پر بھی، عوام کے حقوق کے لیے آئینی و قانونی اور سیاسی و جمہوری جدو جہد اور احتجاج جاری رکھیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کے الیکٹرک کراچی دشمن ادارہ ہے، جماعت اسلامی اہل کراچی کو ہر صورت مافیاؤں سے نجات دلائے گی۔ کراچی کے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں کالجز ویونیورسٹیوں میں ریفرنڈم کروائیں اور جماعت اسلامی کے رضاکار بنیں۔ عوامی ریفرنڈم کے سلسلے میں بیلٹ ادارہ نورحق سے وصول کر کے گھر گھر جاکر ماؤں اور بہنوں سے بھی ان کی رائے لیں۔ جماعت اسلامی کراچی کے عوام کے ساتھ موجود ہے اور شہریوں کی ترجمانی کرتی رہے گی۔

محمود حامد نے کہاکہ کے الیکٹرک مافیا نے کراچی کے عوام کاجینا دوبھر کردیا ہے، دیہاڑی دار مزدور پریشان ہیں، وہ اپنے بچوں کو پالیں یا بجلی کے بھاری بھاری بل جمع کرائیں،ماہانہ 25ہزار روپے کمانے والا بھاری بلوں کی وجہ سے خود کشی کرنے پر مجبور ہورہا ہے، آج شہر کا ہر تاجر کے الیکٹرک کی بھتہ خوری کی وجہ سے پریشان ہے،اس موقع پر صدر مارکیٹ کے تاجر رہنما ؤں نے کہا کہ ہم جماعت اسلامی کے مشکور ہیں کہ جس نے کراچی کے ہر شہری کے دیرینہ مسئلے پر آواز اٹھائی اور ریفرنڈم کا انعقاد کیا،آج کوآپریٹیواور صدر مارکیٹ کے تاجر ریفرنڈم میں حصہ لے رہے ہیں اورمارکیٹوں اور بازاروں میں بھی عوامی ریفرنڈم کروایاجائے گا۔