یوکرین کی کے دفاع کی جنگ میں حمایت کرنا ہمارے لیے ناگزیر ہے،جرمن چانسلر

236
یوکرین کی کے دفاع کی جنگ میں حمایت کرنا ہمارے لیے ناگزیر ہے،جرمن چانسلر

برلن:جرمن چانسلراولف شلز نے اس امید کا اظہارکیا ہے کہ یوکرین پر حملے کے نتیجے میں روس سے تیل اور گیس کی رسد میں کمی کے بعد قدرتی وسائل سے مالا مال خلیجی ریاستوں کے ساتھ توانائی کی نئی شراکت داری پراتفاق ہوجائے گا۔

انھوں نے یہ بات میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کے بعد کہی ہے۔ شلزنے کہا کہ انھوں نے یوکرین میں جنگ کے موضوع پر بات چیت کی ۔

انھوں نے واضح کیا کہ یوکرین کی اپنی سالمیت اور خودمختاری کے دفاع کی جنگ میں حمایت کرنا ہمارے لیے ناگزیر ہے،ہم ایسا کرتے رہیں گے اور روس کویوکرین اپنی فوجیں واپس بلانا ہوں گی۔

سرکاری ذرائع کے مطابق سعودی عرب فوسیل ایندھن کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ملک ہے اورعلاقائی طاقت کے طور پر سعودی عرب کی اپنی اہمیت ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ جرمنی اور دیگر ممالک کو ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ ٹھوس ورکنگ ریلیشن شپکی ضرورت ہے۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ برلن قابل تجدید توانائی کا استعمال کرتے ہوئے تیار کی جانے والی سبز ہائیڈروجن جیسی نئی ٹیکنالوجیز میں سعودی عرب اور دوسرے ممالک کے ساتھ تعاون واشتراک بڑھانا چاہتا ہے۔

نیز جرمنی خلیجی ریاستوں سے بڑی مقدار میں یہ سبزایندھندرآمد کرسکتا ہے۔جرمن چانسلر علاقائی طاقتوں کے ساتھ سیاسی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے بھی کوشاں ہیں اور وہ دوسری سمت چین اور روس کا بھی توڑ کرنا چاہتا ہے۔

اس سے پہلے جرمن چانسلراولف شلز خط خلیج کے دوروزہ دورے کے پہلے مرحلے میں سعودی عرب کے ساحلی شہر جدہ پہنچے تھے۔