سیلاب زدگان کے ٹینٹ سٹی میں بھی مسائل کاانبار،امراض اورغذائی قلت دوہراامتحان

216
سیلاب زدگان کے ٹینٹ سٹی میں بھی مسائل کاانبار،امراض اورغذائی قلت دوہراامتحان

جیکب آباد: سیلاب متاثرین کے لیے عارضی ٹینٹ سٹی تو قائم کردیا گیاہے مگر متاثرین کا کہنا ہے انہیں راشن ملتا ہے اور نہ ہی صحت کی بنیادی سہولیات میسر ہیں۔

ٹینٹ سٹی میں طبی امراض نے بھی جنم لے لیا ہے۔جیکب آباد میں وبائی امراض کے وار جاری ہیں، جہاں مزید ایک بچہ جاں بحق ہوگیا۔

گائوں رمضان جکھرانی کا 10 سالہ بچہ ملیریا میں مبتلا تھا۔ حالیہ سیلاب کے بعد ضلع بھر میں اب تک مرنے والوں کی تعداد 110 ہوگئی ہے۔

جیکب آباد کے ٹینٹ سٹی میں موجود سیلاب زدگان نے دوہائیاں دیتے ہوئے کہاکہ حکومت کی توجہ ہماری جانب نہیں ہے۔

سندھ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران طبی کیمپوں میں لوگوں کے آنے کا سلسلہ جاری رہا، بیماریوں کے پھیلائو کے خطرات اب بھی صوبے میں موجود ہیں اور سانس کی تکلیف میں مبتلا ایک اور بچہ چل بسا۔

دوسری جانب صوبائی محکمہ صحت کے مطابق صوبے بھر میں قائم طبی کیمپوں میں تقریبا 71 ہزار 398 افراد علاج کے لیے آئے، جنہوں نے زیادہ تر شکایات پانی سے جنم لینے والی بیماریوں سے متعلق کی جو سیلاب کے بعد اب تک کھڑا ہے۔

صوبائی محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق جو ہزاروں افراد علاج کے لیے آئے ان میں زیادہ تعداد سانس کی شدید تکلیف میں مبتلا افراد کی تھی جو 13 ہزار 989 ظاہر کی گئی۔

اسی طرح 12 ہزار 777 افراد نے اسہال اور 13 ہزار 672 افراد نے جلدی امراض کی شکایت کی، 8 ہزار 515 نے ملیریا کے خدشات کا اظہار کیا جب کہ 415 میں ملیریا اور 33 میں ڈینگی کی تصدیق ہوئی، دیگر 22 ہزار 413 افراد دیگر بیماریوں میں مبتلا تھے، یکم جولائی سے اب تک مجموعی طور پر 30 لاکھ بے گھر افراد کو طبی امداد دی گئی۔