پاکستان میں خوراک کی کمی، روس سے 10 لاکھ ٹن گندم خریدنے کا عندیہ 

229
wheat from Russia

وزیر اعظم شریف کی جانب سے غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا گیا کہ حالیہ  سیلاب کی وجہ سے پاکستان کو خوراک کی کمی پوری کرنے کے لیے لاکھوں ٹن گندم درآمد کرنا پڑ سکتی ہے، ہم شاید روس سے دس لاکھ ٹن گندم درآمد کریں، اس میں کوئی اعتراض کی بات نہیں۔

وزیر اعظم کا  کہنا تھا کہ موسمیاتی تغیرات کی وجہ سے پاکستان کو سیلاب ا سامنا ہے جس سے 3 کروڑ 30 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے، تین ماہ کی سیلابی تباہی سے پاکستان کی معیشت کو 30 ارب ڈالرسے زائد کا نقصان پہنچا ہے، سیکڑوں بچوں سمیت 1600 سے زائد افراد  جاں بحق ہوئے، چالیس لاکھ ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوئیں، لاکھوں مکانوں کو نقصان پہنچا، ان کی زندگی کی جمع پو نجی ختم ہو گئی، ہزاروں کلومیٹر سڑکیں تباہ ہوگئیں، ریلوے پل اور ٹریک، مواصلات کا نظام درہم برہم ہوگیا۔

ان کا کہنا تھا سیلابی صورت حال اور متاثرین کی بحالی میں عالمی برادری کی معاونت اہم ہے، عالمی برادری سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے ہماری مدد یقینی بنائے۔ دنیا بھر سے ملنے والی امدادکو انتہائی مضبوط اور شفاف طریقہ کار کے تحت ضرورت مند لوگوں تک پہنچایا جائے گا جبکہ بین الاقوامی معروف کمپنیوں کے ذریعے تھرڈ پارٹی آڈٹ  بھی یقینی بنایا جائے گا۔