جماعت اسلامی نے بجلی بلوں میں میونسپل چارجز ہائی کورٹ میں چیلنج کردیے

128

جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے جمعے کے روز کے الیکٹرک کے بلوں میں کے ایم سی یوٹلیٹی چارجز کے خلاف ہائی کورٹ میں پٹیشن ڈائر کرد ی ،پٹیشن میں موقف اختیار کیا گیاہے کہ کے الیکٹرک کی ملی بھگت سے فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز،سیلز ٹیکس اور یونیفارم فیس کے بعد کراچی کے شہریوں پرجبراً کے ایم سی ٹیکس بھی  لگایاجارہا ہے جو کسی طور قابل قبول نہیں،یہ ناجائز ٹیکس ہے جو غریب عوام کی کمر مزید دوہری کردے گا.

 

پٹیشن دائر کرنے کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ کے ایم سی نے ایک ناجائز چارج لگایا ہے،کے ایم سی چارجز،کے الیکٹرک بل کے ساتھ  شامل کردیا گیا ہے،جس کے بارے میں بتایا جارہا ہے کہ یونٹس کی بنیاد پر کے ایم سی کے چارجز وصول کیے جائیں گے،ہم توقع رکھتے ہیں اس پر فوری شنوائی ہوگی اورکے الیکٹرک کو ناجائز وصولی سے روکا جائے گا.

انہوں نے کہا کہ شہر کی تمام سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں ، فائر فائٹنگ کا حال اور کچرے کا ڈھیر ہمارے سامنے ہےاپنی نااہلی کو چھپانے کیلئے بجلی کے بلوں میں ٹیکس لگادیا گیا ہے،جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔اب تک الیکٹریسیٹی چارج کے نام پر گیارہ ارب روپے وصول کیے جاچکے ہیں،مراد علی شاہ بتائیں کہ یہ پیسے کراچی کی تعمیر و ترقی کے پر کیوں نہیں لگائے جاتے؟.

انہوں نے کہا کہ کراچی کے شہری موٹر وہیکل ٹیکس ادا کرتے ہیں مگرحکومت سڑکیں تک ٹھیک نہیں کرتی، یہ مقدمہ اب عوامی عدالت میں بھی لے کر جا رہے ہیں جس کے خلاف عوامی ریفرنڈم کرارہے ہیں،ریفرنڈم میں عوام سے پوچھیں گے کہ کے الیکٹرک کا بل دینا ہے یا نہیں.

انہوں نےکہا کہ کے الیکٹرک کاکام بجلی کی فراہمی ہے ،سستی بجلی کا معاہدہ کیاگیا تھا مگر کے الیکٹرک سب سے مہنگی بجلی بنارہی ہے، پیپلز پارٹی ان کی سہولت کار ہےتوقع رکھتے ہیں ججز عوام کے حقوق اور انسانی بنیادوں پر قانون کے مطابق فیصلہ کریں گے ۔

انہوں نے کہا کہ مرتضی وہاب کو اس کا جواب دینا پڑے گا کہ سائن بورڈز اور اشتہارات کی مد میں اربوں روپے کمائے جارہے ہیں بڑے بڑے نام آرہے ہیں یہ رقم کہاں جارہی ہے ؟ ہم آئینی حق استعمال کررہے ہیں ، ریفرنڈم بھی ہمارا حق ہے اور عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا بھی ہمارا حق ہےعدالت سے یہ گزارش ضرور کریں گے کہ لاکھوں لوگ جب کوئی رائے دے رہے ہیں تو اس کا بھی احترام کیا جائے۔