چین کے سابق سینئرعہدیدار کو رشوت خوری پر سزائے موت سنا دی گئی 

189

چین کے ایک سابق سینئر عہدیدار فو ژینگ ہوا کو رشوت لینے کے جرم میں جمعرات کے روز 2 سال کی مہلت کے ساتھ سزائے موت سنا دی گئی ہے ، فو ژینگ ہوا پرذاتی مفاد کیلئے قانون میں نرمی برتنے اور 11 کروڑ 70 لاکھ یوآن سے زائد(1 کروڑ 67لاکھ 60 ہزار امریکی ڈالر) رشوت وصول کرنے کا الزام عائد تھا۔

چین کے شمال مشرقی صوبے جیلن کے چھانگ چھون کی انٹرمیڈیٹ پیپلز کورٹ نے قرار دیا کہ چین کی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس کی قومی کمیٹی کی سماجی اور قانونی امور کی کمیٹی کے سابق نائب سربراہ فوژینگ ہوا نے2005 سے 2021 کے درمیان اپنے مختلف عہدوں کے اختیارات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے رشوت وصول کی ۔

عدالت نے یہ بھی قراردیا کہ فو ژینگ ہوا نے 2014 سے 2015 تک بیجنگ میونسپل پبلک سیکورٹی بیورو کیسربراہ کے طور پر کام کرتے ہوئے اپنے چھوٹے بھائی کو سنگین جرائم کے شبہ میں تفتیش اور استغاثہ سے بچایا۔

عدالت نے کہا کہ فو کو تاحیات سیاسی حقوق سے محروم کر دیا گیا اور ان کے تمام ذاتی اثاثے ضبط کر لیے گئے ہیں۔