عقیدہ ختم نبوت: مسلمان کا طرہ ٔ امتیاز

263

محمد ؐ تمہارے مردوں میں سے کسی کے والد نہیں ہیں بلکہ اللہ کے پیغمبر اور انبیاء (کی نبوت) کی مہر (یعنی اس کو ختم کر دینے والے ہیں) اور اللہ ہر شے سے (خوب) واقف ہے (الاحزاب: 4)
امام الانبیاء سید المر سلین ختمی مرتبت محمد رسول اللہؐ پر بحیثیت آخری پیغمبر عقیدہ و ایمان پر مسلمان کا طرہ ٔ امتیاز ہے۔ آپؐ کے بعد قیامت تک اب کوئی دوسرا نبی آنے والا نہیں ظلی نہ بروزی اور نہ ہی کسی دوسرے معانی و مفہوم میں کہ جس پر نبی کا اطلاق ہو تا ہو۔ دورِ رسالت و صحابہ کرامؓ سے لے کر آج تک امت مسلمہ جہاں ربّ تعالیٰ کے واحد و یکتا ہونے پر ایمان کامل رکھتی ہے بعینہٖ شافع محشر ساقی کوثر محمدؐ کے خاتم النبیین ہونے پر بھی غیر متزلزل ایقان رکھتی ہے۔ آپؐ کے بعد کسی بھی معانی میں دعوائے نبوت کرنے والا کذاب واجب القتل اور محبوب رب العالمینؐ کی نبوت و رسالت کی آخری چادر عصمت پر حملہ کرنے کے مترادف ہے۔ ایسا شخص مردود، جہنمی اور اہل اسلام کے نزدیک یہود و نصاریٰ سے بد تر قابل نفرین گردانا جاتا ہے۔ ہمیشہ اہل اسلام اور ان کی حکومتوں نے ایسے ناہنجار ظالموں کی نہ صرف سرکوبی کی بلکہ ان کے مقتدا سمیت تمام ماننے والوں کے خلاف جہاد بالسیف کیا اور انہیں نابود کیا۔ مسیلمہ کذاب نے جب نبوت کا دعویٰ کیا تو خلیفہ اوّل سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے تمام تر مشکل حالات کے باوجود سب سے پہلے اس بے ایمان کی سرکوبی کے لیے اسامہ بن زیدؓ کی سربراہی میں دستہ روانہ فرمایا اور اسے کیفر کردار تک پہنچایا۔ اسی طرح دیگر جھوٹے مدعیان نبوت اسود حسنیٰ و دیگر خاتون کا بھی لحاظ کیے بغیر تمام جھوٹے پیغمبروں کا انجام موت کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔ یہ وہ عقیدہ ہے جس کے بغیر اسلام کا تصور حیات ہی نہیں کیا جا سکتا لہٰذا امت مسلمہ کے کسی بھی مکتبہ فکر نے تمام تر
اختلافات کے باوجود کبھی سمجھوتا نہیں کیا کیونکہ عقیدہ ٔ ختم نبوت اہل اسلام کی شہہ رگ حیات ہے یہ وہ آفاقی نظریہ ہے جو قرآن مجید و احادیث شریفہ سے قطعی ثابت ہے اور پوری امت کا اس مسئلہ پر اجماع ہے۔ جیسا کہ اوپر درج شدہ سورۂ احزاب کی آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ محمدؐ تم مردوں میں سے کسی کے والد نہیں یعنی آپؐ کے بعد کوئی کھڑا ہو کر یہ دعویٰ نہ کر سکے کہ چونکہ امام کائناتؐ کا بیٹا یا پوتا ہوں لہٰذا میں بھی نبوت میں کسی طرح شریک ہوں یا خونی رشتے کی بناء پر مجھے بھی نبوت میں شراکت کا کوئی حق حاصل ہے۔ اسی طرح خوب و ضاحت سے بیان کر دیا گیا کہ آپؐ تو اللہ کے پیغمبر اور تمام انبیاء کی نبوت پر مہر ہیں یعنی اب آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں آنے والا ہے۔ چنانچہ حدیث مبارکہ ہے۔ ابی بن کعب ؓ راوی ہیں! کہ نبی کریمؐ نے فرمایا: ’’میری مثال دیگر انبیاء میں ایسی ہے جیسے کسی نے ایک اچھا کامل گھر بنایا لیکن ایک اینٹ کی جگہ خالی چھوڑ دی تو لوگوں نے اس کی عمارت کو پسند کر لیا لیکن خالی جگہ پر تعجب کیا پس وہ خالی جگہ میں نے آکر پر کردی۔ میرے آنے کے بعد نبوت کا محل مکمل ہو گیا‘‘۔ معلوم ہوا کہ نبوت کی عمارت اب قیامت کے لیے کامل ہو چکی اور اس کسی قسم کی ترمیم کی ضرورت نہیں ہے۔
عزیزان گرامی! برصغیر میں انگریز کی آمد نے جہاں مسلمانوں کے لیے سیاسی و اقتصادی تباہی و بربادی کا سامان کیا۔ وہیں اسلام کے پاکیزہ چہرہ کو داغدار کرنے کے لیے (معاذ اللہ) کئی سازشیں تیار کی گئیں تاکہ ایک جانب وحدتِ اُمت پارہ پارہ ہو تو دوسری جانب اہل اسلام ان کے پیدا کردہ فتنوں کی سرکوبی میں مصروف ہو کر انگریز کے خلاف جدوجہدِ آزادی سے صرف نگاہ پر مجبور ہوجائیں۔ اندرونی خلفشار اہل اسلام کو اپنے مسائل میں الجھائے رکھے اور سامراج ہندوستان کی دولت سمیٹ کر اپنے ملک میں جمع کرتا رہے۔ اس کے لیے انگریزی سامراج نے جہاں دیگر ہتھکنڈے اختیار کیے وہیں مرزا غلام احمد قادیانی کی صورت میں فتنہ اکبر کھڑا کیا تاکہ اس عظیم فتنے کے وجود سے وحدت امت پارہ پارہ ہو جائے۔ انگریزی سامراج کے زیر سایہ یہ فتنہ خوب پروان چڑھانے کی کوشش کی گئیں تاہم علماء اسلام نے اس کذاب و دجال کی عقدہ کشائی کے لیے کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کیا۔ سب سے پہلے اسلامیان برصغیر کو آگاہ کرنے اور کفر سے بچانے کے لیے ممتاز عالم دین مولانا ابو سعید محمد حسین بٹالوی نے اس مردود کو مناظرہ کا چیلنج دیا اور کفر کا فتویٰ صادر کر کے امت کو اس نئے چیلنج سے آگاہ کیا۔ اسی طرح چونکہ انگریزی حکومت تھی لہٰذا اسلامی سزا جاری نہیں ہو سکتی تھی البتہ علمی میدان میں اہل اسلام نے اس مردود کا خوب مقابلہ کیا۔ مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ نے مرزا مردود سے دو سو سے زائد مناظر ے کیے اور بحمدللہ تعالیٰ ہر معرکہ میں کامیاب و کامران رہے۔ یہاں تک کہ خود مرزا غلام احمد قادیانی نے زچ ہو کر مولانا ثناء اللہ امر تسری کو مباہلہ کا چیلنج دے ڈالا اور اعلان کیا کہ اللہ تعالیٰ جھوٹے کو سچے کی زندگی میں موت دے تاکہ حق ظاہر و غالب ہو اور باطل ذلیل و رسوا ہوجائے۔ چنانچہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے پیارے پیغمبرؐ کی ختم نبوت کی آبرو کی اس طرح لاج رکھی کہ مردود مرزا لاہور میں بیماری میں مبتلا ہو کر بیت الخلا میں واصل جہنم ہوا اور مناظر اسلام کئی برس زندہ رہے یہاں تک کہ قیام پاکستان کے بعد مولانا ثناء اللہ امرتسری پاکستان ہجرت کر کے سر گودھا میں تشریف لے آئے اور 1949ء میں ان کا انتقال ہوا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مرزا مردود کے واصل جہنم ہونے کے بعد اس کی ذریت و جماعت اجتماعی توبہ کر کے رجوع اسلام کر تی اور فتنہ انگیزی سے باز آجاتی تاہم اس گروہ نے پاکستان بننے کے بعد سر ظفر اللہ جسے بدبختوں کی سر پرستی میں خوب پر پرزے نکالے اور اہم عہدوں پر قابض ہو گئے یہاں تک کہ 1952 اور 73 میں ان کے خلاف بڑے پیمانے پر تحریکیں چلیں اور ہزاروں علماء کرام و عوام نے نہ صرف جانوں کے نذرانے پیش کیے اور پابند سلاسل کیے گئے لیکن قیام پاکستان کے بعد اس سو سالہ گمراہ فتنہ کو بھٹو مرحوم نے علماء کرام کے دباؤ، مرزا ناصر احمد سے قومی اسمبلی میں مناظروں میں کامیابی کے بعد بالآخر ستمبر میں قومی اسمبلی میں متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا اور انہیں مسلمانوں سے علٰیحدہ قرار دیا گیا۔ البتہ آج بھی یہ گمراہ ٹولہ اپنی سر گرمیوں سے باز نہیں آیا۔ اسلام اور پاکستان کے خلاف ریشہ دوانیاں اور امریکا و یورپ وغیرہ میں اسلامی لبادہ اوڑھ کر اسلام کو رسوا کر رہا ہے۔ اندرونی سطح پر بدین تھرپارکر، گوجرانوالہ اور دیگر شہروں کے پسماندہ علاقوں میں ان پڑھ غریب مسلمانوں کو روپے پیسے کا لالچ اور بیرون ملک ویزوں کی آفر دے کر عیسائیت و قادیانیت اسلام و پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ شدید ضرورت ہے کہ پاکستانی مسلم حکومت ان پر کڑی نگاہ رکھے اور ان گمراہ کافر گروہوں کو تبلیغ سے قانوناً روکا جائے تاکہ سادہ لوح مسلمانوں کو ان کی چالبازیوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔ اللہ تعالیٰ ہمارا حامی و ناصر ہو۔ آمین یا رب العالمین