مہنگائی کا طوفان

198

عوام الناس کے نقطہ نظر سے پاکستان میں اقتصادی بحران ماضی کے مقابلے میں زیادہ اذیت ناک ہوتا جارہا ہے۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں روز کے حساب سے بڑھ رہی ہیں۔ جب کہ ذرائع آمدنی میں اضافے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ کیا موجودہ اقتصادی بحران حقیقی ہے؟ ہرگز نہیں۔ یہ بحران مصنوعی ہے اور اس کے ذمے دار عالمی اقتصادی ادارے، سرمایہ دار ممالک اور ان کے آلہ کار مقامی حکمراں ہیں جنہوں نے جان بوجھ کر قوم کو عذاب میں مبتلا کیا ہے۔ بچے بچے کو یہ بات معلوم ہے کہ قیمتوں میں بے مثال و بے نظیر اضافے کی وجہ آئی ایم ایف کی غلامی ہے۔ پٹرول، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ حکومت نے رات گئے پٹرول کے نرخوں میں اضافہ کردیا۔ واضح رہے کہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب رات تقریباً 2 بجے وزارت خزانہ کی جانب سے پٹرول کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا کوئی نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا۔ پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے بعد بجلی کے نرخوں میں 4 روپے 10 پیسے فی یونٹ اضافہ کیا گیا، اسی کے ساتھ یوٹیلیٹی اسٹور پر اشیا کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی شرح میں گراوٹ مسلسل جاری ہے۔ یہ گراوٹ اس وجہ سے ہورہی ہے کہ آئی ایم ایف کی غلامی کے باعث حکومت پاکستان کا اپنی ہی کرنسی پر اختیار ختم کردیا گیا۔ پٹرول کی قیمت میں اس امر کے باوجود اضافہ ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت کم ہوئی ہے۔ لیکن ہمارے حکمراں کسی بھی صورت میں عوام کو کوئی سہولت دینے پر تیار نہیں۔ ہماری حکومت گزشتہ پانچ ماہ میں سات بار پٹرول کی قیمت میں اضافہ کرچکی ہے۔ روپے کی قیمت میں کمی پٹرول، بجلی اور گیس کے نرخوں میں مسلسل اضافہ تیز رفتار مہنگائی کا اصل سبب ہے۔ جس کی وجہ سے ہر شے کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ ان کی قیمتوں میں اضافے کا کوئی حقیقی سبب نہیں ہے بلکہ سرمایہ دارانہ نظام کو کنٹرول کرنے والے اداروں کے احکامات ہیں۔ اس نظام نے قدرتی وسائل رکھنے والے تمام ممالک کو اپنا غلام بنالیا ہے، انہیں بدعنوان اور ضمیر فروش سیاست داں بھاتے ہیں۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے صرف یہ دیکھ لیں کہ گزشتہ 30 برسوں میں حکومت اور حکمرانی کرنے والے تمام طبقات کی دولت میں کتنا اضافہ ہوا ہے۔ ایک غریب اور پسماندہ ملک میں رہنے والے بااثر طبقات صرف کروڑوں کی گاڑی میں سفر کرتے ہیں اور گاڑیوں میں پٹرول ایک دن میں ہزاروں روپے کا خرچ ہوجاتا ہے۔ حکومت سندھ نے کم از کم تنخواہ 25 ہزار روپے مقرر کی ہے اور اس پر بھی عملدرآمد نہیں ہورہا ہے۔ کیا کوئی اندازہ کرسکتا ہے کہ مخلوق خدا کس حال میں ہے۔ لیکن مخلوق خدا کی فکر کسے ہے۔ حال یہ ہے کہ ملک سیلاب میں گھرا ہوا ہے منہگائی کی چکی زوروں پر ہے اور حکمران ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے مقدمے دعوے، جلسے جلوس میں مصروف ہیں۔ اگر سب اپنے وسائل کو عوام کی خدمت پر وقف کردیں تو کم سے کم کچھ تو آنسو پونچھے جا سکیں گے۔