ٹرانس جینڈر ایکٹ پر شریعت عدالت کا فیصلہ حتمی ہوگا، وفاقی وزیرقانون

105
Audio Leak

اسلام آباد: وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے ٹرانس جینڈر ایکٹ کے حوالے سے تفصیلی جواب جمع کرادیا ہے اور اس پر وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ حتمی ہوگا،  ملک میں شریعت کے متصادم کوئی قانون نہیں بن سکتا۔

وزیر قانون نے ٹرانس جینڈر قانون کے حوالے سے کہا کہ 2018 میں تمام سیاسی جماعتوں کی موجودگی میں پرائیویٹ ممبرز بل کے ذریعے یہ بل پیش کیا گیا تھا، جس کو پارلیمان کی قائمہ کمیٹی کو بھیجا گیا اور وہاں سے پاس ہوکر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں آیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت کی تمام دستاویزات میں اس قانون پر اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین کی رائے بھی شامل تھی اور اس حوالے سے کیے گئے اجلاس میں پاکستان کی سیاسی اور دینی قیادت بھی موجود تھی۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایکٹ اس وقت کی سیاسی اور دینی قیادت کے ساتھ مشاورت کے بعد پاس کیا گیا تھا جو کہ پرائیویٹ ممبرز بل تھا نہ کہ حکومت کی طرف سے آیا تھا۔وزیر قانون نے کہا کہ جب کوئی قانون پاس ہوتا ہے تو اس پر کوئی نہ کوئی پہلو یا کمزور رہ جاتی ہے اور اس قانون میں بھی ایک حصہ تھا، جس پر دو سال بعد شکایات آنا شروع ہوئیں کہ اس کا غلط استعمال نہ ہو کیونکہ اس قانون کے سیکشن 3 اور 4 کے مطابق ٹرانس جینڈر کا 18 سال کی عمر پر پہنچنے کے بعد جب نادرا میں شناختی کارڈ بنانے کا معاملہ آیا تو صنف کی تشخیص کی گئی کہ وہ میل یا فی میل خواجہ سرا ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ برس جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے ایک ترمیمی بل پیش کیا تھا کہ اس قانون میں موجود شق جس میں خواجہ سرا درخواست دہندہ کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ نیشنل ڈیٹا بیس ریگیولیٹری اتھارٹی (نادرا) کارڈ کے لیے اپنی صنف کا اندراج کرائیں اس پر مناسب ترمیم کرکے میڈیکل بورڈ کی رائے کے ساتھ مشروط کیا جائے۔

وزیر قانون نے کہا کہ یہ معاملہ ابھی پارلیمان میں زیر غور تھا کہ اسی عرصہ میں وفاقی شریعت کورٹ میں دو درخواستیں دائر کرکے اس قانون پر وضاحت طلب کی گئی، جس پر موجودہ حکومت کی وزارت انسانی حقوق نے جواب جمع کروایا کہ عدالت اگر یہ سمجھتی ہے کہ اس شق کی وجہ سے قانون کا بے جا استعمال ہو سکتا ہے۔