ملکی سیاست کی کچھ دلچسپ خبریں

202

ہمارے ملک میں جب سیاسی لوگ ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو ایک سوال ہمیشہ سے درمیان میں گھومتا رہا ہے اور ہماری سیاسی بیٹھکوں اور چوپالوں میں یہ سوال لوگ ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں وہ سوال ہے کہ ہمارے ملک کی سیاست کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟ ایسا لگتا ہے کہ سیاست کا اونٹ ہمیشہ سے کھڑا ہی ہے اور وہ آج تک بیٹھا ہی نہیں آج کل جو دلچسپ خبریں چل رہی ہیں وہ یہ کہ عمران کے لہجے میں سختی کے بجائے جو گداز پیدا ہوا ہے اس کی وجوہ کیا ہیں، بیک ڈور ڈپلومیسی، خفیہ یا اعلانیہ ملاقاتیں! کبھی کسی خبر کی تردید اور کبھی کسی خبر کی تصدیق نہ تردید، کہ امریکی ڈپلومیٹ رابن رافیل بنی گالا گئیں تھیں یا نہیں۔ اسی طرح کی مارکیٹ میں کئی خبریں گردش کررہی ہیں۔ جن میں سب سے اہم خبر یہ ہے کہ نگران سیٹ اپ پر اتفاق ہو گیا ہے، سوشل میڈیا پر جو خبریں چل رہی ہیں اس کے مطابق حفیظ شیخ کو نگراں وزیر اعظم بنانے پر اتفاق ہوگیا ہے۔ دوسری طرف الیکشن کمیشن کی طرف سے یہ بیان پہلے ہی آچکا ہے کہ مردم شماری کے بعد قومی اسمبلی کی نشستوں کا تعین ہوسکے گا اور یہ تمام کام فروری سے پہلے نا ممکن ہے اس لیے شاید اس بات پر بھی اتفاق ہو جائے کہ اگلے انتخابات فروری 2023 ہی میں ہوں۔
ایک خبر یہ بھی شدت سے افواہ کی شکل میں سینہ بہ سینہ سفر کررہی ہے کہ نئے آرمی چیف کا تقرر موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف ہی کریں گے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ خبر بھی کانا پھوسی کے انداز میں گردش کررہی ہے کہ موجودہ چیف کو کوئی توسیع تو نہیں دی جائے گی لیکن اس سے ملتی جلتی کوئی بات ہو سکتی ہے ایک اور مسئلہ ہے جو لوگوں کے ذہنوں میں الجھائو پیدا کررہا ہے کہ شہباز شریف کی لندن میں نواز شریف سے جو ملاقات ہوئی ہے اس میں یہ فیصلہ ہوا کہ اگلے الیکشن اپنے وقت پر یعنی اکتوبر 2023 میں ہوں گے، مولانا فضل الرحمن اور آصف زرداری بھی اسی موقف کے حامی ہیں زرداری صاحب کی تو شروع سے یہ رائے تھی کہ آئندہ انتخابات 2023 میں ہونے چاہییں۔ نواز شریف، شہباز شریف، مولانا فضل الرحمن اور آصف زرداری یہ امید کررہے ہیں کہ اس وقت ملک میں جو روز بروز مہنگائی ہورہی ہے فوری انتخاب ہوئے تو اس پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں اور اگر ہمیں ایک سال کا موقع مل گیا تو ہوسکتا ہے ہم اس صورتحال پر قابو پا لیں اور آئندہ انتخابات تک ہم عوام کو کچھ ڈیلیور کر سکیں۔ اس کے جواب میں عمران خان کی طرف سے جو مضبوط موقف سامنے آرہا ہے وہ بڑا وزن دار ہے کہ ملک میں معاشی استحکام اسی وقت آسکتا ہے جب اس سے پہلے سیاسی استحکام ہو اور سیاسی استحکام کے لیے ملک میں نئے انتخابات کا ہونا ضروری ہے۔
اس میں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ دیکھیے اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے یعنی نگران سیٹ اپ بنتا ہے یا بات آگے بڑھ جاتی ہے آگے بڑھنے سے مراد یہ لانگ مارچ شروع ہو جائے گا اسلام آباد میں احتجاج ہوگا تو پھر بقول مولانا فضل الرحمن کے حکیم ثنا اللہ بھی اپنے معجون اور کشتے لے کر میدان میں آجائیں گے۔ لیکن ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ عمران خان کی طرف سے لانگ مارچ کی دھمکی اور پی ڈی ایم کے رہنمائوں کی طرف سے اپنے وقت پر سوا سال بعد انتخاب کی باتیں اپنی سودے بازی کی قوت کو بڑھانے کے لیے ہو کہ ہر فریق یہ چاہتا ہو کہ نگراں سیٹ اپ کی تشکیل میں ان کی آرا اور تجاویز کو زیادہ اہمیت دی جائے۔
ایک دلچسپ خبر یہ بھی ہے کہ تحریک انصاف پاکستان کی کور کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں موجودہ سیاسی حالات کے حوالے سے کچھ اہم فیصلے کیے گئے لیکن اس میں ایک بات بڑی اہم سامنے آئی کہ عمران خان نے کہا کہ کچھ لوگ مجھے بائی پاس کرکے اسٹیبلشمنٹ سے رابطے کرتے ہیں انہوں نے تنبیہ کی کہ آئندہ ایسا نہیں ہونا چاہیے، پی ٹی آئی میں کون سا رہنما ہے جو عمران خان کے بالا اسٹیبلشمنٹ سے رابطے میں ہے بہرحال عمران خان کو معلوم ہوگا کہ وہ کون لوگ ہیں۔ ایک اور اہم بات جو سیاسی حلقوں میں تیزی سے گردش کررہی ہے کہ کیا ہمارے سیاستدانوں میں یہ صلاحیت نہیں ہے کہ وہ خود آپس میں دل صاف کرکے مل بیٹھیں اور ملک کی سیاسی و معاشی صورتحال کے حوالے سے از خود کوئی لائحہ عمل طے کرلیں کیا ضروری ہے کہ کسی بیرونی سفارتی شخصیت کو آنا پڑے ہم اپنے ملک میں شروع سے یہ دیکھتے چلے آرہے ہیں کہ جب 1977 میں پاکستان قومی اتحاد کی بھٹو کے خلاف تحریک چل رہی تھی اس وقت ملک میں کوئی ایسی جاندار اور غیر جانبدار شخصیت نہیں تھی جو دونوں متحارب فریقوں کو ایک میز پر لا کر بٹھا دے یہ کام بھی اس وقت کے سعودی عرب کے پاکستان میں سفیر ریاض الخطیب نے کیا کہ وہ درمیان میں آئے اور پھر پی پی پی اور پی این اے کو مذاکرات کی میز پر بٹھا دیا، اسی طرح یہ بات بھی کئی بار پریس میں آچکی ہے کہ مسز کونڈا لیزا رائس نے پرویز مشرف اور بے نظیر بھٹو کے درمیان رابطہ کرایا تھا اور اس طرح انہوں نے رابطہ کار کے طور پر دونوں کے درمیان مذاکرات کرائے اور اس کے بعد پرویز مشرف نے بے نظیربھٹو کو این آر او دیا کم از کم اب تو یہ ریت ختم ہوجانی چاہیے کہ ہمارے درمیان صلح کرانے کے کوئی بیرون ملک سے آئے اور اپنے اثر رسوخ استعمال کر کے میل ملاپ کرائے۔
دلچسپ خبروں میں ایک خبر یہ بھی چل رہی ہے کہ صوبہ پنجاب میں بھی تبدیلی آنے والی ہے وہ تبدیلی کیا ہے کیا وزیر اعلیٰ تبدیل ہو جائیں گے نہیں ایسا نہیں ہے وزیر اعلیٰ تو پرویز الٰہی ہی رہیں گے البتہ وہ پی ٹی آئی کے بجائے ن لیگ کے وزیر اعلیٰ ہوں گے یعنی ان کے باس عمران خان نہیں بلکہ اب شہباز شریف ہوں گے کابینہ میں بہت بڑے پیمانے پر تبدیلی ہو سکتی ہے ناں یہ دلچسپ خبر۔
ایک دلچسپ خبر یہ بھی ہے کہ شہباز شریف کی کابینہ 70افراد پر مشتمل ہے جس میں بہت سے وزراء کو تو پورٹ فولیو بھی نہیں دیے گئے ن لیگ کے جاوید لطیف ابھی تک وزیر بے محکمہ ہیں ایک دلچسپ خبر یہ بھی ہے کہ پی ڈی ایم کی حکومت ہوتے ہوئے ن لیگ کا وزیر اعظم ہوتے ہوئے نواز شریف کی بیٹی کو پاسپورٹ واپس نہیں مل سکا۔