طاہر اشرفی کو عہدے سے ہٹانے پر، پنجاب حکومت سے جواب طلب

115

لاہور ہائی کورٹ نے طاہر اشرفی کی چیئرمین متحدہ علما بورڈ کے عہدے سے ہٹانے کے خلاف درخواست کی سماعت کرتے ہوئے فوری حکمِ امتناعی جاری کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے معاملے پر پنجاب حکومت سے 1 ہفتے میں جواب طلب کر لیا۔

 دورانِ سماعت درخواست گزار ڈاکٹر طاہر اشرفی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ قانون میں چیئرمین علما بورڈ کو مدت مکمل ہونے تک ہٹانے کی گنجائش نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ نئی تقرری کے نوٹیفکیشن میں بھی نہیں لکھا کہ کس قانون کے تحت یہ تبدیلی کی گئی ہے۔عدالتِ عالیہ نے ہدایت کی کہ پنجاب حکومت کے وکیل آئندہ ہفتے تک بتائیں کہ کس قانون کے تحت یہ تقرری کی جاتی ہے۔

طاہر اشرفی کی جانب سے درخواست میں پنجاب حکومت، چیف سیکریٹری، محکمہ اوقاف اور حامد رضا کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں طاہراشرفی نے موقف اختیار کیا ہے کہ مجھے 31 مارچ 2022 کو دوبارہ 3 برس کے لیے چیئرمین متحدہ علما بورڈ پنجاب تعینات کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ حافظ طاہر محمود اشرفی کو متحدہ علما بورڈ پنجاب کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے اور ان کی جگہ صاحبزادہ حامد رضا کو تعینات کیا گیا ہے۔