سابق وزیر خزانہ شوکت ترین کی عدم پیشی کے باعث ایف آئی اے نے نوٹس جاری کردیا

142

سابق وزیر خزانہ شوکت ترین وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) کی جانب سے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کے حوالے سے مبینہ آڈیو کلپ کے معاملے پر نوٹس جاری کردہ نوٹس پر ذاتی حیثیت میں ایف آئی اے کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔

سینیٹر شوکت ترین کی عدم پیشی کے باعث ایف آئی اے نے انہیں طلبی کا ایک اور نوٹس جاری کردیا، نوٹس میں شوکت ترین کو کل 22 ستمبر بروز جمعرات صبح 11 بجے ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل میں پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ شوکت ترین ذاتی طور پر آج 21 ستمبر صبح دس بجے طلبی  کا نوٹس جاری کر رکھا تھا لیکن سابق وفاقی وزیر دن ساڑے بارہ بجے تک انکوائری ٹیم کے سامنے پیش نہ ہوئے بعدازاں انکی جانب سے انکوائری ٹیم کو رابطہ کرکے آگاہ کیا گیا کہ انھیں نوٹس نہیں ملا جس پر ایف آئی اے سائبر کرائم نے انکے مکمل نام شوکت فیاض احمد ترین و شناختی کارڈ نمبر کے ساتھ کراچی کے ایڈرس پر طلبی کا نیا نوٹس جاری کردیا۔

نوٹس میں انھیں کل جمعرات 22 ستمبر کوصبح 11 بجے ایف آئی اے سائبر کرائم رپورٹنگ سنٹر اسلام آباد پیش ہونے کے لیے کہاگیا ہے اور نوٹس کو باقائدہ رسیو بھی کرایا گیا ہے۔

اس سے قبل خیبر پختونخوا کے وزیر خزانہ تیمور خان جھگڑا نے وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل کو ایک خط لکھا تھا کہ رواں سال حکومت صوبائی سرپلس فراہم نہیں کر سکتی۔

تازہ نوٹس پر نیشنل سیکورٹی اینڈ تھریٹس کے الزامات کا عنوان بھی تحریر ہےجبکہ تازہ ارسال کیے گئے نوٹس میں بھی کہا گیا ہے کہ آپ کے خلاف انکوائری ارشد محمود کی درخواست پر خیبر پختونخوا کے وزیر خزانہ تیمور جھگڑا اور آپ کے مابین فون کال کی بنیاد پر شروع کی گئی فون کال میں آپ تیمور جھگڑا کو اکسا رھے ہیں خیبر پختونخواہ حکومت وفاقی حکومت کو خط ارسال کرے کہ فسکل بجٹ کی اضافی رقم واپس نہیں کی جائے گی تاکہ ایسا کرنے سے وفاقی حکومت اورآئی ایم ایف کے مابین مسائل پیدا یوں۔

دوسرے و تازہ نوٹس میں شوکت ترین سے کہا گیا ہے آپ ذاتی حثیت میں 22 ستمبر صبح11 بجے ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل اسلام آباد پیش ہوں تاکہ آپکا بیان ریکارڈ کیا جاسکے۔

واضح رہے کہ گزشتہ مہینے ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر ایک آڈیو کلپ گردش کر رہی تھی، جس میں شوکت ترین کو خیبر پختونخوا اور پنجاب کے وزرائے خزانہ کو یہ ہدایات دیتے سنا جاسکتا تھا کہ وہ وفاقی حکومت اور آئی ایم ایف کو بتائیں کہ پاکستان میں تباہ کن سیلاب کی روشنی میں صوبائی بجٹ سرپلس کا وعدہ نہیں کر سکیں گے۔