اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری کی سچی اور کھری باتیں

266

اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری نے پاکستان میں سیلاب کے حوالے سے جو باتیں کی ہیں وہ اس حوالے سے سچی اور کھری باتیں ہیں کہ ایسا اظہارِ حق کسی عالمی رہنما نے نہیں کیا۔ انتونیوگوتریس نے پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں کا براہ راست مشاہدہ کرکے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان گلوبل وارمنگ کے ذمے دار ترقی یافتہ ممالک کے کیے دھرے کی سزا بھگت رہا ہے پاکستان اور دوسرے ترقی پزیر ملک فیوسل ایندھن جلا کر بڑے پیمانے پر کاربن کا اخراج کرنے والے ترقی یافتہ ملکوں کی مداخلت کی ہولناک قیمت ادا کررہے ہیں ترقی یافتہ ملکوں کے اس عمل کی وجہ سے عالمی درجہ حرارت بڑھ رہا ہے گلیشیر پگھل رہے ہیں سیلاب آرہے ہیں پاکستان کے پاس نقصانات کی تلافی کے لیے وسائل نہیں ہیں لہٰذا جنہوں نے یہ صورتحال پیدا کی ہے انہیں پاکستان کی بھر پور معاونت کرنا چاہیے۔ یو این کے سیکرٹری جنرل نے اپنے موقف کی وضاحت میں تین نکات پیش کیے پہلی بات تو یہ کہ پاکستان کو اس بحران سے نکلنے کے لیے بھاری مالی امداد کی ضرورت ہے دوسری یہ کہ ہمیں قدرت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ بند کرنا ہوگی۔ ماہرین کے مطابق ہمیں 2023 تک ان گیسوں کا اخراج 45فی صد کم کرنا ہوگا تیسری یہ کہ ہمیں مستقبل میں دوبارہ اس صورتحال سے بچنے کے حوالے سے ان ممالک کے لیے رہنما اصول بھی طے کرنا ہوں گے جو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہیں اور پاکستان بھی اس میں شامل ہے اس کے لیے بڑی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک سیلاب کی تباہ کاریوں اور نقصانات پر بڑے ممالک کی طرف سے کوئی سنجیدہ توجہ نہیں دی جارہی ہے لیکن ہم اس ضمن میں ہر ممکن قدم اٹھائیں گے اور ان ممالک کو تعاون پر آمادہ کریں گے جو امداد دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری نے دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کی کوشش کی ہے۔ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو فرنٹ لائن میں ہیں اور موسمیاتی تبدیلی کے چیلنج کا سامنا کررہے ہیں۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں ہونے والی ہولناک تباہی کو موسمیاتی قتل عام قرار دیا اور عالمی مالیاتی اداروں اور ترقی یافتہ ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ قرضوں کی فراہمی اور وصولی میں الجھے رہنے کے بجائے موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات کا نشانہ بننے والے پاکستان جیسے ملکوں کے انفرا اسٹرکچر کی بحالی کے لیے کوئی نیا اور موثر طریقہ کار اپنائیں۔
اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری کی ان سچی اور کھری باتوں پر کیا اقوام عالم توجہ دیں گے۔ اسی بات کو جماعت اسلامی کے امیر جناب سراج الحق نے اس طرح کہا ہے کہ پاکستان ڈوبا نہیں ہے بلکہ ڈبویا گیا ہے یہ معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھایا جائے عالمی مالیاتی ادارے سمیت دیگر ادارے پاکستان کے قرضے معاف کریں ذمے دار ممالک نقصان پورا کریں۔ امریکا، روس، چین سمیت جتنے ممالک نے فضائی آلودگی پھیلائی ہے وہ پاکستان کا نقصان پورا کریں آئی ایم ایف اور عالمی مالیاتی ادارے پاکستان کے قرضے معاف کریں۔
اس وقت پاکستان کی معاشی حالت بہت خراب ہے ایسے میں سیلاب کی آفت نے اور سانس لینا دشوار کر دیا ہے۔ امید ہے کہ ہمارے وزیر اعظم شہباز شریف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب میں موسمیاتی تبدیلی کے پاکستان پر پڑنے والے خوفناک اثرات کے حوالے سے تفصیل بیان کریں گے اور امید ہے کہ اقوام عالم پاکستان کا قرض معاف کرنے والے مطالبے کو فوراً قبول کر لیں گے۔
پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جس کے پاس دنیا میں سب سے زیادہ گلیشیر ہیں ایک اندازے کے مطابق سات ہزار سے زائد گلیشیر ہیں یہ گلیشیر گرمی پڑنے پر پگھلتے رہتے ہیں اس سے پانی کی ضروریات پوری ہوتی ہیں، کہتے ہیں دنیا میں آئندہ جنگ پانی پر ہوگی قدرت نے پاکستان پر یہ مہربانی کی ہے کہ پانی کا بہت بڑا ذخیرہ بڑے بڑے گلیشیر کی شکل میں رکھ دیے ہیں موجودہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے جہاں بہت زیادہ بارشیں ہوئیں ہیں وہیں یہ بھی ہوا کہ ماحولیاتی گرمی کی وجہ سے کئی گلیشیر بھی پگھل کر دریائوں میں سیلاب اور طغیانی کا سبب بنے ہیں پاکستان میں جس طرز کا سیلاب آیا ہے اس نے پچھلے تمام سیلابوں کو مات کردیا 2010 میں جو سیلاب آیا تھا اس کا پھیلائو اور اس کی سنگینی آج کے سیلاب سے کم تھی۔ 2022 کا سیلاب نہیں بلکہ یہ ایک سیلابی آفت ہے جس کے نقصانات کا ابھی تک ٹھیک ٹھیک اندازہ نہیں لگایا جا سکا۔ کئی مقامات تو ایسے ہیں جہاں ایک دفعہ سیلاب آگیا اور یہ خیال تھا کہ اب دوبارہ کوئی سیلاب نہیں آئے گا لیکن اسی جگہ پر دوبارہ سیلاب کا پانی آگیا اس طرح کی غیر یقینی صورتحال میں آباد کاری کا کام بہت مشکل میں پڑجاتا ہے اسی طرح بعض علاقے ایسے ہیں جہاں تک امدادی ٹیموں کی رسائی نہیں ہو سکی وہاں ہیلی کاپٹر کے ذریعے امداد پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہیں اس وقت پاکستا ن کی جو معاشی کیفیت ہے وہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کہ کوئی مریض وینٹی لیٹر پر ہو اور اسے مصنوعی سانسوں پر زندہ رکھنے کی کوشش کی جارہی ہو۔
سیلاب کے حوالے سے بڑے پیمانے پر غیر ممالک سے امداد آرہی ہے اب یہ امداد کس طرح اور کیسے تقسیم کی جاتی ہے اس پر کئی حلقوں کی طرف سے تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے یہ اس قوم کی بد قسمتی ہے کہ ایسے لوگوں کو یہ ہر دفعہ منتخب کرتی ہے بالخصوص صوبہ سندھ میں جو لوگ ووٹ لے کر ہم پر مسلط ہو جاتے ہیں وہ عوام کی خدمت کرنے کے بجائے پہلے تو اپنے انتخابی اخراجات پورے کرنے کی فکر میں لگ جاتے ہیں اس کے بعد سیاست میں مال کمانا اپنا حق سمجھتے ہیں ایسے رہنمائوں کے ہاتھ میں جب امداد کی تقسیم کی ذمے داری ڈالی جائے گی تو آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کتنی امداد اصل مستحقین کو پہنچے گی اور کتنی مصنوعی مستحقین کو۔