ماحولیاتی تبدیلی کے سب سے کم ذمے دار ممالک بدترین نتائج کا سامنا کر رہے ہیں،اقوام متحدہ

110
help flood victims

نیویارک: اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے کہا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کے سب سے کم ذمے دار اس کے بدترین نتائج کا سامنا کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے دنیا کو خطرات لاحق ہیں، پاکستان میں سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلی۔ انتونیو گوتیرس نے کہا کہ ہمیں مستقبل کے لیے سمندروں کی حفاظت کرنی چاہیے۔ دنیا کو یوکرین جنگ سے موسم گرما کے متعدد بحرانوں تک کا سامنا ہے۔

یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔ دنیا کو اس وقت خوراک کے بحران کا سامنا ہے۔ کھاد کی بڑھتی ہوئی عالمی قیمت سے غذائی اجناس میں کمی جیسے مسائل درپیش ہیں۔سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈے سے بھی مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔انہوں نے امیر ملکوں سے فوسل فیول کمپنیوں پر ٹیکس لگانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ٹیکس کی رقم سے موسمیاتی تباہی اور مہنگائی میں اضافے کا ازالہ کیا جانا چاہیے۔  ہماری دنیا فوسل فیول کے نشے کی عادی ہو گئی ہے، نشہ ختم کروانے کا وقت آگیا ہے۔

انتونیو گوتیرس نے کہا کہ فوسل فیول کمپنیوں اور ان کے مختارکاروں کے احتساب کی ضرورت ہے۔ اقوامِ عالم غیر فعالیت کے بھنور میں پھنسی ہوئی ہیں اور وہ انسانیت کے مستقبل کو درپیش بڑے خطرات سے نمٹنا چاہتی ہیں نہ اس کے لیے تیار ہیں۔ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ نے مزید کہا کہ دنیا کو اس وقت خوراک کے بحران کا سامنا ہے۔ اعتماد ختم، عدم مساوات بڑھ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا سیارہ جل رہا ہے، لوگ تکلیف میں ہیں۔ ہمیں توانائی کے روایتی ذرائع سے ہٹ کر قابل تجدید ذرائع کی طرف جانا ہوگا۔ پائیدار ترقی کے لیے غریب اورترقی پذیر ممالک کو ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت ہے۔