’’!عافیہ تو آبروئے ملتِ اسلام ہے‘‘

262

’’میں ایک مْردہ قوم کی بیٹی کو ملنے والی سزا دیکھنے آیا تھا،لیکن اب میںاِنسانیت کی ماں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو سلام پیش کرتاہوں‘‘۔یہ الفاظ متعصب امریکی وکیل وتجزیہ نگار اسٹیون ڈاوئنز نے 23ستمبر 2010ء کو احاطہ عدالت میں اس دن کہے تھے جس دن ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو جرم بے گناہی کی پاداش میں چھیاسی سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ اسٹیون ڈاوئنز نے ہمیشہ عافیہ کی مخالفت میں تحریریں لکھیں، مگر عدالت کی نااِنصافی اور عافیہ کی جْرم بے گناہی کی سزا دیکھ کر وہ بھی چیخ اْٹھا۔
خود سزا سنانے والے جج رچرڈبرمن نے بھی تسلیم کیا کہ عافیہ کا القاعدہ سمیت کسی دہشت گرد تنظیم سے کوئی تعلق نہیں، عافیہ کو صرف اِس جْرم کی سزادی جاری ہے کہ اِس پر اِلزام ہے کہ اِس نے 6امریکی فوجیوں کو قتل کرنے کا اِرادہ کیا اور بند وق اْٹھائی، اْن پر گولیاں چلائیں لیکن کسی امریکی فوجی کو نقصان نہیں پہنچا۔ جج نے اپنے فیصلے میں یہ بات لکھی کہ عافیہ کے خلاف کسی قسم کے ثبوت موجود نہیں۔ یوں اس کو ایک سراسر جھوٹے مقدمے میں سزا سنا کر انصاف کا خون کیا گیا۔ تب سے اب تک ہماری یہ مظلوم ومعصوم بہن جرم بے گناہی کی سزا کاٹ رہی ہے، جس کا ہر مسلمان اور ہر پاکستانی مجرم ہے۔ ایک خوں خوار درندے اور مطلق العنان حکمران نے، صرف اسلام دشمنوں سے ڈالر بٹورنے کے لیے بچوں سمیت کراچی سے اسلام آباد جاتے ہوئے اغوا کروایا، پھر برسوں بعد اس کا سراغ افغانستان کی جیل میں ملا، وہاں سے اس کو امریکا منتقل کیا گیا، اور ایک جھوٹے مقدمے میں اسے چھیاسی سال کی سزا سنا کر پس دیوار زنداں کردیا گیا، ظلم وستم اور جبر وتشدد کا وہ کون سا حربہ ہے، جو اس کے ساتھ مغرب کے درندے روا نہیں رکھے ہوئے ہیں؟ کیا عافیہ صدیقی کے ساتھ بزعم خود سپرپاور امریکا میں کیا جانے والا یہ ظلم خواتین حقوق کے دعویداروں پر بدنما داغ نہیں ہے؟
جانے وہ کون سی مجبوریاں ہیں جن کی وجہ سے حکمرانوں کے لب سلے ہوئے ہیں۔ ان کو قوم کی معصوم بیٹی پر ڈھائے گئے مظالم یاد ہیں اور نہ ہی اس بات کا کوئی پاس کہ بیٹیاں قوم کی عزت اور اْس کی آبرو ہوا کرتی ہیں۔ کاش! ان کے پہلو میں دل ہوتا، پتھر کی سل نہیں۔ ان کے خفتہ و خوابیدہ ضمیر جانے کب جاگیں گے؟ ان کی آنکھوں سے حب جاہ ومستیِ اقتدار کی پٹی اترے تو انہیں ماں کی شفقت سے محروم عافیہ کے بچے، مثل بسمل تڑپتی جہدِ مسلسل کی تصویر ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کا کرب اور قید تنہائی میں ملی غیرت کا نوحہ کرتی عافیہ صدیقی نظر آئے۔
2017ء کے آغاز میں جب امریکی صدر بارک اوباما اپنی آئینی مدت پوری کرکے سبک دوش ہورہے تھے تو عافیہ کے امریکی وکلا اسٹیون ڈائونز اور کیتھی مینلے، سابق صدر ممنون حْسین کی طرف سے اوباما کے نام ایک خط کے منتظر اور عافیہ کی صدارتی معافی کے ذریعے رہائی کے لیے عافیہ کے وکلا مکمل طور پر پْراعتماد تھے اگر اوباما کی ریٹائرمنٹ کے دنوں میں ہمارے حکمران ایک خط ان کے نام عافیہ کی رہائی کے لیے لکھ دیتے، تو آج ہماری مظلوم حافظہ قرآن بہن آزاد فضا میں سانس لے رہی ہوتی، لیکن بے حمیت حکمرانوں سے، جنہوں نے ووٹ بھی عافیہ کے نام پر لیا تھا، اتنا نہ ہوسکا، ہم پاناما پاناما کھیلتے رہ گئے اور 20 جنوری 2017 کا دِن بھی گزر گیا اور یوں ایک اور آسان موقع عافیہ کی رہائی کا اہل اِقتدار نے دانستہ طور پر ضائع کردیا۔ اس کے بعد عمران خان برسراقتدار آئے جن کے منشور میں عافیہ کی رہائی سرفہرست تھی، اْن کے دورِ اقتدار میں بھی کئی مواقع آئے، امریکا کی جانب سے لیٹرز بھی موصول ہوئے کہ اگر حکومت پاکستان سرکاری سطح پر ہمیں لیٹر لکھ دے تو ہمارے فلاں قانون کا فائدہ عافیہ کو بھی مل سکتا ہے، لیکن حکمرانوں نے، اس جانب بار بار توجہ دلائو ریمائنڈرز بھیجے جانے کے باوجود التفات تک نہ کیا۔ کچھ دن تک تحریک اِنصاف کے پلیٹ فارم سے یہ نوید بھی پاکستانیوں کو سْنائی جاتی رہی کہ موجودہ حکومت کی کوششوں سے جلد عافیہ رہا ہورہی ہیں اور سارا کریڈٹ وزیر اعظم عمران خان کو جاتا ہے۔ عافیہ کی رہائی تو دور کی بات، وہ عافیہ کے بچوں اور ضعیف والدہ سے ملاقات تک کا وقت نہ نکال سکے۔ عافیہ نے عمران خان کو خط بھی لکھا جس میں انہیں اپنا آئیڈیل قرار دے کر درخواست کی کہ میری رہائی کے لیے کچھ کریں، مگر جھوٹے منہ بھی وزیر اعظم نے کبھی عافیہ بہن کا تذکرہ نہیں کیا۔
آج کل وزیر خارجہ بلاول زرداری ہیں، کیا ہی اچھا ہو کہ بلاول ایک بھر پور کوشش کریں۔ جو بائیڈن سے اِن کے والد کے بھی اچھے تعلقات ہیں، دونوں باپ بیٹا امریکا جائیں صدر امریکا سے ملیں، پارلیمنٹ کے ارکان سے بھی اور عافیہ صدیقی کے کیس کی مکمل تفصیل وعدالتی فیصلہ کی کاپی دکھائیں جس میں جج خود عدالتی فیصلے میں عافیہ کی بے گناہی کو تسلیم کررہا ہے؛ اور اْنہیں اِن کی فوری رہائی کے لیے قائل کریں۔ یقینا یہ بہت بڑی حکومت کی کامیابی ہوگی اور آپ کی چند ماہ کی حکومت کی کارکردگی میں یہ کارنامہ سنہری حروف میں لکھاجائے گا۔
چند ماہ قبل اپنی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے بات کرنے، ملاقات کرنے اور اس کی ایک جھلک دیکھنے کی امیدیں دل میں دبائے عافیہ صدیقی کی امی جان محترمہ عصمت صدیقی بھی دار ِآخرت سدھار گئیں، ان کی صحت اسی دن سے گرنا شروع ہوگئی تھی جب ان کی بیٹی کراچی ائرپورٹ سے تین بچوں کے ساتھ اسلام آباد جانے کے لیے نکلیں اور اسلام آباد نہ پہنچ سکیں۔ اْنہیں اپنی بیٹی اور اس کے تین چھوٹے بچوں احمد، مریم اور شیرخوار سلیمان کی فکر اندر اندر ہی سے کھائے جارہی تھی۔ وہ ایک حساس دل کی مالک، عالمہ فاضلہ، مفسر اور ادیب خاتون تھیں، اْن کے آنسو آنکھ سے گرتے اور کاغذ میں جذب ہوجاتے اور ان کی اندرونی کیفیات لفظوں کا روپ دھار لیتیں۔ دل کا بوجھ قرطاس کے حوالے کرکے ذرا بدن ہلکا ہوجاتا تو وہ مصلیٰ بچھا لیتی تھیں۔ ان کی ہر دعا میں عافیہ تھی! یقینا ماں کے لبوں سے ادا ہوتے یہ الفاظ، جو دل کی گہرائیوں سے نکلتے تھے، عرش میں تھرتھلی مچا دیتے ہوں گے۔ حال ہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکم دیا کہ عافیہ کے اہل خانہ کے امریکا جانے کی قانونی کارروائیاں پوری کی جائیں تاکہ خود وہاں جاکر عافیہ کو دیکھ اور اْن سے مل سکیں؛ تو امید ہوچلی تھی کہ شاید امی جان کی ترستی نگاہیں بیٹی کو دیکھ سکیں گی، مگر امی کے پاس شاید وقت کم تھا، وہ حکومت اور اداروں کو بھی بارہا آزما چکی تھیں، سو اِس حکم کی تعمیل سے پہلے ہی اللہ کے حضور پہنچ گئیں۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے سلسلے میں ہم میں سے ہر شخص، تنظیم اور ادارے کو اپنی بساط بھر کوشش کرنی چاہیے، کیونکہ یہ ہم سب کا اجتماعی المیہ اور اس حوالے سے اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہم سب کا اجتماعی فریضہ ہے۔ قوم کے ہر فرد کو چاہیے کہ وہ عافیہ بہن کے لیے دستِ دعا بھی دراز کرے۔ فری عافیہ موومنٹ کی طرف سے اس سلسلے میں سوشل میڈیا کے محاذ پر جو کوششیں ہو رہی ہیں، ان میں بھی شریک ہو اور سیاست دانوں اور حکمرانوں کو بھی ان کی ذمے داریوں کی طرف متوجہ کرے۔ اگر قوم کے ہر فرد نے اپنی اپنی ذمے داری نبھائی تو جلد یا بدیر سیاست و حکومت کے ایوانوں میں بیٹھے عوامی نمائندے بھی خواب غفلت سے جاگنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ فری عافیہ موومنٹ کے تحت ہونے والی تمام کوششوں کو اللہ تعالیٰ بارآور وثمر بار فرمائے اور اہل وطن کو وہ دن جلد سے جلد دیکھنا نصیب ہو، جب ہماری یہ مظلوم، بے بس، بیمار ولاچار مگر عظیم بہن آزاد فضا میں سانس لے رہی ہو۔
ایں دعا ازمن واز جملہ جہاں آمین باد