درسِ حدیث(آخری حصہ)

267

پانچواں طبقہ: ’’جب کوئی خوب صورت اور جاہ ومنصب والی عورت کسی جوان مرد کو گناہ کی دعوت دے اور وہ شخص محض خوفِ خدا سے گناہ سے باز رہے‘‘، یہ بہت دشوار گزار گھاٹی ہے اور اس گھاٹی سے گزرنے والوں کے امام سیدنا یوسفؑ ہیں۔ جب عزیز مصر کی بیوی نے ان سے کہا: ’’اور جس کام کا میں نے اسے حکم دیا ہے، اگر اس نے وہ کام نہ کیا تو اُسے ضرور قید کردیا جائے گا اور وہ ضرور بے وقار لوگوں میں سے ہوجائے گا‘‘، (یوسف: 32) اس کے جواب میں سیدنا یوسفؑ نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی: ’’اے میرے رب! جس (گناہ) کی طرف مجھے یہ عورتیں دعوت دے رہی ہیں، اس کی بہ نسبت قیدخانہ مجھے زیادہ پسند ہے‘‘۔ (یوسف: 33) گناہ کے تمام تر اسباب اور محرّکات کے باوجود سیدنا یوسفؑ کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے عورتوں کے مکر سے محفوظ رکھا، اس کی بابت آپ نے فرمایا: ’’میرا مقصد اپنے نفس کی پاک بازی بیان کرنا نہیں، بے شک نفس تو برائی کا بہت حکم دینے والا ہے، مگر جس پر میرا رب رحم فرمائے، یقینا میرا رب بہت بخشنے والا نہایت رحم فرمانے والا ہے‘‘۔ (یوسف: 53)
یہ خوفِ خدا تھا جس نے یوسفؑ کو عین عالَمِ شباب میں گناہ کی آلودگی سے محفوظ رکھا، انبیائے کرامؑ ویسے بھی معصوم ہیں۔ قرآنِ کریم نہایت بلیغ انداز میں سیدنا یوسفؑ کی پاکیزگیِ کردار کو بیان فرماتا ہے: ’’اور وہ جس عورت کے گھر میں تھے، اُس نے انہیں اپنی طرف مائل کیا اور دروازے بند کردیے اور کہا: آبھی جائو! یوسف نے کہا: اللہ کی پناہ! بے شک وہ میری پرورش کرنے والا ہے، اس نے مجھے عزت سے ٹھکانا دیا ہے‘‘،(یوسف: 23) یہاں جس دوسری چیز کی سیدنا یوسفؑ نے پاس داری کی، وہ احسان شَناسی ہے اور یہ اعلیٰ اخلاقی قدر ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اور جو اپنے رب کے حضور جواب دہی کے تصور سے ڈرے، اُس کے لیے دو جنتیں ہیں، (الرحمن: 46) ’’اور جو اپنے رب کے حضور جواب دہی کے تصور سے ڈرا اور نفسِ امارہ کو اس کی خواہش سے روکا، پس بے شک جنت ہی اس کا ٹھکانہ ہے‘‘۔ (النازعات: 40-41)
سیدنا عمر بن خطاب کے زمانے میں ایک نوجوان پابندِ صلوٰۃ تھا، ایک دن وہ عشاء کی نماز کے بعد گھر واپس جارہا تھا، ایک عورت اپنی خواہشِ نفس کو پورا کرنے کے لیے اُسے بہکا کر اپنے گھر لے گئی، جب اس نے دعوتِ گناہ دی تو اُس کی زبان پر یہ آیت جاری ہوگئی: ’’بے شک جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں، جب انہیں کوئی شیطانی خیال چھو جاتا ہے تو انہیں اللہ یاد آجاتا ہے اور اُن کی چشمِ بصیرت وا ہوجاتی ہے‘‘، (الاعراف: 201) پھر وہ نوجوان بے ہوش ہوکر گر گیا، اس عورت نے اپنی باندی کو بلایا اور دونوں نے مل کر اس نوجوان کو اٹھایا اور اسے اس کے گھر کے دروازے پر چھوڑ آئیں، اس کے گھر والے اسے اٹھاکر گھر میں لے گئے، کافی رات گزرنے کے بعد وہ نوجوان ہوش میں آیا، اس کے باپ نے پوچھا: اے بیٹے! تمہیںکیا ہوا تھا، اس نے کہا: خیر ہے، باپ نے پھر پوچھا تو اس نے پورا واقعہ سنایا، باپ نے پوچھا: بیٹے! تم نے کون سی آیت پڑھی تھی، اس نے اس آیت کو دہرایا جو اس نے پڑھی تھی اور پھر بے ہوش ہوکر گر گیا، گھر والوں نے اس کو ہلایا جلایا لیکن وہ مرچکا تھا، انہوں نے اس کو غسل دیا اور لے جاکر دفن کردیا، صبح ہوئی تو اس بات کی خبر سیدنا عمرؓ تک پہنچی، صبح کو سیدنا عمر اس کے والد کے پاس تعزیت کے لیے آئے اور فرمایا: تم نے مجھے خبر کیوں نہیں دی، اس کے باپ نے کہا: رات کا وقت تھا، سیدنا عمرؓ نے فرمایا: ہمیں اس کی قبر کی طرف لے چلو، پھر سیدنا عمر اور ان کے اصحاب اس کی قبر پر گئے، سیدنا عمر نے کہا: اے نوجوان! جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرے، اس کے لیے دو جنتیں ہیں، اس نوجوان نے قبر کے اندر سے جواب دیا: اے عمر! مجھے میرے رب عزوجل نے دوبار دو جنتیں عطا فرمائی ہیں‘‘۔ (مختصر تاریخ دمشق)
چھٹا طبقہ: ’’ایسا شخص جس نے (اللہ کی راہ میں) پوشیدہ طور پر صدقہ دیا حتیٰ کہ اس کے بائیں ہاتھ کو پتا نہ چلا کہ دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے‘‘۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نفلی صدقات میں اِخفاء یعنی نیکی کو ظاہر نہ کرنا اللہ تعالیٰ کو پسند ہے، قرآنِ کریم میں ہے: ’’اور اگر تم صدقات کو ظاہر کرو گے توتب بھی اچھا ہے اور اگر تم چھپاکر فقراء کو دو گے تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے‘‘۔ (البقرہ: 271) علمائے کرام نے ان دونوں کے درمیان تطبیق اس طرح کی ہے کہ فرائض بدنی ہوں یا مالی عَلانیہ ادا کرنے چاہییں تاکہ لوگ اس کے بارے میں اچھا گمان رکھیں اور نوافل بدنی ہوں یا مالی ان میں اِخفاء بہتر ہے تاکہ ریاکاری کا احتمال نہ رہے۔ یہ ایک فقہی ضابطہ ہے، لیکن یہ تب ہے کہ اظہار یا اِخفاء دونوں لِلّٰہیّت کی بنیاد پر ہوں اور اگر اظہار دکھاوے کے لیے ہوتو اس کی بابت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’اے ایمان والو! احسان جتا کر اور اذیت پہنچا کر اپنے صدقات کو ضائع نہ کرو، اُس شخص کی طرح جو اپنا مال لوگوں کودکھانے کے لیے خرچ کرتا ہے اور وہ اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتا، اس کے (صدقات) کی مثال اس چکنے پتھر کی طرح ہے جس پر کچھ مٹی ہے، پھر اس پر زور کی بارش ہوئی جس نے اس پتھر کو بالکل صاف کردیا‘‘۔ (البقرہ: 264) یہاں ریاکار کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایاکہ وہ اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتا، کیونکہ اگر اس کا اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان ہوتا تو پھر وہ ہر کام صرف اُسی کی رضا کے لیے کرتا اور دکھاوے کا اس کے ذہن میں خیال بھی نہ آتا۔
ساتواں طبقہ: ’’ایسا شخص جس نے خَلوت میں اللہ کو یاد کیا ہو اور (خوفِ الٰہی سے) اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے ہوں‘‘۔ اللہ تعالیٰ کے خوف کے لیے قرآنِ کریم میں خوف، خشیت اور رَہبت کے کلمات آئے ہیں، خوف کسی بھی قسم کا ہو، اس کا تعلق دل ودماغ سے ہوتا ہے اور اس کے آثار جسم پر بھی ظاہر ہوتے ہیں، قرآن کریم نے فرمایا: ’’کامل مومن وہ لوگ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو اُن کے دل دہل جاتے ہیں اور جب ان پر آیات الٰہی کی تلاوت کی جاتی ہے تو اُن کے ایمان کو تقویت ملتی ہے اور وہ اپنے رب ہی پر بھروسا کرتے ہیں‘‘، (الانفال: 2) ’’اللہ نے بہترین کلام اتارا جس کے مضامین (محاسن واحکام میں) ایک جیسے ہیں، بار بار دہرائے ہوئے، اس سے اُن کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں، پھر اُن کے جسم اور اُن کے دل اللہ کے ذکر کے لیے نرم ہوجاتے ہیں‘‘۔ (الزمر: 23)
اس حدیث میں تنہائی میں اللہ کو یاد کر کے رونے کا ذکر ہے، کیونکہ تنہائی میں رونا صرف اخلاص ولِلّٰہیت کے سبب سے ہوتا ہے اور اس میں ریا کا کوئی تصور نہیں ہوتا، کبھی انسان اللہ کے جلال وغضب کو یاد کر کے روتا ہے، کبھی اسے اپنے گناہوں پر ندامت کا احساس رُلاتا ہے اور کبھی اللہ تعالیٰ کی صفاتِ جمال کو یاد کر کے اس کی ملاقات کے شوق میں روتا ہے، کبھی قرآنِ مجید کو سن کر قلب پر رقت طاری ہوتی ہے اور وہ سوزوگداز کی کیفیت میں روتا ہے، قرآنِ کریم میں ہے: ’’اور جب لوگ رسول کی طرف نازل کیے ہوئے کلام کو سنتے ہیں تو آپ اُن کی آنکھوں سے آنسوئوں کو بہتا ہوا دیکھتے ہیں، کیونکہ انہوں نے حق کو پہچان لیا ہے، وہ کہتے ہیں: اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے، پس تو ہم کو بھی (توحید کی) شہادت دینے والوں کے ساتھ لکھ دے‘‘۔ (المائدہ: 83)
’’رسول اللہؐ نے فرمایا: جو شخص اللہ کے خوف سے رویا، وہ جہنم میں داخل نہیں ہوگا، جس طرح تھن سے نکلا ہوا دودھ واپس تھن میں داخل نہیں ہوتا‘‘، (ترمذی) ’’دو (قسم کی) آنکھوں کو جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی: (۱) وہ آنکھ جو اللہ کے خوف سے روئی ہو، (۲) وہ آنکھ جس نے اسلامی سرحدوں کی حفاظت میں بیدار رہ کررات گزاری ہو‘‘، (سنن ترمذی) ’’جس نے اللہ کو یاد کیا، پھر اس کی آنکھوں سے اللہ کے خوف سے آنسو بہہ کر زمین پر گرے ہوں، اس کو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن عذاب نہیں دے گا‘‘، (کنزالعمال) ’’تین اشخاص ایسے ہیں کہ اُن کی آنکھیں جہنم کی آگ کو نہیں دیکھیں گی: (۱) وہ آنکھ جو اسلامی سرحدوں کی حفاظت میں پہرا دیتی رہے، (۲) وہ آنکھ جو اللہ کی خشیت سے رو پڑے، (۳) وہ آنکھ جو محارم کو دیکھ کر جھک جائے‘‘۔ (السنن الکبریٰ للبیہقی)