بجلی کے بل میں ایک اور ٹیکس

229

ایک دو روز سے کراچی میں شہریوں نے کے الیکٹرک کی گاڑیوں اور دفاتر پر کچرا پھینکنا شروع کردیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بجلی کے بل میں اس مرتبہ سے کے ایم سی چارجز بھی لگ کر آرہے ہیں اور لوگ کے ایم سی سے تو پہلے ہی نالاں تھے اب یہ ٹیکس بجلی کے بلوں میں لگنے پر لوگ چراغ پا ہوگئے ہیں۔ ایک انوکھے انداز کا احتجاج ہورہا ہے، لوگ کے الیکٹرک کی گاڑیوں کو روک کر انہیں کچرے کے تھیلے دے رہے ہیں اور کہیں لوگ کے الیکٹرک کے دفتر پر کچرا پھینک رہے ہیں۔ دراصل یہ دوطرفہ معاملہ ہے حکومتوں کو عوام کی جیبوں سے ٹیکس نکلوانے کا آسان طریقہ ہاتھ آگیا ہے کہ جو ٹیکس وصول کرنا ہو بجلی کے بل میں ڈال دو اور اب بجلی کا بل کے ایم سی ٹیکسوں کے ساتھ آنے لگا۔ ادارے سہولت اور لوگ بل نہیں دیتے بجلی کے بل میں پہلے ہی کئی ٹیکس موجود ہیں۔ صرف گزشتہ ماہ کا بل دیکھیں تو بجلی کے چارجز کے علاوہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ، فیول ایڈجسٹمنٹ، الیکٹریسٹی ڈیوٹی، سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس، ٹی وی لائسنس فیس اور ایک عجیب ٹیکس ہے، گورنمنٹ چارجز۔ ایک 80 گز کے مکان میں جہاں دو ہزار تک کا بل آتا تھا اچانک 12 ہزار کے بل آنے لگے ہیں اگر بڑے گھروں کا بل دیکھا جائے تو جس گھر کے بل میں بجلی کا استعمال 20 ہزار تھا اس پر ٹیکس ملاکر 40 ہزار کا بل بنادیا جاتا ہے۔ اب کے ایم سی چارجز بھی لگ گئے ہیں اور جو بل ادا نہیں کرے گا اس کی بجلی کاٹ دی جائے گی کنٹونمنٹ کے علاقوں میں بھی کے ایم سی چارجز اور معمار میں بھی جہاں لوگ سوسائٹی کو میونسپل سروسز کے پیسے دیتے ہیں۔ لوگ احتجاج کے لیے نکل رہے ہیں لیکن حکومت عدالت تمام ادارے اس غنڈہ گردی کے ساتھ ہیں۔ دوسری جانب کے ایم سی، واٹر بورڈ اور کنٹونمنٹ بورڈ کوئی سروس دیئے بغیر ٹیکس وصول کرتے ہیں۔ اس نااہلی کی وجہ سے لوگ انہیں ٹیکس نہیں دیتے حکومت کو اپنے اداروں کی اصلاح بھی کرنی ہوگی۔