ڈاکٹر صفدر محمود، ہمارے دلوںمیں بستے ہیں

225

ڈاکٹر صفدر محمود سچے کھرے پاکستانی، دانشور، ایک عظیم اْستاد، محقق، بے باک تجزیہ نگار، پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے پاسبان، ماہر تعلیم اور بہت بڑے محب وطن تھے۔ ان کی زندگی کے بے شمار رنگ تھے۔ حقیقت میں وہ ولی اللہ تھے۔ صلہ رحمی سیکھنی ہو تو کوئی ان سے سیکھے۔ سادگی خلوص اور محبت کا پیکر، خود نمائی اور غرور و تکبر سے کوسوں دور۔ کبھی کسی نیکی کا اظہار نہ کیا، وہ نیکی کے مواقع کی تلاش میں رہتے۔ ان کی زندگی کے آخری تین برس میں اْن کے بہت قریب رہا۔ وہ زندگی بھر ہزاروںبے سہارا طلبہ و طالبات کی اعلیٰ تعلیم کے انتظامات کرتے رہے۔ جیلوں سے سیکڑوں قیدیوں کی رہائی کے معاملات نبھاتے رہے۔ انہیں رہائی دلوائی، بے شمار بیوگان کا سہارا بنے رہے۔ وہ ضرورت مندوں کا بنک تھے۔ قرآن پاک کے نسخے، احادیث اور سیرت کی کتب، تفاسیر اور دینی کتابیں اپنے پلے سے خرید کر تقسیم فرما دیتے تاکہ علم کی روشنی پھیلتی رہے۔ وہ ایک ہاتھ سے صدقہ خیرات کرتے تو دوسرے ہاتھ کو خبر نہ ہوتی۔ انہیں روحانیت اور تصوف سے خاص لگائو تھا۔ وہ ایک بے چین روح تھے، انہیں پاکستان کی ہر لمحہ فکر رہتی، ہمیشہ بے چین رہتے، مجھ سے اکثر کہا کرتے کہ علامہ صاحب! خدا تک پہنچنے کا آسان ترین طریقہ مخلوقِ خدا کی خدمت ہے۔ اس سے آسان اور سہل کوئی ذریعہ نہیں۔ یہی شارٹ کٹ ہے۔ استغفار اور درود شریف کی کثریت ہر مسئلے کا حل ہے۔ اللہ کے ذکر میں ہی دلوں کا اطمینان اور سکون ہے۔
ڈاکٹر صفدر محمود صاحب نے ایک دن کہا، علامہ صاحب عمرہ کی سعادت اکٹھے حاصل کرتے ہیں، میں نے عرض کیا زہے نصیب، دو سعادتیں اکٹھی حاصل ہو جائیں گی۔ عمرہ بھی ادا ہو جائے گا اور آپ کی خدمت کا موقع بھی ملے گا۔ مسکرانے لگے پروگرام تقریباً بن چکا تھا کہ عالمی ڈرامہ ’’کرونا‘‘ اسٹیج کر دیا گیا۔ چند شر پسندوں نے دنیا کو خوف و ہراس میں مبتلا کر کے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا۔ آمد و رفت کے ذرائع بند ہو گئے۔ عمرہ اور جج پر پابندی لگا دی گئی۔ شیطانی کھیل کے لیے میدان کھلے تھے۔ لوگ گھروںمیںقید ہو گئے۔ ڈاکٹر صاحب نے فرمایا اللہ کو منظور ہوا تو ’’کورونا‘‘ کے بعد اکٹھے عمرہ کی سعادت حاصل کریں گے۔
ایک دن ان کا صوفی پیغام موصول ہوا کہ چند دن بیمار رہنے اور ہسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد گھر آ گیا ہوں۔ میں عیادت کے لیے گیا، کافی کمزور لگ رہے تھے، لیکن مطمئن اور مسرور، کہنے لگے جلد لکھنے پڑھنے کے قابل ہو جائوں گا۔ ان کے سعادت مند اور فرمانبردار بیٹوں اور اہل خانہ نے ان کی ہر طرح سے خدمت کی، خیال رکھا۔ سچی بات ہے جس طرح کے بیٹے اور بیٹیاں ڈاکٹر صاحب کی ہیں اگر ہر گھر میں ایسی اولاد ہو تو پاکستان جنت کا نمونہ بن جائے۔ ان کے بچوں نے خدمت کا حق ادا کر دیا۔ ہر حوالہ سے اْن کا خیال رکھا لیکن ڈاکٹر صاحب باوجود بہترین علاج اور دیکھ بھال کے صحت یاب نہ ہو پائے تو انہیں علاج کے لیے امریکا پہنچایا گیا۔ وہاں وہ کئی ماہ تک بہترین اسپتال اور اعلیٰ ڈاکٹروں کے زیر نگرانی رہے۔ فون پر ان سے اور ان کے بچوں سے مسلسل رابطہ رہا۔ تین برسوں میں ان کے جتنے صوتی پیغام موصول ہوئے اگر انہیں الفاظ کے قالب میں ڈھالا جائے تو ایک اچھی خاصی کتاب بن سکتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے صاحبزادوں خرم محمود اور عمر محمود صاحب نے دنیا کے بہترین ڈاکٹروںسے علاج کرایا۔ اعلیٰ طبی سہولتیں فراہم کیں، لیکن جب دنیا سے دانہ پانی اْٹھ گیا ہو اور سانسوں کی گنتی مکمل ہو جائے تو پھر اللہ کی رضا کے سامنے سر جھکانا پڑتا ہے۔ 13 ستمبر 2021 کو ڈاکٹر صفدر محمود صاحب ہمیں چھوڑ کر اپنے خالق حقیقی کے سامنے پیش ہو گئے لیکن وہ ہمارے دلوں میں زندہ ہیں، اپنے افکار و نظریات، اپنے رفاہی کاموں اور علمی ادبی شہ پاروں کی صورت ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ وہ ہر سچے اور محب وطن پاکستانی کے دل میں بستے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کی یادوں کا سلسلہ بہت طویل اور خوبصورت ہے۔
ایک دن فرمانے لگے آج سے 45 سال پہلے ایک کتاب ’’بانیانِ پاکستان‘‘ لکھی تھی۔ آج پھر قوم کو اس کی ضرورت ہے۔ میں نے کہا شائع ہو جائے گی۔ چند دنوں میں کتاب شائع ہو گئی۔ پھر روحانیت اور تصوف کے حوالے سے بہت ہی خوبصورت تحریروں پر مشتمل کتاب ’’بصیرت‘‘ کے نام سے شائع کی۔ جو تصوف کے دلدادہ لوگوں کے لیے خاص تحفہ ہے۔ قائداعظم، نظریہ پاکستان، علامہ اقبال اور قومی ترانے کے حوالے سے مخالفین کی پیدا کردہ غلط فہمیوں کا ازالہ کرتی کتاب ’’سچ تو یہ ہے‘‘ ڈاکٹر صاحب کو بہت پسند تھی۔ ایک دن فرمایا میری ساری کتب ایک طرف اور ’’سچ تو یہ ہے‘‘ ایک طرف، یہ سب سے بڑھ کر اور اہم ہے۔
’’سچ تو یہ ہے‘‘ میںڈاکٹر صاحب مرحوم و مغفور نے ان تمام الزامات، غلط فہمیوں اور ابہام کا بڑی تحقیق کے بعد مدلل اور ٹھوس حوالوںسے رد کر دیا ہے جو بدباطن لوگ بانیانِ پاکستان اور ان کے اکابرین پر لگاتے تھے۔ یہ کتاب تقریباً پاکستان کی ہر لائبریری تک پہنچی اور پسند کی گئی۔
ڈاکٹر صاحب کی وفات پر پاکستان کے تمام بڑے کالم نگاروں نے ان پر بھرپور کالم تحریر کیے۔ ان لکھنے والوں میںمحسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان، مجیب الرحمن شامی، اوریا مقبول جان، ڈاکٹر حسین پراچہ، قیوم نظامی، سعید آسی، محمد فاروق عزمی، ارشاد احمد عارف، ریاض سیّد، عثمان کسانہ، عامر خاکوانی، سجاد میر جیسے بڑے نام شامل ہیں۔ اوریا مقبول صاحب نے دو کالم تحریر فرمائے بلکہ ٹی وی پر پروگرام کیا۔ یو ٹیوب پر اوریا مقبول صاحب کے پروگرام کے بعد دو تین گھنٹوں کے اندر ’’سچ تو یہ ہے‘‘ کا مکمل ایڈیشن فروخت ہو گیا۔ اس دن مجھے اندازہ ہوا کہ اوریا صاحب کس قدر مقبول ہیں اور لوگ ان کی بات کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔ ڈاکٹر صفدر محمود جب امریکا میں زیر علاج تھے تو جب بھی ان سے بات ہوتی وہ اوریا مقبول صاحب اور ڈاکٹر زاہد منیر عامر کا ضرور ذکر کرتے۔ مجیب الرحمن شامی صاحب اور ڈاکٹر فرید پراچہ صاحب کا پوچھتے اور انھیں اپنے فیملی ممبر کا درجہ دیتے۔ اکثر مجھے کہتے بانی پاکستان اور اکابرین پاکستان کے بارے کچھ
جاننا ہو تو ڈاکٹر زاہد منیر عامر سے رابطہ کریں۔
ڈاکٹر صاحب کی پہلی برسی پر حکومت وقت سے مطالبہ ہے کہ ڈاکٹر صفدر محمود پاکستان کے واحد ماہر تعلیم تھے، جنہیں UNO تک رسائی تھی۔ وہ وہاں وائس چیئرمین منتخب ہوئے۔ وہ قائداعظم، علامہ اقبال، ڈاکٹر عبدالقدیر کے بعد پاکستان کی بڑی شخصیت تھے۔ ان کے نام سے پاکستان میں ایک یونیورسٹی قائم ہونی چاہیے۔ یادگاری ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا جائے اور 50 روپے کا ایک یادگاری سکہ بھی ڈاکٹر صفدر محمود کے نام سے جاری کیا جائے۔
زندہ اور با ضمیر قومیں اپنے قومی ہیرو اور رہنمائوں کو کبھی فراموش نہیں کرتیں۔ ہمیں ڈاکٹر صاحب کی پاکستان، پاکستانی عوام، علم و ادب اور تحقیق کے شعبے میں خدمات پر بجا طور پر فخر ہے۔ ڈاکٹر صاحب ہمارے دلوں میں زندہ ہیں اور ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ اللہ کریم جنت الفردوس میں ان کے درجات بلند فرمائے۔آمین ثم آمین