سفارت کاری اور کھیل کا میدان

262

پاکستان ایشیا کپ ہار گیا ہار اور جیت تو کھیل کا حصہ ہوتا ہے۔ لیکن اگر کھیل کھیل ہی رہے۔ پاکستان کے لیے کھیل کے میدان بھی میدان جنگ بنتے جارہے ہیں۔ اس ٹورنامنٹ میں پاکستان اور افغانستان کے میچ میں پیش آنے والے واقعات معمولی نہیں یہ بات خوش آئند ہے کہ پاکستانی کھلاڑیوں اور شائقین نے اسپورٹس مین اسپرٹ کا مظاہرہ کیا اور نا خوشگواری کے تاثر کو بڑھنے نہ دیا جس پر وہ بلا شبہ تعریف کے مستحق ہیں۔ لیکن یہ اسپرٹ سوشل میڈیا پر نظر نہیں آئی سوشل میڈیا پر چونکہ سب کچھ کہہ دینے کا رجحان ہے اور درگزر اس کی سرشت میں نہیں لہٰذا یہاں افغان ٹیم اور شائقین کے خلاف خوب غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔ کچھ ایسی ہی فضا اور تناؤ ماضی میں بنگلہ دیش کے ساتھ ہونے والے میچز میں بھی نظر آتا رہاہے۔ اگر واقعات اور حادثات ہمیں رکنے سوچنے جائزہ لینے اور حکمت عملی مرتب کرنے پر مجبور نہیں کرتے توپھر ہمیں اس سے بڑے واقعہ کا انتظار کرنا چاہیے۔
دنیا بھر میں کھیلوں کو باہمی محبت ، یگانگت اور امن کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ کرکٹ کی تاریخ میں بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والا میچ کبھی کھیل نہیں رہا۔ ہارنے والوں نے تشدد کا مظاہرہ بھی کیا ٹی وی بھی توڑے لوگ تناؤ برداشت نہ کرپائے اور جان سے بھی گئے۔ بھارت اس معاملے میں آگے ہی رہا اورہار یا جیت دونوں ہی صورتوں میں وہاں کے مسلمان نشانہ بنتے رہے۔ بھارت ہمارا پڑوسی ملک ہے ایسا پڑوسی جس سے ہماری تین جنگیں ہوچکی ہیں لہٰذاکھیل کے میدان کا زندگی اور موت کا میدان بننا سمجھ میںآتا ہے لیکن 1997 میں جب بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم باقاعدہ بین الاقوامی ایک روزہ میچز کھیلنے کا آغاز کیا توبنگلہ شائقین کا پاکستانی کھلاڑیوں سے نامناسب رویہ سامنے آتا رہا جبکہ 2021بنگلا دیش میں نیٹ پریکٹس کے دوران گراونڈ میں پاکستانی پرچم لانے پر بنگلا شائقین ناخوش نظر آئے۔
کیا ان رویوں کا اظہار وقتی اور اتفاقی ہے ؟ کیا یہ سب اچانک اور شکست کے صدمے کی وجہ سے ہے یا یہ ہماری حکومتوں کی نا اہلی اور غلامانہ پالیسیوں کا سبب ہے کہ ہم آج صرف دشمن پڑوسی ملک ہی کی نفرت کا نشانہ نہیں بلکہ برادر اسلامی پڑوسی ممالک کے ہوتے ہوئے بھی تنہا ہیں ؟ پاکستانیوں نے بحیثیت قوم اپنے بھائیوں کی ہر مشکل حالات میں مدد کی ہے پھر کیا وجہ ہے کہ ہمارے لیے ان کے دلوں میں نفرت ہے۔ اس کے برعکس بھارت کے ساتھ ان ممالک کے میچز میں ہمیں ایسا تناؤ نظر نہیں آتا۔
بلاشبہ یہ بھارت کی سفارتی کامیابی اور ہماری ناکامی ہے۔ ہمارے سفارت خانے کیا کررہے ہیں؟ کیا وہ باہمی یگانگت اور بھائی چارہ کا فروغ بھی نہیں کرسکتے ؟ کیا وہ وہاں کے عوام کو یہ باور نہیں کراسکتے کہ ہمارے درمیان جو کچھ ہو رہا ہے یا جو کچھ ہو چکا ہے اس میں بھارت کا کیا کردار ہے؟ آخر بھارت نے بھی تو اپنا اثر قائم کیا ہے۔ بہ نسبت ان کے ہمارے لیے یہ کام زیادہ آسان تھا کہ ہم دین اسلام کی مضبوط کڑی سے جڑے ہیں۔ نیز ہم نے ان ممالک کو قدم جمانے میں ہمیشہ مدد فراہم کی ہے۔
جب ملک کے حکمران ہی ملک کے لیے سنجیدہ نہ ہوں ان کے پاس ملک کی ترقی کا کوئی منصوبہ نہ ہو تو دوسرے ممالک کی سرزمین پر موجود سفارت خانے بھی صرف وقت گزاری کرتے ہیں۔ اور ہم تو اس بات کے چشم دید گواہ ہیں کہ بھارتی سفارتکار اپنے شہریوں کے لیے کتنا سرگرم رہتے ہیں جبکہ پاکستانی سفارتکار تو ڈھونڈے سے نہیں ملتے۔ اس کارگزاری کے اثرات ہر سطح پر ظاہر ہوتے ہیں چاہے وہ کھیل کا میدان کیوں نہ ہو۔
بہر حال کھیل میں شکست برداشت کرنے کا حوصلہ سب میں ہونا چاہئے اور مقابلے میں اگر ہمارا اپنا بھائی ہو تو اس کی جیت بھی ہماری ہی جیت ہے۔ پاکستانی عوام سوشل میڈیا کے ذریعہ اس پیغام کو عام کر کے کامیاب سفارتکاری کر سکتے ہیں۔