جاپان ،سمندری طوفان کاخدشہ،40لاکھ شہریوں سے انخلا کی اپیل

224
جاپان ،سمندری طوفان کاخدشہ،40لاکھ شہریوں سے انخلا کی اپیل

ٹوکیو:جنوب مغربی جاپان میں طاقتور سمندری طوفان نانماڈول خطے کی جانب بڑھنے کے پیش نظر حکام نے 40 لاکھ سے زائد شہریوں سے انخلا کی اپیل کی ہے جبکہ ہزاروں لوگ پناہ گاہوں میں منتقل ہونے پر مجبور ہوگئے۔

میڈیارپورٹس کے مطابق جاپان کی موسمیاتی ایجنسی (جے ایم اے)نے کاگوشیما اور میازاکی علاقوں کے لیے ایک خصوصی انتباہ جاری کیا ہے جو صرف کئی دہائیوں میں ایک بار دیکھے جانے والے حالات کی پیش گوئی کے لیے جاری کیا جاتا ہے۔

اتوارکو صبح شدید بارش اور تیز ہواں نے جاپان کے جنوبی جزیرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، کاگوشیما، کماموٹو، ناگاساکی اور میازاکی میں تقریبا 98 ہزار گھرانے بجلی سے محروم ہوچکے ہیں۔

طوفان کے گزر جانے تک ٹرینیں، پروازیں اور آبی جہاز منسوخ کر دیے گئے ہیں، حتی کہ ہر صورت 24 گھنٹے کھلے رہنے والے اسٹورز بھی بند کیے جا رہے ہیں۔

وزیر اعظم فومیو کشیدا نے طوفان پر حکومتی اجلاس طلب کرنے کے بعد ایک ٹوئٹ میں کہا کہ براہ کرم خطرناک جگہوں سے دور رہیں اور اگر آپ کو خطرے کا معمولی شائبہ بھی محسوس ہو تو براہ کرم وہاں سے نکل جائیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ رات کو وہاں سے نکلنا خطرناک ہو گا، براہ کرم باہر روشنی ہونے تک اپنا خیال رکھیں۔جے ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ خطے کو تیز ہواں، طوفانی لہروں اور طوفانی بارشوں سے غیرمعمولی خطرے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

جے ایم اے کی پیشن گوئی یونٹ کے سربراہ ریوتا کورورا نے کہا کہ زیادہ سے زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے، یہ ایک بہت ہی خطرناک طوفان ہے۔

قومی نشریاتی ادارے این ایچ کے نے کہا کہ کیوشو میں 40 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو انخلا کی وارننگ جاری کی گئی ہے، کاگوشیما اور میازاکی میں حکام کا کہنا ہے کہ آج دوپہر تک مقامی پناہ گاہوں میں مقیم لوگوں کی تعداد 15 ہزار سے زائد ہو جائے گی۔

ماضی میں شدید موسمی حالات کے دوران حکام کو رہائشیوں کو تیزی سے پناہ گاہوں میں منتقل ہونے کے لیے قائل کرنے میں مشکل کا سامنا رہا تھا۔

ریوتا کورورا نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ طوفان کے شدت اختیار کرنے سے قبل وہاں سے نکل جائیں، انہوں نے متنبہ کیا کہ مضبوط عمارتوں میں بھی رہائشیوں کو احتیاط برتنے کی ضرورت ہوگی۔

انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ شدید ہوائیں چلنے سے قبل براہ کرم مضبوط عمارتوں میں چلے جائیں اور ان کے اندر بھی کھڑکیوں سے دور رہیں۔این ایچ کے نے بتایا کہ  علاقے میں بلٹ ٹرین کی آمدورفت معطل اور سیکڑوں پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔

جے ایم اے نے رہائشیوں کو ہر ممکن احتیاط برتنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ کیوشو کے علاقے کے جنوبی حصے میں ایسی تیز ہوا اور اونچی لہریں دیکھنے کو مل سکتی ہیں جو پہلے کبھی نہ دیکھی گئیں۔

کاگوشیما کے ایزومی شہر کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ حالات تیزی سے خراب ہو رہے ہیں، ہوا بہت تیز ہو گئی ہے، بارش بھی شدید ہو رہی ہے، چاروں جانب سفیدی چھا گئی ہے اور حد نگاہ تقریبا صفر ہوچکی ہے۔

مقامی وقت کے مطابق دوپہر ایک بجے تک طوفان یاکوشیما جزیرے کے اوپر موجود تھا جو 234 کلومیٹر (146 میل) فی گھنٹے کی رفتار سے گردش کر رہا تھا۔

خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ یہ شمال مشرق کا رخ کرنے سے پہلے آج شام کو کیوشو میں پہنچ جائے گا اور بدھ کے اوائل تک جاپان کے مرکزی جزیرے پر پہنچ جائے گا۔

جاپان میں اس وقت ٹائفون کا موسم ہے اور اسے ایک سال میں تقریبا 20 ایسے طوفانوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس دوران شدید بارشیں ہوتی ہیں جو لینڈ سلائیڈنگ یا اچانک سیلاب کا باعث بنتی ہیں۔

2019 میں ٹائفون ہگی بس جاپان سے ٹکرایا تھا جب ملک رگبی ورلڈ کپ کی میزبانی کررہا تھا، اس کے نتیجے میں 100 سے زائد افراد کی جانیں گئیں۔

ایک سال قبل ٹائفون جیبی نے اوساکا میں کنسائی ایئرپورٹ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا جس سے 14 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

2018 میں سالانہ بارش کے موسم کے دوران مغربی جاپان میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے 200 سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی طوفانوں کی شدت میں اضافہ کر رہی ہے اور ہیٹ ویو، خشک سالی اور سیلاب زیادہ شدت کے ساتھ بار بار آرہے ہیں۔