قرضوں پر سود ادائیگی، دفاع پر بھاری خرچ، 2 ماہ میں اخراجات جاریہ 11 کھرب

182
قرضوں پر سود ادائیگی، دفاع پر بھاری خرچ، 2 ماہ میں اخراجات جاریہ 11 کھرب

کراچی:رواں مالی سال کے پہلے2ماہ میں وفاقی حکومت کے اخراجات جاریہ بڑھ کر1.1 ٹریلین روپے تک جا پہنچے ہیں۔

وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق رواں مالی سال کے جولائی تا اگست کی مدت71 فیصد سے زائد اخراجات صرف2مدات قرضوں پر سود کی ادائیگی اور دفاع پر ہوئے جبکہ ملک کی فلاح و بہبود اور ترقی پر خرچ کرنے کیلئے بہت کم رہ گیا ہے۔

پاکستان نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ اخراجات جاریہ ہدف سے بڑھنے پر تدارک کیلیے فوری اقدامات کیے جائیں گے، ابتدائی رجحان بتاتا ہے کہ اگر پاکستان میں سیلاب نہ بھی آتے تب بھی حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ 153 ارب روپے کے بنیادی بجٹ سرپلس ہدف کو حاصل کرنا ناممکن تھا،وزارت خزانہ کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق دو ماہ میں اخراجات جاریہ1.09 ٹریلین روپے تھے جو کہ سالانہ تخصیصات کے12.5 فیصد کے برابر ہیں۔

گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں موجودہ اخراجات43 ارب روپے یا4.1 فیصد زیادہ ہیں۔ 580 ارب روپے قرضوں پر سود کی ادائیگی پر خرچ کئے گئے جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 156 ارب روپے یا37 فیصد زیادہ ہیں۔ 191 ارب روپے دفاع پر خرچ ہوئے جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں28 ارب روپے یا 17 فیصد زائد ہیں۔

قرض اور دفاع پر مجموعی اخراجات 773 ارب روپے ہیں جو کہ اخراجات جاریہ کے 71 فیصد کے برابر ہیں۔ جولائی تا اگست کے دوران 773 ارب روپے کے اخراجات وفاقی حکومت کی خالص آمدنی سے 46 فیصد یا 245 ارب روپے زیادہ ہیں۔

اس کے مقابلے میں وفاقی حکومت کے ترقیاتی اخراجات محض 28 ارب روپے رہے جو کہ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 35 ارب روپے یا 56 فیصد کم ہیں۔

وزارت خزانہ کے مطابق رواں ماہ ستمبر میں اخراجات جاریہ کا رجحان بدل گیا ہے اور 13 ستمبر تک کل اخراجات پچھلے مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 226 ارب روپے کم تھے۔

ذرائع کے مطابق حکومت دو ماہ میں 453 ارب روپے دیگر اخراجات میں140 ارب روپے کمی لائی تاہم قرضوں پر سود کی بھاری ادائیگیوں کی وجہ سے مجموعی اخراجات بڑھ گئے۔

ایک طرف حکومت نے بچت اسکیم کے تحت پبلک ریلیشنز ونگز کیلئے اخبارات بند کروا دیئے دوسری طرف کابینہ کی تعداد میں اضافہ کردیا۔

پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن کو اپنے ریٹائرڈ ملازمین کو پنشن کی ادائیگی میں مشکلات کا سامنا ہے۔حکومت کو مالی سال کے اختتام تک یا آئی ایم ایف کی جانب سے سیلاب کے باعث مالیاتی فریم ورک پر نظر ثانی کرنے تک جی ڈی پی بنیادی سرپلس کا 0.2 فیصد برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔