پاکستان، آزاد خارجہ پالیسی کے چیلنجز

266

ازبکستان کے تاریخی شہر سمرقند میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس کے موقع پروزیر اعظم شہباز شریف نے ترکیہ‘ ایران‘ کرغیزستان‘ تاجکستان، چین اور روس کے صدر سے ملاقاتیں کی ہیں، جو پاکستان کے پس منظر میں بہت اہم ہیں، خاص طور پر جہاں روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے ساتھ ہونے والی ملاقات کئی فوری نوعیت کے معاملات بجلی‘ گیس اور پٹرول کی خریداری کے لیے اہم ہیں وہاں مستقبل میں امریکا سے دوری اور امریکی غلامی کا طوق اتارنے کا رستہ بھی یہیں سے نکل سکتا ہے۔ جنگ عظیم دوم کے خاتمے کے بعد دو قطبی دنیا وجود میں آئی تو قیام پاکستان کے بعد پاکستان بتدریج امریکی کیمپ کا حصہ بن گیا۔ جنرل ایوب خان سے لیکر پرویز مشرف تک ہر فوجی آمر امریکا کا پسندیدہ رہا اور یہ پسندیدگی صرف فوجی حکمرانوں تک محدود نہیں رہی بلکہ جمہوری حکمران بھی کسی نہ کسی طور پر امریکی آشیرباد پر ہی حکمران بنایا گیا۔ نواز شریف، بے نظیر بھٹو اور عمران خان سب کے سب ہی امریکی آشیرباد کے منتظر رہے۔ حتیٰ کہ عمران خان نے تو اقتدار سے بے دخل کیے جانے کے بعد اس کو امریکی سازش قرار دیا اور اس کے بعد امریکی عہدیداروں سے خفیہ ملاقاتیں کرکے اپنی پوزیشن کی وضاحت بھی کی۔ پاکستان کی تمام تر پالیسی سازی کا جھکائو بھی امریکا مرکز اور اس ہی کے زیر اثر رہا یہاں تک کہ مشرقی پاکستان کے علٰیحدہ ہوجانے اور امریکی بحری بیڑے کا دھوکا بھی پاکستان کی حکومت اور پالیسی سازی کو امریکی اثر سے نہ نکال سکا۔ پاکستان امریکا کا ایک غلام نما دوست ہے۔ سویت یونین کے خاتمے میں پاکستان کا کردار، افغانستان کے معاملات میں پاکستان کے ذریعے کنٹرول، طالبان کی حکومت کے خاتمے کی اعلیٰ ترین خدمات بھی پاکستان کو تاحال امریکی کا دوست نہ بنا سکیں۔ امریکی خواہشات کی بناء پر پالیسی سازی پاکستان کا وتیرہ بن گئی کہ جس کا ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا۔ یعنی قومی مفاد وہی تھا جو امریکی مفاد تھا کی پالیسی نے دوستوں کو دشمن بنادیا۔ ایک طرف مغرب میں خود ایک بحث پروان چڑھ رہی کہ مغرب اب شاید دنیا میں قیادت کے منصب پر زیادہ دیر فائز نہ رہ سکے۔ اب اس کی جگہ چین لے رہا ہے لیکن اس ساری جدوجہد میں چین اکیلا نہیں بلکہ چین کے ساتھ روس بھی اس مہم کا حصہ ہے یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ امریکا دنیا کا قائد تھا اور تقریباً پورا یورپ اس کا لٹل پارٹنر۔ عالمی منظر نامے پر چین دنیا کہ ایک ابھرتی ہوئی طاقت ہے اور یہ پاکستان کی خوش قسمتی بھی ہے کہ چین پاکستان کا نہ صرف ہمسایہ اور دیرینہ دوست بھی ہے۔ اس تمام تر بدلتی ہوئی دنیا میں ایک طرف امریکا اور برطانیہ ہیں تو دوسری جانب چین و روس، گوکہ چین ہمارا دوست ملک ہے لیکن روس کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی کشیدگی یا سرد مہری کا عرصہ چار دہائیوں پر محیط ہے اور سویت یونین کا شیرازہ بکھیرنے میں پاکستان کا کردار ابھی تک روس کے سامنے ہے۔ شاید حالات کے جبر یا پھر بار بار امریکا کی جانب سے شکوک وشبہات کے بعد پاکستان کے پاس اب یہ اچھا موقع ہے کہ کسی ایک کیمپ کا مستقل حصہ بنے کے بجائے دنیا سے معاملات اپنے عوام کی ضروریات کے مطابق استوار کیے جائیں۔ سی پیک کے بعد سے روس کے ساتھ پاکستان کے تعلقات بحال ہونے شروع ہوئے اور اس میں اب بتدریج سرد مہری کے بجائے گرم جوشی نظر آتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ ایک جانب بھارت کا امریکا سے جوہری معاہدہ ہے جو خطے میں بھارت کو امریکا کا پولیس مین بنانے کے لیے ہے اور دوسری جانب روس و چین اس خطے میں کسی ایک ایسے دوست کی تلاش میں ہیں جو بھارت کے اس خطے میں اثر کو کم کرسکے۔ اس خطے میں پاکستان کے علاوہ کوئی موجود نہیں جو بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم کو روک سکتا ہو۔ بہت سی اجتماعی خطائوں اور کمزوریوں کے باوجود پاکستان ہی اس خطے میں بھارت کا مقابلہ کرسکتا ہے۔ روس نے یوکرین پر حملے کے بعد سے امریکا اور اس کے اتحادیوں کو بتدریج سبق سکھانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سارے کام میں اس کو چین کی مکمل خاموش حمایت حاصل ہے مغربی میڈیا اس پورے گیم پلان کا ماسٹر مائنڈ چین کو قرار دے رہا ہے۔ یاد رہے کہ روس پورے یورپ کی تقریباً 60 فی صد توانائی کی ضروریات کو پورا کرتا ہے ایک جانب یورپی یونین نے روس کا معاشی بائیکاٹ کا فیصلہ کیا تو اس کے جواب میں روس نے توانائی خاص طور پر یورپ کو گیس کی سپلائی بند کرنے پر عملدرآمد شروع کردیا ہے۔ اس کی پہلی کڑی جرمنی کو گیس سپلائی کرنے والی پائپ لائن ’’نورڈ اسٹریم 1‘‘ کی مرمت کے نام پر بندش ہے۔ روس میں موجود گیس و تیل اور اس کی روزانہ پیداوار روس کی اپنی ضروریات سے کئی گنا زیادہ ہے لہٰذا اس گیس کو ٹھکانے لگانے کے لیے مغربی میڈیا کے مطابق روس روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 10 ملین ڈالر کی گیس روزانہ جلا رہا ہے۔ ادھر سردی کی آمد کے ساتھ ہی روس بتدریج یورپ کو گیس کی سپلائی بند کردے گا، جس سے نہ صرف وہاں بدترین معاشی بحران کا خدشہ ہے بلکہ شاید گھروں میں بھی گیس کی لوڈ شیڈنگ کی ضرورت پڑجائے۔ اس پورے بدلتے تناظر میں پاکستان کے لیے ایک بہترین موقع ہے کہ وہ امریکی کے علاوہ بھی روس کے ساتھ اپنے تعلقات کو استوار کرے جیسا کہ ماضی میں روس کے ذریعے پاکستان نے اسٹیل کی پیداوار میں کسی حد تک خود کفالت پیدا کی تھی۔ چین کا سی پیک اور روس کی گیس پاکستان کی ڈوبتی معیشت کے لیے ایک عمل انگیز ثابت ہوسکتی ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے دوران پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف اور روسی صدر ولادی میر پیوٹن کی ملاقات اور روس کی پاکستان کو گیس سپلائی کی پیشکش ایک بہت بڑی اور اہم ترین پیش رفت ہے۔ اس ملاقات میں توانائی کے علاوہ ریلوے کے شعبے میں کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
ماضی میں کئی موقع پر امریکی دبائو کی وجہ سے سی پیک کے معاملات پر چین سے کشیدگی بھی پیدا ہوئی اور بتدریج سی پیک پر کام سست روی کا شکار ہوا، لیکن یہ بات سمجھنے کی ہے کہ پاکستان کی سیاسی، معاشی، صورت حال اسی وقت ٹھیک ہوسکتی ہے، جب تک امریکا سے دوری نہیں ہوجاتی، عمران کا دورہ روس سے لے کر آج تک چین اور روس کے معاملے میں جو بھی پیش رفت ہوئی اسے عملی سانچے میں ڈھلنا چاہیے اور اس میں کوئی دو رائے نہیں اگر پالیسیوں کی سمت درست رہی اور کسی بیرونی دبائو کو قبول نہیں کیا گیا تو امید ہے کہ چین و روس پاکستان پر اعتماد کریں گے، جس کے بعد پاکستان کی ڈوبتی معیشت کو نہ صرف ایک نئی زندگی ملے گی بلکہ امریکا پر مکمل بھروسا کرنے کے بجائے پاکستان ایک آزادانہ خارجہ پالیسی پر عمل درآمد کرکے عوامی خواہشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی کیمپ کا مستقل حصہ بننے کے بجائے پوری دنیا سے معاملات اپنی ترجیحات کے مطابق طے کرے۔