لاڈلا کون کون؟

261

سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کی صاحبزادی اور مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ عمران خان کے لاڈلے پن کو تحفظ دینے والے اپنی روش تبدیل کر دیں تو اس سے نمٹنا تین دن سے زیادہ کا کام نہیں، عدالت عالیہ اسلام آباد میں اپنی اور اپنے شوہر کیپٹن (ر) صفدر کی بریت کی درخواستوں کی سماعت کے موقع پر جمعرات کو عدالت عالیہ میں پیشی کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کے دوران مریم نواز کا کہنا تھا پہلے آپ کسی خاتون جج کی بھرے جلسے میں عزت اچھالیں اور بعد میں آ کر معافی مانگ لیں، یہ درست نہیں ہے عمران کو چھوٹ نہیں ملنی چاہیے کیونکہ قبل ازیں مسلم لیگی رہنما نہال ہاشمی کو معافی مانگنے کے باوجود پانچ سال کے لیے نا اہل قرار دے دیا گیا تھا، قانون کی نظر میں سب برابر ہیں ججوں کو اس معاملے کو دیکھنا ہو گا اگر عمران خان کو چھوٹ دی گئی تو کل کسی کی عزت محفوظ نہیں رہے گی اور اس میں عدلیہ برابر کی شریک ہو گی۔ انہوں نے اپنی گفتگو میں کہا کہ جس شخص نے آرمی چیف کے تقرر کو متنازع بنایا اس شخص کا نام ہی فتنہ خان ہے، عمران خان نے اقتدار میں فوج کی تعریفیں کیں، جب اقتدار سے اتر گئے تو ایک ادارے کو کبھی نیوٹرل کہا پھر کہا جو نیوٹرل ہے وہ جانور ہے، یہ جو دبائو ڈال کر انتخابات کرانے کی بات کی جاتی ہے اس معاملے میں حکومت کو اس شخص کی بات نہیں سننی چاہیے، عمران خان نے پہلے بھی انقلاب کی کال دی تھی، جو ہوا میں ہی رہ گیا۔ عمران خان کے خود کو خطرناک قرار دینے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ میں تو پہلے ہی کہہ رہی ہوں یہ شخص ملک کے لیے خطرناک ہے، اپنی طویل گفتگو میں مریم نواز نے مزید کہا کہ مذہب بہت مقدس چیز ہے اسے گھٹیا ذاتی سیاست کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے، کمزور ملکی معیشت کے باوجود وفاقی کابینہ میں ستر وزیر بنائے جانے سے متعلق سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ پوچھ کر بتائوں گی…!!
یہ مریم نواز ہی کا معاملہ نہیں، خود کو بڑی کہلانے اور ملک کے سیاہ و سفید کی حق دار سمجھنے والی سبھی جماعتوں کا یہ مسئلہ ہے کہ ان کے رہنما جن کاموں کے لیے دوسروں کو گردن زدنی قرار دیتے ہیں، خود وہی کام کرتے ہوئے نہ تو کسی قسم کی شرم محسوس کرتے ہیں نہ ہی اس پر کوئی خفت محسوس کرتے ہیں بلکہ بڑی ڈھٹائی سے اس کے لیے جواز پیش کر کے اسے جائز اور درست قرار دے لیتے ہیں بقول شاعر:
تمہاری زلف میں پہنچی تو حسن کہلائی
وہ تیرگی جو مرے نامۂ سیاہ میں تھی
مریم نواز کی اسلام آباد کی عدالت عالیہ میں پیشی کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے ہونے والی سطور بالا میں درج گفتگو ہی کو لیجیے تو اس کا سب سے نمایاں پہلو عمران خان کو عدالتوں کا لاڈلا قرار دینا اور ان سے امتیازی سلوک کا گلہ کرتے ہوئے مطالبہ یہ ہے کہ قانون کی نظر میں سب کو برابر ہونا چاہیے۔ بظاہر یہ نہایت مناسب اور جائز مطالبہ ہے اور ہم عمران خان کے وکیل بھی نہیں کہ ان کی صفائی پیش کرنا ہماری ذمے داری ہو، تاہم اس ضمن میں حقائق کا جائزہ لیں تو یہ بات نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے کہ ملک کے اداروں، وہ دفاعی ہوں یا عدالتی یا کسی اور کا لاڈلا ہونے کے حوالے سے ’’شریف خاندان‘‘ سرفہرست ہے اور عمران خان سے کسی صورت پیچھے نہیں بلکہ چند قدم آگے ہی ہو گا۔ یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ مریم نواز کے والد میاں نواز شریف، ان کے شوہر نامدار کیپٹن (ر) صفدر اور خود مریم صاحبہ کو عدالت نے بدعنوانی کے جرم میں قید اور سیاست سے نا اہلی کی سزا سنائی تھی، پھر نواز شریف کی ایک ایسی بیماری سامنے آئی کہ ان کی زندگی چند لمحوں کی مہمان دکھائی دینے لگی جس پر انہیں جیل سے نکال کر ان کے چھوٹے بھائی کے پچاس روپے کے بیان حلفی پر خصوصی طیارے میں لاہور سے لندن پہنچا دیا گیا جہاں وہ آج تک کسی علاج معالجہ کے بغیر صحت مند اور تندرست و توانا انسان کے طور پر خوش و خرم اور خوش حال زندگی بسر کر رہے ہیں، وہ ملکی عدالتوں میں کئی مقدمات میں مطلوب تھے جن میں پیش نہ ہونے پر عدالتوں نے انہیں تو مفرور قرار دے دیا مگر ان کے چھوٹے بھائی کو کسی نے نہیں پوچھا کہ آپ نے ان کی واپسی کی ضمانت دی تھی، اب وہ نہیں آئے تو کیوں نہ آپ کو جیل میں ڈال دیا جائے یا کم از کم بطور ضامن ذمے داری پوری نہ کرنے پر آپ کی جائداد ہی ضبط کر لی جائے، خود میاں شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز پر اربوں روپے کی بدعنوانی کے مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں مگر اس سب کچھ کے باوجود میاں شہباز شریف وزارت عظمیٰ کے منصب پر متمکن ہیں اور حمزہ شہباز بھی اسی کیفیت میں وزیراعلیٰ رہ چکے ہیں سب سے دلچسپ معاملہ خود مریم نواز کا ہے جنہوں نے اس جواز پر عدالت سے ضمانت اور جیل سے رہائی حاصل کی تھی کہ ان کے والد موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہیں اور انہیں اپنے والد کی عیادت کرنا ہے اب میاں نواز شریف لندن میں اپنے بیٹوں کے پاس خوش اور صحت مند ہیں مگر مریم نواز ان کی عیادت کے لیے رہا ہونے کے بعد پاکستان میں جلسے جلوس کرنے اور صرف مخالفین ہی نہیں ججوں اور جرنیلوں تک پر کھلے بندوں الزام تراشی اور طعن زنی میں مصروف ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جس جواز پر محترمہ کو جیل سے رہائی ملی اگر اس کو عوام کے لیے عام کر دیا جائے جیسا کہ خود محترمہ نے کہا ہے کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں، تو کیا پاکستان کی جیلوں میں کوئی باقی رہ جائے گا؟ کون قیدی ہو گا جس کا باپ، ماں، بہن یا بھائی شدید بیمار نہ ہو، اور وہ اس کی عیادت کا فریضہ ادا نہ کرنا چاہتا ہو ملکی عدالتی تاریخ میں مریم نواز کے علاوہ شاید ہی کوئی مثال تلاش کی جا سکے کہ کسی قیدی کو لندن میں موجود والد کی عیادت کے لیے جیل سے رہا ہو کر پاکستان میں آزادانہ سیاست کرنے کی کھلی چھوٹ ملی ہو… پھر بھی گلہ یہ ہے کہ عمران خان کے ساتھ ’’لاڈلے‘‘ کا سلوک کیا جا رہا ہے۔ آپ خود ہی غور فرمائیں کہ پاکستان میں شریف خاندان سے زیادہ لاڈلا کوئی اور ہے؟ عدلیہ کا بھی اور دیگر اداروں کا بھی… جن کے ذمے داران کو میاں نواز شریف اور مریم نواز جلسوں میں نام لے لے کر کھلے بندوں ہدف تنقید بناتے اور دھمکیاں دیتے رہے مگر اس کے باوجود کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا جب کہ اس سے قبل اس وقت کے امیر جماعت اسلامی سید منور حسن مرحوم نے کسی کا نام لیے بغیر ایک حقیقت حال بیان کی تھی تو پاک فوج کے ترجمان اس پر پھٹ پڑے تھے، اسی طرح کی صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب چند روز قبل عمران خان نے میرٹ پر فوج کے سربراہ کے تقرر کی بات کی تو وہ بات جس کا سارے فسانے میں ذکر نہ تھا، آئی ایس پی آر کو بہت ناگوار گزری تھی تحریک انصاف کے شہباز گل نے اپنی غیر ذمے دارانہ گفتگو پر جو بھگتان بھگتا ہے، نواز لیگ کے کئی رہنما اس سے زیادہ سخت باتیں ماضی قریب میں کہتے رہے ہیں مگر کسی نے نوٹس تک نہ لیا۔ اسلام آباد کی عدالت عالیہ کے منصف اعلیٰ نے بجا طور پر استفسار کیا ہے کہ خاتون جج سے متعلق عمران خان کی تقریر نا مناسب تھی مگر کیا اس کی بنیاد پر دہشت گردی کا مقدمہ بنایا جا سکتا ہے؟ غور کریں کہ اگر تقاریر کو جواز بنا کر سیاستدانوں کو ’’دہشت گرد‘‘ قرار دیا جانے لگے تو نواز لیگ کے کتنے رہنما اس اعزاز سے محروم رہ جائیں گے…؟؟؟